ماحولیات

تیسرا مسلسل سال: کوکا کولا، پیپسی اور نیسلے آلودگی پھیلانے میں سب سے آگے

حارث قدیر

کوکا کولا، پیپسی کولا اور نیسلے مسلسل تیسرے سال دنیا میں سب سے زیادہ پلاسٹک سے آلودگی پیدا کرنے والی کمپنیاں قرار پائی ہیں۔ ان کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پلاسٹک ویسٹ کو کم کرنے میں زیرو پرا گریس دکھائی ہے۔

’بریک فری فار پلاسٹک‘ کے سالانہ آڈٹ میں کوکا کولا کو پلاسٹک سے آلودگی کا باعث بننے میں پہلا درجہ دیا گیا ہے۔ 55 ممالک کے سروے میں 51 ممالک کے ساحلوں، ندیوں، پارکوں اور دیگر گندگی والے مقامات پر کوکا کولا کی استعمال شدہ پلاسٹک بوتلیں پائی گئیں۔ گزشتہ سال 51 ممالک میں یہ سروے کیا گیا تھا جس میں 37 ممالک میں کوکا کولا کی سب سے زیادہ بوتلیں پائی گئی تھیں۔

سروے کے مطابق کوکا کولا کی فاضل بوتلیں پیپسی کو اور نیسلے کے مشترکہ ویسٹ سے بھی زیادہ تھیں۔ کوکا کولا کی برینڈنگ والے پلاسٹک ٹکڑوں کی تعداد 13834 پائی گئی جبکہ پیپسی کو کے 5115 اور نیسلے کے 8633 پلاسٹک ٹکرے ملے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ سالانہ آڈٹ دنیا بھر میں 15 ہزار رضاکاروں نے کروایا گیا۔ رواں سال اکٹھے کئے گئے 346494 پلاسٹک کے ٹکڑوں میں سے 63 فیصد ان تین عالمی کمپنیوں کی مصنوعات کے ٹکڑے پائے گئے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ٹیئر فنڈ کی مارچ میں جاری ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق کوکا کولا، پیپسی کو، نیسلے اور یونی لیور چھ ترقی پذیر ممالک میں چھ ملین ٹن پلاسٹک ویسٹ کی آلودگی پھیلانے کی ذمہ دار قرار پائی ہیں۔

بریک فری فرام پلاسٹک مہم کے کوآرڈی نیٹر کا کہنا ہے کہ ”دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والی کارپوریشنوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف وہ نقصان دہ پلاسٹک سے پیکیجنگ کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔“ انکا کہنا تھا کہ ”پلاسٹک کی گندگی میں مسلسل اضافہ روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پیدوار ہی بند کر دی جائے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو نافذ کیا جائے۔“

2017ء کے ایک مطالعے کے مطابق اب تک پیدا ہونیوالے تمام پلاسٹک کے کچرے میں سے 91 فیصد ری سائیکل نہیں ہوئی۔ رواں سال آلودگی کا باعث بننے والی پلاسٹک میں مختلف مصنوعات کی چھوٹی مقدار فروخت کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ساشے، سگریٹ کے پیکٹ اور پلاسٹک بوتلیں سب سے زیادہ پائی گئی ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔