سماجی مسائل

روزمرہ کے مسائل: تاریخی عمارات کی دیواروں پر لکھنے کی عادت

فاروق سلہریا

نیچے دی گئی تصاویر راقم نے کچھ عرصہ پہلے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں کھینچی تھیں۔ یہ تو فقط چند نمونے ہیں۔ مسجد کی دیوار جو مینارِ پاکستان کی جانب ہے، اس طرح کی تحریروں سے بھری پڑی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے ایک نوٹس موجود ہے کہ دیوار پر کچھ بھی تحریر مت کریں مگر نہ تو کوئی اس تنبیہ کو خاطر میں لاتا ہے نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کسی عملی اقدام کا کوئی ثبوت دکھائی دیتا ہے۔ ورنہ اتنی بری حالت نہ ہوتی۔

بعض صورتوں میں تو کچھ عاشق حضرات نے اپنے موبائل نمبر بھی اس نیت سے دیواروں پر درج کر رکھے ہیں کہ ان سے رابطہ کیا جا سکے۔ان کی محبت میں مبتلا ہو کر کسی نے ان کو کال کی ہو یا نہ کی ہو‘ انہیں ان نمبروں کی مدد سے ڈھونڈنا ہر گز مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن اتنی مصیبت کوئی نہیں اٹھائے گا۔

بادشاہی مسجد پر ہی کیاموقوف ہے‘ آپ ملک بھر میں کسی بھی تاریخی عمارت کی سیر کرنے جائیں اکثر اوقات آپ کو دیواروں پر بیہودہ تحریروں کی بھر مار ملے گی۔ عاشقانہ پیغامات، فرقہ وارانہ اور سیاسی نعرے، موبائل نمبر، اپنے اور دوستوں کے نام دیواروں پر کنداں ہوں گے۔

ایک تو ذہنی طور پر بیمار ریاست کو اپنے تاریخی ورثے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ نادر تاریخی عمارتیں شکست و ریخت کا شکار ہیں۔ اگر کہیں آثار قدیمہ کو محفوظ کرنے یا بحال کرنے کا کوئی کام دکھائی دے بھی تو پتہ چلتا ہے کہ اس کام کے لئے یا تو کسی یورپی ملک نے خیرات دی ہے یا اقوام متحدہ نے چندہ دیا ہے۔

گویا ایک طرف تو ریاست نے ہی جب کبھی اس حوالے سے دلچسپی نہیں لی تو وہ اپنے شہریوں کی تربیت کیونکر کرے گی۔

دوسرا ہمارے ہاں معاشی و سماجی بحران کے ساتھ ثقافتی گراوٹ اور پسماندگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس نظام کے مارے تہذیب سے بیگانہ انسان تاریخی عمارت پر چلے تو جاتے ہیں کہ یہ ایک سستی تفریح ہے‘ لیکن ثقافتی ورثے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔

ثقافتی ورثے اور مشترکہ اہمیت کی چیزوں کی جانب ایسا رویہ عمومی بیگانگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ لوگ اپنے ماضی سے ناآشنا ہیں اور مستقبل سے ناامید۔ جن لوگوں کو اپنے مستقبل میں امید اور دلچسپی نہیں وہ فن تعمیر، تہذیب اور تمدن کے کسی شاہکار میں کیا دلچسپی رکھیں گے؟

اس بیگانگی کی ممکن ہے اور بھی کئی وجوہات ہوں مگر اہم بات یہ ہے کہ اس مسئلے پر بات کی جائے۔ اس مسئلے پر لوگوں کی تربیت کی جائے اور ایک مہم شروع کی جائے کہ تہذیبی ورثے پر بدتہذیبی کے اس حملے کو روکا جانا چاہئے۔ سکولوں میں بچوں کو مواد رٹوانے اور مقابلہ بازی سکھانے کی بجائے یہ چیزیں بتائی جانی چاہئیں۔ 


ہمارا ”روزمرہ کے مسائل“ کا سلسلہ بالکل مختصر مضامین پر مشتمل ہو گا جس میں آپ بھی کسی سماجی مسئلے اور اس کی وجوہات کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اپنی تحریریں یا آرا ہمیں یہاں ارسال کریں۔


Farooq Sulehria
+ posts

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔