خبریں/تبصرے

روس کے ٹینس سٹار، عالمی نمبر ایک ڈینیل میدویدیف یوکرین پر حملے کے خلاف

لاہور (جدوجہد رپورٹ) یوکرین پر جاری روسی حملے کے خلاف روس کے محنت کشوں اور تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی طرف سے شدید مخالفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حملے کا اعلان کرنے کے پہلے دن ہی روسی شہروں میں بڑے پیمانے پر جنگ مخالف مظاہرے کئے گئے تھے۔

اب تک جنگ مخالف کارروائیوں کے نتیجے میں 5 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم احتجاج کا یہ سلسلہ پھیلتا ہی جا رہا ہے۔

’جیکوبنز‘ کے مطابق جنگ مخالف ایک پٹیشن پر 4 ہزار سے زائد سائنسدانوں اور صحافیوں نے دستخط کئے ہیں۔ روسی سائنسدان اولیگ انسیموف نے اقوام متحدہ کی ایک آن لائن آب و ہوا کانفرنس میں یوکرینی ساتھی سے معافی بھی مانگی۔

صحافی ایلینا چرنینکو نے بھی ایک جنگ مخالف پٹیشن شیئر کی جس پر 100 سے زائد صحافیوں نے دستخط کئے۔ روس کے سرکاری چینل ون پر ہفتہ وار شو کے میزبان اور سیاسی مزاح نگار ایوان ارجنٹ نے سوشل میڈیا پر جنگ کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے ان کا شو چینل کے شیڈول سے غائب ہو گیا۔

تاہم روسی آزاد میڈیا نے جنگ مخالف احتجاج میں بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ درجنوں آزاد میڈیا آؤٹ لیٹس کے اتحاد نے پیوٹن کے فیصلے پر دکھ، غصے اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ نوایا گیزیٹا کے چیف ایڈیٹر نے اعلان کیا کہ ”صرف جنگ مخالف تحریک اور روسی اس سیارے پر زندگی بچا سکتے ہیں۔“

رپورٹر میخائل زیگر نے ایک کھلا خط تقسیم کیا جس میں روس کے تمام شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ اس جنگ کو نہ کہیں۔ روس کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز یونین نے بھی اپنا ایک کھلا خط شائع کیا جس میں روسی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

صنعتی گروپوں نے بھی جنگ کی مخالفت کی ہے۔ ایک روسی ٹیک ورکر کے زیر اہتمام جنگ مخالف پٹیشن پر 10 ہزار سے زائد آئی ٹی کارکنوں نے دستخط کئے۔ ایک علیحدہ کھلے خط نے 2 ہزار سے زائد اداکاروں، ہدایت کاروں اور دیگر تخلیق کاروں کی حمایت حاصل کی۔ ماسکو کے ریاستی تھیٹر کی آرٹسٹک ڈائریکٹر ایلینا کوولسکایا نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔

جنگ ختم کرنے کے مطالبات پر ملک کے ماہرین اقتصادیات، وکلا، اساتذہ، ماہرین نفسیات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے روسیوں نے بھی دستخط کئے ہیں۔

ٹینس کے نئے عالمی نمبر ایک ڈینیل میدویدیف نے امن کا مطالبہ کیا، ساتھی ٹینس کھلاڑی اناستاسیاپا ولیوچینکووا اور آندرے روبلیو نے بھی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ فٹ بال اور آئس ہاکی کے بڑے کھلاڑیوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

تاہم پارلیمان کے 3 کمیونسٹ پارٹی کے ارکین نے جنگ کے خلاف بات کرنے کے باوجود یوکرین کے الگ ہونے والے علاقوں کو تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ بھی دیا۔