نقطہ نظر

ہاں ہم لال خان ہیں!

حاتم خان

’کامریڈ لال خان‘ اگر اس نام کی کوئی شناخت، کوئی پہچان موجود ہے تو وہ مارکسزم کے نظریات کی پرچار کرنے والوں، اِن نظریات سے واقفیت رکھنے والوں، اِن نظریات کے لیے جدوجہد کرنے والوں اور اِن نظریات کا پرچم سر بلند کرتے ہوئے طبقاتی جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے لال خان کے ساتھیوں کے پاس موجود ہے۔ کامریڈ لال خان کی پہچان ان کے نظریات ہیں جو کہ مارکسی اور ٹراٹسکائٹ نظریات ہیں، جن کی تکمیل کے لیے ہمارے استاد کامریڈ لال خان نے زندگی کے آخری لمحے تک جدوجہد کی ہے۔ اگر ہمیں محنت کشوں کو ان کے مسائل سے چھٹکارا دلانا ہے تو ہمیں تمام تر تعصبات خواہ وہ مذہبی، نسلی، قومی و لسانی جو بھی ہوں تو ان تعصبات کو رد کرتے ہوئے طبقاتی جدوجہد کے اس میدان میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ اگر مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی نے استحصالی نظام کی مخالفت کی ہے تو اس کے مقابلے میں انہوں نے ایک ایسے نظام کا تعارف کرایا جو کہ سرمایہ داری کی مخالفت میں ہے تو وہ نظام کمیونزم کا ہے اور سوشلسٹ نظام ہے جن کے اوپر انہوں نے بہت سی تحریر و تقریریں بھی کیں اور بحث و مباحثہ بھی ہوا اور ان نظریات کے اوپر تنقیدی بحث بھی ہوئی ہے جو کہ ایک طویل سفر طے کر کے آج اس اکیسویں صدی کے نئے اور جدید طریقہ کار میں بھی جاری ہے۔ ایک بوسیدہ اور بربر نظام کے اوپر محض بحث کرنا اور اس پر تنقید کرنا کافی نہیں ہوتا، اس کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں آپ کے پاس کیا اور کونسا متبادل ہے، جو کہ ایک اہم نقطہ ہے، اس متبادل نظام کے لیے آپ کیا کام سر انجام دے رہے ہیں اور اس نئے نظام کو لاگو کرنے کے لیے آپ کے پاس کون سے اوزار ہیں اور ان اوزار کو چلانے کا طریقہ کار اور لائحہ عمل کیا ہے، یہ بھی ایک اور اہم نقطہ ہے۔

کمیونزم کی تھیوری پیش کرنے والوں سے لے کر، محض ڈسکشن کلب میں چائے کی پیالی پر بیٹھ کر محض ڈسکس کرنے والوں سے لے کر اس تھیوری کو عمل میں صحیح اور درست سمت لے جانے والوں اور اس کے لیے جدوجہد کرنے والے انقلابی لوگوں کی ایک طویل تعداد ہمیں نظر آئے گی جن میں اکثریت نامعلوم ہیں اور بیشتر شخصیات نامور و نمایاں ہونگے۔ وہ شخصیات نامور و نمایاں اس لیے ہیں کہ ان کی جدوجہد اور سیاسی کردار دیگر سے نمایاں اور الگ ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی تمام تر رعنائیاں چھوڑ کر صرف اور صرف اس مقصد کے لیے سرگرداں ہیں کہ انہیں اپنے آپ تک کا معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا ہیں لیکن ان کو اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن نظریات کے لیے اور جس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہ ان کی زندگی کا عظیم ترین مقصد ہے جو کہ انسانیت کی نجات کا واحد راستہ ہے اور حق اور سچ کا راستہ ہے۔ اس راستے کی جدوجہد نہ صرف طویل بلکہ کٹھن بھی ہوتی ہے لیکن وہ جدوجہد نا قابل تسخیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچائی پر مبنی ہوتی ہے۔ جس طرح لینن نے کہا تھا کہ ”مارکسزم اس لیے ناقابل تسخیر ہے کیونکہ وہ سچ ہے“۔

اگر ہم ان نظریات کی بات کرتے ہیں، ان کا پرچار کرتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں تو ان کی کیا بنیادیں ہیں یہ دیکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے کہ آیا یہ محض ذاتی تسکین کے لیے ہے؟ اپنی خوشی کے لیے ہے؟ خود کو کسی کام میں مصروف رکھنے کے لیے ہے؟ یا کسی شخص کے سحر میں مبتلا ہوتے ہوئے اس راستے پر ہیں؟ یا پھر ایک بہتے دھارے کا حصہ بنتے ہوئے یہ کام کیا جا رہا ہے؟ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ مارکسزم کے نظریات ہمارے انقلابی استادوں کی امامت ہیں اور یہ ہم آئندہ آنے والی نسل تک پہنچائیں گے۔ مارکسزم کے نظریات کے لیے کام کرتے ہوئے ہمیں سماج سے بہت سے سوالات کا سامنا ہوتا ہے اور ان سوالات کا سامنا نہ صرف ہمیں بلکہ ہمارے اساتذہ جو کہ ہم سے پہلے ان نظریات کا پرچار کرتے رہے ہیں انہیں بھی انہی سوالات کا سامنا ہوا ہو گا لیکن آج ان سوالات و جوابات کی نوعیت کچھ اور ہے۔ ماضی میں ایک طویل بحث رہی ہے کہ کمیونزم کو لاگو کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جس نظام میں اس کے ذرائع پیداوار اور پیداواری آلات وہاں کے سماج کو ترقی دینے میں ناکام ہو جائیں تو اس کے بدلے میں ایک نیا سماج پیدا ہوتا ہے جس کے اپنے پیداواری ذرائع اور آلات ہوتے ہیں اور اس طرح ایک نیا سماج پیدا ہوتا ہے جس کی مثال دیتے ہوئے ہم قدیم اشتراکی دور سے لے کر سرمایہ داری تک کے سفر کو دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ہر دور میں ایک نیا نظام ابھرا ہے۔ لیکن ان نظاموں کو بدلنے کے لیے وقت اور حالات و واقعات کچھ اور ہوتے ہیں، ان کی تبدیلی کے دوران بڑے لیپ آتے ہیں جن کو مارکس انقلابات کا نام دیتا ہے کہ ایک انقلاب کے ذریعے ہی ایک بوسیدہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر اسے پاش پاش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس نظام کو پاش پاش کرنے، ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور توڑنے کے لیے کچھ اوزار کا ہونا ضروری ہوتا ہے جن کے ذریعے یہ کام سر انجام دیا جاسکتا ہو۔ مارکس اور اینگلز سے لے کر لینن اور ٹراٹسکی تک کے لوگوں کی جدوجہد انہی اوزار کی تیاری کرنے، انہیں تیز دھار کرنے، انہیں تیار کرنے اور ان اوزاروں کو چلانے، انہیں تیز دھار کرنے کی جو انرجی، جو قوت اور جو ایندھن ہوتا ہے وہ ایک مارکسی، سائنسی، انقلابی و نظریاتی پارٹی ہی ہوتی ہے جو یہ کام سر انجام دے سکتی ہے۔

اس تحریر میں جن جن شخصیات کے نام آ چکے ہیں، مارکس سے لے کر ٹراٹسکی اور کامریڈ لال خان تک انہوں نے اپنی زندگی میں اس اوزار (انقلابی پارٹی) کی تعمیر پر بہت زور دیا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے اپنی شخصی اور ذاتی تسکین کے لیے نہ تو یہ راستہ چنا اور نہ ہی وہ جدوجہد کی، بلکہ انہوں نے دنیا بھر کے محنت کشوں کو ان کے دکھ، درد اور اذیتوں سے چھٹکارا دلانے کے لیے سر توڑ جدوجہد کی اور تاریخ ان ناموں کو زندہ رکھتی ہے اور پھر یہی تاریخ ہی ہے جو بڑے بڑے کرداروں اور ناموں کو کھا جاتی ہے، ان کو مسخ کر دیتی ہے جن کا اس سماج میں کوئی کردار نہیں ہوتا اور یہاں تک کہ ان کو صفحہ ہستی تک مٹا دیتی ہے جو صرف اپنے تائیں محدود ہوتے ہیں۔

مارکس، اینگلز اور ٹراٹسکی کے عہد کے بعد کے معروض و حالات اور بعد کے عہد میں بھی کچھ کردار اور نام ایسے ہیں جنہوں نے مارکسزم کے نظریات کو اور اپنے اساتذہ کی جدوجہد کے علم کو اسی جوش و جذبے اور عزم کے ساتھ نہ صرف تھامے رکھا بلکہ اپنے سے آگے آنے والے لوگوں تک پہنچایا۔ مارکس، اینگلز، لینن اور ٹراٹسکی کے عہد بڑے انقلابی عہد تھے اور تاریخ کے لحاظ سے بڑے عہد تھے لیکن اگر آج کی بات کریں یا اس چھوٹے عہد کی بات کریں اور آج کے اس غیر انقلابی و رد انقلابی عہد کی بات کریں یا پھر اس چھوٹے عہد کی بات کریں جس میں تمام تر مصائب، دکھ، درد، تکالیف، دھوکے بازیوں اور اذیتوں کے باوجود بھی مارکسزم کے نظریات کی جدوجہد کا یہ سفر جاری رہا چاہے وقت و حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں تو ان حالات میں بھی ہمیں ایسے کردار نظر آتے ہیں جن کا نام میں کچھ اس طرح بتانا چاہوں گا، ”چھوٹے عہد کا بڑا آدمی“ یعنی کامریڈ لال خان۔ جس دن سے انہوں نے مارکسزم کا علم تھاما اس دن سے لے کر اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک وہ جدوجہد کرتا رہا اور اپنے انقلابی اساتذہ کے اس ادھورے کام کو پورا کرنے کی جستجو میں مگن رہا جو کہ ایک مارکسی و سائنسی اور انقلابی و نظریاتی بنیادوں پر ایک تنظیم کی بنیاد رکھتے ہوئے ”طبقاتی جدوجہد“ کے نام سے ایک پہچان رکھتی ہے اور یہ تنظیم بھی اسی نام سے منسوب ہے کہ جہاں پر بھی ”طبقاتی جدوجہد“ کا نام آئے گا وہاں کامریڈ لال خان کا نام ناگزیر ہے۔ وہ اپنے نظریات اور نظریاتی جدوجہد کی وجہ سے اس چھوٹے عہد میں اس انقلابی پارٹی کی بنیادیں رکھ کر گئے ہیں جو آئندہ آنے والے وقت میں محنت کشوں کے لیے وہ اوزار ثابت ہوں گی جو محنت کشوں کے لیے وہ راستہ تراشے گیں اور ایک سوشلسٹ سماج کی تشکیل میں کارگر ثابت ہوں گیں۔ لیکن اس تیسری دنیا خاص کر ہندوستان اور پاکستان جیسے پسماندہ علاقوں کی نفسیات بھی کچھ پسماندہ ہوتی ہے اور اس پسماندگی کا اظہار لوگوں کے رویوں اور ان کی باتوں سے ہوتا رہتا ہے۔ کامریڈ لال خان کو نہ صرف زندگی میں بلکہ ان کے مرنے کے بعد بھی ان کے نام اور ان کی تعمیر کی گئی تنظیم اور لال خان کے انقلابی ساتھیوں پر بہت سی باتیں نہ صرف کی جاتی تھیں بلکہ ابھی تک کی جاتی ہیں لیکن وہ انہیں کبھی ذاتی طور پر نہیں بلکہ انہیں اپنے سیاسی کام کے ذریعے جواب دیا کرتے تھے، وہ اکثر اپنی تقاریر میں یہ بات استعمال کرتے تھے کہ ”کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح“۔ کیونکہ لال خان نے جدوجہد کا یہ راستہ اپنی ذاتی تسکین اور اپنی شخصیت تعمیر کے لیے نہیں چنا تھا بلکہ وہ مارکسزم کے نظریات کا امین تھا، اس نے ان نظریات کے پرچار کا فریضہ ایک جنگجو انقلابی کی طرح نہ صرف سر انجام دیا بلکہ اس نظریے کو، اس انقلابی تنظیم کو اور اس جدوجہد کے علم کو آئندہ آنے والی نسلوں کے ہاتھوں تھما دیا اور ان مارکسی و سائنسی اور جدلیاتی بنیادوں پر تعمیر شدہ ایک آرگنائزیشن جو کہ انہی بنیادوں پر آج بھی قائم ہے اور اس کی قیادت کی تعمیر بھی انہی نظریات کی بنیاد پر کی کہ ان کے جانے کے بعد وہ بنیادیں موجود ہوں جو ان کے کیے ہوئے کام کو ان کے بعد جاری رکھ سکیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی یہ نظریات منتقل کرتے جائیں جن کے وہ امین ہیں۔ کامریڈ لال خان کو یہ یقین تھا کہ انہوں نے وہ بنیادیں تعمیر کر لی ہیں جو جدوجہد کے اس بیڑے کو اٹھاتے ہوئے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے، اس لیے وہ متعدد بار اپنے دوست اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کرتے تھے کہ:

میں کٹ گرو یا سلامت رہوں یہ یقین ہے مجھے
کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا
عمر بھر کی جدوجہد کی قسم
میری جدوجہد کا یہ سفر رائیگاں نہ جائے گا

تیسری دنیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ کسی ایک شخصیت کے پیچھے رہ کر کام کرتے ہیں نہ کہ ایک نظریہ بن کر اور جو شخصیت بن کر کام کرتے ہیں تو اس شخصیت کے خاتمے کے بعد ان کا وہ سارا کام بھی ختم ہو جاتا ہے لیکن یاد رہے کہ جو نظریہ بن کر کام کرتے ہیں تو ان کے بعد ان کا وہ کام جاری و ساری رہتا ہے کیونکہ نظریہ کبھی ختم نہیں ہوتا اور جو نظریہ بن کر کام کرتے ہیں ان کے جانے کے بعد اسی نظریے کے امین لوگ اس کام کو جاری و ساری رکھتے ہیں۔ اسی طرح کامریڈ لال خان نے ایک نظریہ بن کر کام کیا اس لیے ان کے جانے کے بعد ان کا کیا ہوا کام اور ان کی عمر بھر کی جدوجہد رائیگاں نہیں گئی اور تیسری دنیا کے المیے کے مطابق ان کے دشمنوں کا خیال تھا کہ لال خان کے جانے کے بعد ان کا یہ کام ختم ہو جائے گا کیونکہ ان کی سوچ کی اس پسماندگی کے مطابق یہ سارا کام شاید کامریڈ لال خان خود ایک اکیلا ہی کر رہا تھا اور اس کے ہاتھوں میں کوئی جادو کی چھڑی ہو گی جس کو گھمانے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں جہاں جہاں ان کا کام موجود تھا وہ خود با خود ہو گا جو کہ ایک مزاحقہ خیز بات ہو گی یا اس کے فون گھمانے کے بعد اس کا سارا کام یوں ہی ہو جاتا ہو گا تو ان پسماندہ ذہن کے لوگوں کو ہم کچھ اس طرح جواب دینا چاہیں گے کہ ایسا بالکل بھی نہیں، کیونکہ مادی و سائنسی اور جدلیاتی بنیادوں پر ایسا کبھی ممکن نہیں انہوں نے انقلابی پارٹی کی تعمیر سائنسی اور جدلیاتی بنیادوں پر کی تھی جس کی وجہ سے آج ان کی غیر موجودگی میں بھی لال خان کے انقلابی ساتھی مارکسزم کے نظریات کی جدوجہد کا کام بڑھ چڑھ کر کر رہے ہیں اور لال خان کے کام کو نہ تو کبھی رکنے دیا اور نہ ہی ختم ہونے دیا بلکہ اس کام میں تیزی اور بڑھاوا کیا ہے لیکن یہ چیز پسماندہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو نظر نہیں آئے گی۔ ہم مارکسسٹ ہیں اور مارکسزم شخصیت پرستی کی جہاں مخالفت کرتا ہے وہی وہ تاریخ میں شخصیت کے کردار کو کبھی رد نہیں کرتا۔ شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا لوگوں کا خیال تھا کہ لال خان کے جانے کے بعد یہ تنظیم اور پارٹی کا یہ کام ختم ہو جائے گا اور اس طرح کا اظہار وہ اپنے معصومانہ سوالات سے کرتے بھی تھے کہ اب کیا ہو گا۔ کامریڈ لال خان کے بعد؟ اب آپ کو کون لیڈ کرے گا؟ اب کیا ہو گا؟ لال خان کے انقلابی ساتھی انہیں جواب دیتے کہ کچھ نہیں ہو گا ہمیں جہاں ان کے جسمانی طور پر ہم سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے وہی ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ ان کا نظریہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اسی جرات اور ہمت کے ساتھ ہم ان کے اس ادھورے کام کو آگے لے جائیں گے اور لال خان کے انقلابی ساتھیوں نے لال خان کی موت پر مایوس ہونے یا ماتم کرنے کی بجائے انہوں نے یہ عہد لیا تھا کہ اگر چہ ہم میں لال خان نہیں رہے اور وہ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے لیکن ان کے نظریات آج بھی موجود ہیں۔ اس کا مطلب لال خان ہم میں موجود ہے جب تک انقلاب کا نعرہ لگتا رہے گا وہ موجود رہے گا اور آج اگر ایک لال خان نہیں رہا تو کیا ہوا وہ ایسے کئی لال خان تیار کر کے گیا ہے جن کے اندر وہ احساس، وہ خوبی، وہ جذبہ، وہ شکتی، وہ جرات اور بہادری موجود ہے اور اس سب سے بڑھ کر ان کے پاس مارکسزم کا وہ سچا نظریہ موجود ہے کہ وہ لال خان کی طرح زندگی کی آخری سانس اور اپنے لہو کے آخری قطرے تک مارکسزم کے پرچم کو سر بلند و سرخرو رکھیں گے تو ان کے اس عہد کے بعد لال خان کے انقلابی ساتھیوں نے اپنے کام سے یہ ثابت کر دکھایا کہ ’دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم‘۔ لیکن یہ دیکھ کر ان کے دشمن اور کئی لوگوں سے برداشت نہ ہوا انہوں نے پھر کامریڈ لال خان کے انقلابی ساتھیوں کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ جناب اب ہر کوئی لال خان بننا چاہتا ہے اور ہر کوئی لال خان بنا ہوا ہے تو ہم ان کو یہ کہنا چاہیں گے کہ ہاں ہم سب لال خان ہیں کیونکہ ہم نے یہ عہد لیا تھا کہ جس نظریہ کی جدوجہد کو کامریڈ لال خان نے شروع کیا تھا اور جس پارٹی کی بنیادیں اس نے رکھ دی تھیں جو کہ ایک سوشلسٹ سماج کی تشکیل کریں گی ان کے اس کام کو ہم پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیں گے اب ہم رکنے والے نہیں اور نہ ہی تھکنے والے ہیں ہمارے مخالفین ہمیں جو بھی کہیں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں بس ہم اپنے نظریاتی و سیاسی کام کے ذریعے ان کو یہ جواب دیں گے کہ: ”ہاں ہم لال خان ہیں“۔

حاتم خان کراچی سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کے رہنما ہیں۔