تاریخ

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

التمش تصدق

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ڈپٹی چیف آرگنائزر کامریڈ عثمان کی موت کی خبر سن کر کچھ دیر کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے سانس رک گئی ہے، وقت تھم گیا ہے، قیامت آ گئی ہے۔ کوئی بھی جوان انسان جب وقت سے پہلے مر جائے تو اس کے لواحقین کے لیے وہ وقت قیامت سے کم نہیں ہوتا، کامریڈ عثمان کی موت نے صرف اس کے گھر والوں اور رشتے داروں کو غم زدہ نہیں کیا بلکہ اس کی اچانک موت کی خبر اس کے ہزاروں سیاسی ساتھیوں پر آسمانی بجلی کی طرح گری۔ کامریڈ عثمان ایک مستقل مزاج انقلابی تھا جو طلبہ حقوق کی بحالی، قومی آزادی اور محنت کشوں کے عالمی انقلاب کے ذریعے غیر طبقاتی سماج کی جدوجہد میں جب تک زندہ رہا سرگرم رہا، جو کبھی وقت اور حالات کی مشکلات کے سامنے مایوس نہیں ہوا۔ بظائر کامریڈ عثمان کی موت ایک حادثہ معلوم ہوتی ہے لیکن بقول شاعر وقت کرتا ہے برسوں پرورش حادثہ اک دم نہیں ہوتا۔ اس خطے کی سڑکوں کی جو حالت ہے یہاں سفر کرنے والا ہر فرد موت کے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے جہاں ہر وقت حادثے کا امکان موجود ہوتا ہے، جہاں کبھی بھی کسی بھی انسان کو موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ حادثات کی صورت میں ہونے والی اموات کو عام طور پر قدرتی اموات تصور کیا جاتا ہے، جس پر صبر و شکر کی تلقین کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ کوئی فطری موت نہیں ہے بلکہ قتل ہے اس نظام کے ہاتھوں یہاں کے نوجوانوں کا۔ ان کی موت کو قدرت کا لکھا اس لیے قرار دیاجاتا ہے تاکہ حکمرانوں پر کوئی حرف نہ آ سکے جو اس قتل عام میں براہ راست شریک ہیں۔

یوں تو زندگی اور موت ایک ہی عمل کے دو رخ ہیں جو زندہ ہے اسے اپنی طبعی عمر پوری کر کے مر جانا ہے۔ زندگی کا یہ سفر کروڑوں سال سے جاری ہے۔ زندگی کے اس سفر میں اب تک ان گنت مسافر آئے اور چلے گئے ہیں لیکن زندگی کی یہ گاڑی چل رہی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی کی تاریخ بھی ہے جہاں بے شمار انسان ہر روز جنم لیتے ہیں اور مر جاتے ہیں لیکن اس سے نسل انسانی کا سفر ختم نہیں ہوتا وہ جاری رہتا ہے۔ آج ہم منافع اور خود غرضی پر مبنی جس وحشی نظام میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس سے نہ صرف انسانی زندگی کو خطرات لاحق ہیں بلکہ ہر قسم کی زندگی کے ناپید ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جہاں ایک طرف بھوک، بیروزگاری، بیماری اور انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کی وجہ سے حادثات کی صورت میں موت بانٹ رہا ہے دوسری جانب اس نے کرۂ ارض پر ماحولیاتی بربادی کے ذریعے زندگی کی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کامریڈ عثمان کی زندگی کا مقصد نسل انسانی اور ہر قسم کی زندگی کی بقا تھا۔

کامریڈ عثمان نے اپنی نجی زندگی میں بے شمار مشکالات اور مصائب کے باوجود آخری سانس تک اس نظام کی ذلتوں، غلامی اور استحصال کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ اس کی جدوجہد اس نظام کے جبر کے خلاف محنت کشوں اور مظلوم طبقات کی آزادی کے لیے تھی۔ وہ گزشتہ لمبے عرصے سے طالب علموں اور نوجوانوں کو سائنسی سوشلزم کے نظریات سے روشناس کرتے ہوئے ان کو آزادی اور انقلاب کی لڑائی کے لیے منظم کر رہا تھا۔ کامریڈ عثمان آج جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہا لیکن اپنے انقلابی آدرشوں کی صورت میں نفرتوں اور تعصبات سے آزاد ہو کر سوچنے والے نوجوانوں کے دماغوں میں ہمیشہ موجود رہے گا۔ جب تک اس دنیا میں غربت، جہالت، بیروزگاری، غلامی اور استحصال رہے گا کامریڈ عثمان کی سوچ اور نظریات زندہ رہیں گے۔ جیسے لال خان نے کہا تھا ”انسانی زندگی مختصر ہے پر نسل انسانی زمانوں میں زندہ رہتی ہے ہم جس وقت میں زندہ ہیں یہ ہمارا وقت نہیں ہے پر ہمیں یقین ہے وہ وقت، وہ زمانہ اور وہ عہد ضرور آئے گا جو ہر طرح کے ظلم، جبر، استحصال سے پاک ہو گا ہم نہیں ہوں گے پر وہ وقت وہ زمانہ اور وہ عہد ہمارا ہو گا۔“

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔