پاکستان

پاکستان میں مہنگائی کے سونامی اور عالمی مالیاتی اداروں کا کردار

ناصر اقبال

1947ء سے 1988ء تک پاکستان میں مہنگائی کا تصور سالانہ بجٹ سے جڑا ہوتا تھا۔ جون کا مہینہ آتے ہی عوام مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جاتے۔ بجٹ سے پہلے چند اشیائے صرف کی قیمتیں میں اضافے کی جھوٹی سچی خبروں اور پیشین گوئیوں کے نتیجے میں ان اشیا کی زخیرہ اندوزی یا قیمتوں میں ایڈوانس ہی اضافہ کر لیا جاتا۔ بجٹ پیش ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوتے ہی زندگی اگلے ایک سال کے لیے معمول پر آ جاتی۔ مہنگائی معمولی تناسب سے بڑھتی اور عوام کسی بڑے ذہنی صدمے سے دو چار نہ ہوتے۔

منی بجٹ کی اصطلاح خاص طور پر 1988ء کے بعد سے آنے والی حکومتوں نے متعارف کروائی۔ ان تمام حکومتوں کے دوران دو سے لیکر چار چار تک منی بجٹ آئے۔ منی بجٹ کی ضرورت بذات خود حکومتوں اور حکمران طبقات کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ایک سال کے لیے بھی یہ حکومتیں آمدنی اور اخراجات کا درست تخمینہ (بجٹ) بھی نہیں لگا سکتیں۔ منی بجٹ کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ حکومت ایک دفعہ پھر’پیالا‘اٹھا کر عوام کی طرف رجوع کرتی ہے۔

غیر ملکی ادائیگیوں جس میں عام طور پر قرضوں کی واپسی، سود کی ادائیگی اور درآمدات کے بلوں کی ادئیگی وغیرہ شامل ہیں۔ اس ضمن میں حکومتوں کو غیر ملکی کرنسی درکار ہوتی ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر تجارت یا دوسرے کاروبار ڈالر میں ہی ہوتے ہیں اس لیے ادائیگی کے لیے ڈالروں کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ ٹھیک ہی ہے وگرنہ ہماری حکومتیں نئے نوٹ چھاپ کر یا غریب عوام پر چھری چلا کر غیر ملکی ادائیگیوں کو ادا کر دیں۔ بیشمار دفعہ راقم اپنے کانوں سے حکومتوں کی بے بسی کا رونا سن چکا کہ ”ہم ڈالر تو نہیں چھاپ سکتے“ یا کاش ہم ڈالر چھاپ سکتے وغیرہ۔

ڈالروں کے حصول کے لیے حکومتیں چار و ناچار دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کا رخ کرتی ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کی معیشت میں مداخلت کے سبب مہنگائی پرچون کے حساب سے نہیں بلکہ تھوک کے حساب سے بڑھتی ہے۔ ہماری حکومتیں چونکہ وقت بیوقت کشکول اٹھا کر ان اداروں کے دروازوں پر پہنچ جاتی ہیں اس لیے عوام کو بھی وقت بیوقت شدید مہنگائی کی لہروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں اور تھانے کے ماحول میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوا کرتا۔ جیسے ہی خاص ظور پر کسی تیسری دنیا کے ملک کے حکومتی نمائندے قرض کی استدعا کرتے ہیں، پنجابی اصطلاح کے مطابق، ”جوت پولے“ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ مختلف اوقات میں اس طرح کی رپوٹس بھی آئیں کہ مالیاتی اداروں کے اہل کاروں نے حکومتی نمائندوں کو ننگی اور گندی گالیاں تک دیں۔ تھوڑا عرصہ قبل تک تھا نے کے ”ڈرائنگ روم“ کی طرح ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے اپنے ہیڈکوارٹر میں ”گرین روم“ قائم کر رکھا تھا جہاں حکومتی نمائندوں کی بریفنگ اور ڈ ی بر یفنگ کے نام پر پیار محبت کیا جاتا رہا۔

ڈالر میں قرضہ دینے کے عوض مالیاتی ادارے عام طور پر چند ایک شرائط ہی رکھتے ہیں جن میں ملکی کرنسی کی قدر میں کمی، نجکاری، رعایتی قیمتوں یا سماجی سہولتوں میں کمی یا خاتمہ (Subsidies)، افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے ٹیکسوں کا نفاذ، اپنے پسندیدہ ممالک سے تجارت بڑھانے کے لیے دباؤ، اپنے پسندیدہ افراد کو ملکی اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے لیے دباؤ، پسندیدہ کارپوریشنوں سے تجارت بڑھانے کے لیے دباؤ وغیرہ۔ سیاسی و سماجی تبدیلی کے طالب علم کے طور پر ہمارا دعویٰ ہے کہ اسطرح کے تمام اقدامات کے نتیجے میں ملک و عوام کا نہ صرف مختصر مدت میں بلکہ طویل المدتی میں بھی نقصان ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر روپے کی قدر میں کمی سے فوری طور پر غیر ملکی قرضوں کے حجم کے ساتھ ساتھ اسی شرح سے سود بھی بڑھ جائے گا۔

حالیہ پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافہ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطالبے پر کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ ماضی میں ہم پٹرول مصنوعات پر سبسڈی دیتے رہے ہیں اور اب عالمی مالیاتی ادارے فنڈ کے پرزور اصرار پر اسے واپس لے رہے ہیں اس لیے پٹرول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ یہ حکومتی دعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ پرویز مشرف دور تک ڈیزل پر سبسڈی تھی جسے بھی واپس لے لیا گیا مگر پٹرول پر تو کبھی سبسڈی دی ہی نہیں گئی۔ اب خدا جانے یہ کونسی سبسڈی واپس لے رہے ہیں۔

سیاست کے طالب علم کے طور پر ہمیں کبھی کبھار مالیاتی اداروں کے اہل کاروں سے مکالمہ کا موقع مل جاتا تو ہمارا ان سے ہمیشہ یہی سوال رہا کہ آپ لوگ تیسری دنیا کے کرپٹ حکمرانوں سے تعاون کیوں کرتے ہیں۔ ہمارے سوال کا جواب بھی ہمیشہ یہی آیا کہ کرپٹ اور نااہل حکمران ہمارا مسئلہ نہیں، ہمارے پاس جو بھی آئے گا ہم نے اس کو ڈیل کرنا ہے۔ یہ ملکی شہریوں کا مسئلہ ہے کہ وہ ان کرپٹ اور نااہل حکمرانوں کو ووٹ نہ دیں۔ ایک حد تک، ذاتی طور پر راقم، مالیاتی اداروں کی اس وضاحت کو مناسب سمجھتا ہے (اس پرمزید بحث تھوڑا بعد میں)۔

اگر معاملہ محض سبسڈی کو ختم کرنے کا ہے تو اس وقت ’PIA‘ کا مجموعی خسارہ 450 بلین روپے ہے جسے عوامی ٹیکسوں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ خسارے کی ادائیگی ایک طرح سے سبسڈی ہی تصور کی جاتی ہے۔ ہمارے حکمران اس طرح کی امیروں کو فائدہ مند سبسڈیوں کو کبھی ختم نہیں کرینگے بلکہ عوام کو دی جانے والی تعلیم، صحت، ریلوے، کھادوں وغیرہ کی مد میں دی جانے والی سبسڈیوں کو ختم کریں گے۔

تاریخی طور پر کسی بھی حکومت کے بنیادی فرائض میں اشیائے صرف کی کوالٹی و قیمتوں پر کنٹرول اور افراط زر پر کنٹرول شامل ہے۔ مگر ہماری حکومتیں دنیا کے ہر کام پر طبع آزمائی تو کریں گی مگر یہ دو کام نہیں کریں گی۔ تاجر طبقے کو کھلی چھوٹ اور بیدریغ نئے نوٹوں کی چھپائی ہر حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔

ایک طرح سے ہمیں عالمی مالیاتی نظام اور اداروں کا مشکور ہونا چاہیے کہ اگر وہ ہمارے ملکی مالیاتی اور مالی معاملات کی اتنی بھی نگرانی نہ کریں تو ہمارے حکمران ملک کو فوری طور پر یورپ میں 1929ء میں برپا ہونے والے ”عظیم معاشی بحران“ کی طرح کے بحران میں مبتلا کر دیں گے۔ یہاں وضاحت ضروری ہے کہ ہم بالکل یہ نہیں کہہ رہے کہ عالمی مالیاتی ادارے بہت اچھا کام کر رہے ہیں (اس پر مزید بات آگے چل کر)۔ ہماری استدعا صرف اتنی ہے کہ ہر سیاسی کارکن کو مختلف قسم کی گردنوں یا پیٹوں کے سائز کا اندازہ ہونا چاہیے۔

پاکستان کے سیاسی پیش منظر میں یہ بات بھی عیاں رہی ہے کہ یہاں مہنگائی کو برداشت کرنے کا رواج بالکل نہیں بلکہ مہنگائی کے بوجھ کو دوسروں کے کندھوں پر ٹرانسفر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ یہ رجحان مہنگائی سے زیادہ خطرناک ہے۔ مثال کے طور پر ایک کارخانہ دار مہنگائی کو برابر کرنے کے لیے ایک طرف اپنے کچھ مزدورں کو نکال باہر کرے گا اور ساتھ ہی اپنی پیداروار کی قیمت میں بھی اضافہ کر لے گا۔ اسطرح کارخانہ دار پر مہنگائی کا بوجھ مزدور اور صارف کے کندھوں پر منتقل ہو جائے گا۔ گزشتہ 20 سالوں کے دوران اس سے بھی زیادہ ایک اور خطرناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ پیداکار پر مہنگائی کا بوجھ اگر 10 فیصد ہوا ہے تو اصولاً اپنی پیداوار کی قیمت میں 10 فیصد اضافے کا ہی مجاز ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ وہ قیمت میں اضافہ 20 فیصد تک کا کر لیتا ہے اور مہنگائی کا ڈرامہ کر کے کوالٹی میں سے بھی چار پانچ فیصد بچا لیتا ہے۔ اسطرح بوجہ مہنگائی اس کے منافع کی شرح میں 15 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں امیر تیزی سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کچھ طبقات کے لیے انڈسٹری کا درجہ رکھتی ہے۔

پاکستان کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات کے پیش نظر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

حکومت یا ریاست کو فوری طور پر مالی ایمرجنسی نافذ کر کے ہر قسم کی پر تعیش درآمدات پر پابندی لگائے، کوالٹی اور قیمتوں کے کنٹرول کو یقینی بنائے، غریب عوام کے معاشی حقوق اور عزت نفس کا تحفظ کرے۔ امیروں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرے اور عوام کو چھوٹ دے۔

سول سوسائٹی حکومتی اقدامات اور مالیاتی اداروں کی چالوں پر نظر رکھے۔ ہر قسم کے خفیہ مالیاتی معاہدوں کو عام کرے اور اس ضمن میں حکومتوں کو پارلیمان، عدلیہ اور عوام کو جوابدہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

آخر میں ہم اپنے تمام سیاسی کارکن بھائیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کو بھلے ہدف تنقید بنائیں مگر اپنی منجی کے نیچے بھی ڈانگ ضرور پھیریں۔

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔