سماجی مسائل

میرے دل میرے مسافر

ناصر اقبال

تقریباً ہم سب ہی روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا بہت سفر کرتے ہی رہتے ہیں جس کا دائرہ کار عام طور پر اندرون شہر ہی ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ہمیں کسی سلسلے میں کسی دوسرے شہر یا دوسرے ملک کا سفر بھی درپیش رہتا ہے چنانچہ لمبے سفر کی مناسبت سے جیسے ہی ہمارے کندھے پر ایک عدد بیگ یا ہاتھ میں سوٹ کیس آ جانے سے اچھا بھلا نارمل انسان مقداری تبدیلی کے ساتھ خاصیتی طور پر بھی ’آدمی سے سواری یا مسافر‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے گویا دنیا ہی بدل جاتی ہے۔

پہلے ہی مرحلے میں رکشے اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے نہ صرف تیور بدل جاتے ہیں بلکہ ساتھ ہی کرائے بھی دو سے تین گنا تک بڑھ جاتے ہیں۔ ہر قدم پر لوٹ مار اور تضحیک کا یہ عمل گھر واپسی تک جاری رہتا ہے۔ پہلے پہل ہم قیاس کرتے تھے کہ یہ رسم قبیح شاید پاکستان کا ہی خاصہ ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ معلوم پڑتا گیا کہ یہ روایت بد اپنی پوری شدو مد کے ساتھ پوری دنیا میں نت نئے طریقوں سے بھی رائج ہے۔

مسافرتی صعوبتیں ادب اور خاص طور پر شاعری میں ہمیشہ ایک بڑا تنقیدی موضوع رہی ہیں لیکن نثر میں ابن بطوطہ، مارکوپولو اور ابن انشا سے مستنصر حسین تارڑ تک بیشمار سفر نامے تحریر کیے گئے مگر ان سفر ناموں میں سفر کے حسیں پہلوؤں کو ہی اجاگر کیا گیا ہے۔ مصنفین حضرات کہاں کہاں اور کیسے لٹے یا خوار ہوئے اس کایا تو سرے سے ذکر ہی نہیں ملتا اور اگر ہے تو محض سرسری۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی وسعت اور سنگینی کے باوجود اس موضوع پر نسبتاً بہت کم لکھا گیا ہے۔

اسطرح کی صورتحال میں سیاسی و سماجی تبدیلی کے طالب علم کے طور پر ہمیشہ ہمارے ذہن میں چند سوالات ضرور ابھرتے ہیں کہ مسافروں کو لوٹنے والی روایت یا رسم کب، کیوں اور کیسے شروع ہوئی اور اس سے چھٹکارا کیونکر ممکن ہے وغیرہ۔ جوابات حاصل کرنے کے لیے سوچوں کے گھوڑے دوڑانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی رہنمائی اور مقدور بھر معاشرتی ارتقا و انسانی تاریخ کا مطالعہ بھی کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔

انسانی تاریخ و ارتقا کے ماہرین اس پر متفق ہیں کہ انسان جنگل اور غاروں میں ایک طویل دور گزار کر میدانوں میں آباد ہوا۔ انسانی آبادیاں ایک دوسرے سے دور دور گاؤں کی شکل میں واقع تھیں اور انسانوں کے اولین پیشوں میں گلہ بانی اور زراعت جبکہ دستکاریاں ثانوی درجہ رکھتی تھیں۔ تمام انسانی ضروریات گاؤں میں ہی پوری ہو جاتیں۔ لوگوں کی رشتہ داریاں بھی گاؤں تک محدود رہتیں۔ ہر گاؤں کا دیوی یا دیوتا بھی اپنا اپنا ہوتا لہٰذا انسان کی تمام مذہبی ضروریات بھی گاؤں میں ہی پوری ہو جاتیں۔ خلاصہ کے طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور کے انسان کو سفر کی چنداں ضرورت نہ تھی۔

تجارت کی شروعات سے ہی سفر کابھی آغاز ہوتا ہے۔ تاریخ کے کس سمے اور کہاں سے تجارت کا آغاز ہوا اس بارے ماہرین کی مختلف آرا ہیں۔ 3 ہزار سال سے5 ہزار سال قبل مسیح کا درمیانی عرصہ قریب قیاس مانا جا سکتا ہے۔

اپنے خاص جغرافیائی وسائل اور دیگر عوامل کے سبب آبادیوں یا گاؤں میں کوئی نہ کوئی جنس ضرورت سے زیادہ پیدا ہو جاتی۔ گاؤں کے کچھ طالع آزما قسم کے نوجوان اس فاضل پیداوار کو کسی دوسری آبادی میں فروخت کے لیے لے جاتے اور اس کے بدلے میں وہاں کی فاضل پیداوار لے کر واپس اپنے گاؤں آ جاتے۔

تجارت کے فروغ سے انسانی رشتے ناطوں میں بھی پھیلاؤ ہوا اور رشتے داریاں دور دور تک قائم ہو گئیں۔ بعد ازاں مذاہب کے پھیلاؤ سے زائرین بھی معرض وجود میں آ گئے۔ تقریباً 1500 قبل مسیح میں سیاحت بھی دنیا میں باقاعدہ رواج پا چکی تھی۔ سلطنت روم یا اٹلی کے امرا کو سیاحت کا بانی سمجھا جاتا ہے۔

تجارت کے آغاز سے ہی ڈاکوؤں اور راہ زنوں کے گروہ بھی ترتیب پا چکے تھے جو موقع ملتے ہی تاجروں کو معہ سامان تجارت لوٹ لیتے۔ جان و مال کے تحفظ کے لیے تاجروں نے قافلہ بنا کر سفر طے کرنے کا طریقہ کار اختیار کیا۔ قافلوں میں عام طور پر پانچ قسم کے لوگ ہی سفر کرتے یعنی تاجر، زائرین، سیاح، عام مسافر جو اپنے عزیز و اقارب کو ملنے یا خوشی و غمی میں شرکت کے لیے عازم سفر ہوتے اور پانچویں قسم میں ساربان یا ٹرانسپورٹر جو کہ جنگجو بھی ہوتے اور بوقت ضرورت مسافروں کی حفاظت کرتے اور بسا اوقات راہ زنوں سے بھی معاملہ کر لیتے۔

زائرین اور عام مسافروں کے پاس زاد راہ کے علاوہ تحائف اور امانتیں بھی ہوتیں اس لیے تاجروں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی بہ آسانی لوٹ لیا جاتا۔ دوران واردات قتل و غارت معمول کی بات تھی۔ ہزاروں سال اکھٹے سفر کرنے بعد ذرائع نقل و حمل کی جدت کے سبب تاجروں اور عام مسافروں کے راستے جدا ہو گئے مگر لوٹ مار کی روایت جاری و ساری ہے۔ مسافروں کے دیکھا دیکھی ڈاکوؤں نے بھی اپنے آپ الگ الگ اقسام میں محدود کر کے اپنے طریقہ واردات کو جدید کر لیا ہے۔

گزرے وقت کے نقوش اس قدر گہرے ہیں کہ آج ہمیں پائلٹ اور بس ڈرائیور، ائر ہوسٹس اور بس کنڈیکٹر کے درمیان کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا ایک جیسے رویے اور ایک جیسی نفسیات۔ ماضی کی نسبت دور جدید میں مسافروں کی اقسام اور تعداد میں خاصے اضافے کے پیش نظر آسانی کے لیے اب ایک ہی اصطلاح ’Tourism‘ یا سیاحت مستعمل ہے۔

یہاں اہم اور مشکل سوال یہ ہے کہ سیاحوں اور مسافروں سے ہونے والی زیادتیوں کاکوئی ازالہ یا حل ممکن ہے۔ موجودہ صورتحال میں اس کا جواب خاصہ مایوس کن ہے کیونکہ استحصال کے خلاف کام کرنے والی تمام قوتیں یا تو اس لوٹ مار میں حصہ دار ہیں یا بے بس ہیں۔

اس ضمن میں سول سوسائٹی ایک مدافعتی قوت ہو سکتی ہے۔ سول سوسائٹی سے ہماری مراد کوئی ’NGOs‘ نہیں ہیں بلکہ باشعور لوگ ہیں۔ شعور کی بلند ترین سطح اینگلو سیکسن فلسفیوں کی مانی جاتی ہے مگر وہ تمام مل کر بھی ہٹلر جیسے معمولی غنڈے کو نہ روک سکے تھے۔ ویسے بھی پڑھے لکھے لوگ مزاحمت کی بجائے لٹ جانے کو ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

آج کے سرمایہ دار اور تاجر میں فرق کرنا دشوار کام ہے۔ تاریخ میں سب سے زیادہ لوٹ مار اور قتل وغارت کا شکار یہی طبقہ رہا ہے۔ ان سے کسی بہتری کی امید کی جا سکتی تھی مگر شومئی قسمت اسی طبقہ نے تمام سیاحتی معاملات معہ لوٹ مار کے انکارپوریٹ کر کے انڈسٹری کا درجہ دے دیا ہے۔ اب بس سروسز، ائر لائنز اور ہوٹل چینز ان کی اور سب اچھے کی گردان۔

ریاستوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ پہلے پہل کسی برائی کے خلاف اعلان جنگ کرتی ہیں اور اگر جنگ نتیجہ خیز نہ ہو سکے تو یہی ریاستیں اسی برائی کو گود لے لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر 1919ء سے پہلے امریکہ میں جوا ممنوع یا جرم تھا۔ بعد میں مرحلہ وار جوئے کو قانونی قرار دینے کا عمل شروع ہوا آج 2022ء میں وفاقی قانون میں جوا بالکل قانونی ہے۔ عین اسی طرح کی تاریخ جسم فروشی اور شراب نوشی بارے میں ہے۔

دور جدید میں ہر قسم کے انسانی حقوق اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری ریاستوں پر عائد تصور کی جاتی ہے مگر مسافروں اور سیاحوں کے معاملے میں ان کا رویہ نہایت معتصبانہ ہے۔ صرف پاکستان میں چند بڑے ممالک کے سفارتخانے ویزا فیس کی مد میں اربوں ڈالر سمیٹ کر اپنے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور بدلے میں چند ہزار مشروط قسم کے ویزے جاری کر دیتے ہیں۔ اوپر سے ظلم یہ کہ وزٹ ویزا فیس میں کوئی خاص تخصیص نہیں مثال کے طور پر ایک آدمی لندن عیش کرنے کی غرض سے جانا چاہتا ہے جبکہ ایک دوسرا آدمی لندن اپنے رشتہ داروں سے ملنے جانا چاہتا ہے مگر ویزا فیس دونوں کی ایک ہے اور وہ بھی ناقابل واپسی۔ یاد رہے کہ 30 یا 40 سال قبل صورت حال اسطرح کی نہیں تھی۔

ہم اپنے اس کالم کے ذریعے سیاحت کی انڈسٹری اور سیاحتی حلقوں کو ایک پیغام اصلاح دے رہے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور ناجائز منافع خوری کی بجائے انسان دوستی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ بصورت دیگر عوام کی اکثریت سفر سے اکتا جائے گی اور سیاحتی انڈسٹری کی اصلاح بذریعہ کمپیوٹر اپلیکیشنز مثلاً ’Zoom‘ یا ’Whatsapp‘ وغیرہ سے ہو جائے گی۔

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔