پاکستان

جموں کشمیر: 2300 میگا واٹ سستی بجلی کے بدلے 400 میگا واٹ مہنگی بجلی بھی نہیں ملتی!

بدر رفیق

1990ء کی دہائی میں بے نظیر کی حکومت کے دوران مارگریٹ تھیچر کے فارمولہ کو استعمال کرتے ہوئے نیو لبرل اکونومی کو پاکستان میں رائج کرنے کے حوالہ سے عملی اقدامات کا آغاز کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کا آغاز کیا گیا۔ اس نجکاری کو اس کے بعد آنے والی تمام نام نہاد جمہوری حکومتوں اور فوجی آمریتوں نے جاری رکھا۔ اس پالیسی کے تحت پبلک پاور سیکٹر کو نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھوں کوڑیوں کے بھا ؤ بیچا گیا۔ اس پر ستم یہ کے نجی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے لئے بڑا حصہ بھی سرکار کی طرف سے مہیا کیا گیا اور ایندھن کی فراہمی تک حکومت نے ذمہ داری لیتے ہوئے یقینی بنائی۔ حتیٰ کہ ان قرضوں میں سے بیشتر کو بعد میں معاف کر دیا گیا۔ آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے نام سے جانی جانے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ ایسے سرکاری معاہدہ جات کئے گئے جن کے تحت بجلی کی ترسیل و تقسیم کی بجائے پیداواری صلاحیت کے اعتبار سے سرکاری خزانے سے انہیں ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ ان معاہدہ جات کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بجلی کی فراہمی عوام کو ہو رہی ہے یا نہیں۔ اسی بنیاد پر نجی کمپنیوں کے مالکان نے کھربوں کے منافع جات بٹورے اور آج تک بٹور رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف محنت کش عوام مہنگے ترین بلات کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار نظر آتے ہیں۔

پاکستان کے حالیہ بجٹ کو پیش کرتے ہوئے بجلی کے مزید مہنگے کئے جانے کی مجبوری بیان کر نے کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے ایک ’حل‘ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق نجی بینکوں کو حکومت کی طرف سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ لوگوں کو سولر پینلز (شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی) کے لئے آسان شرائط پر قرضہ جات مہیا کریں گے۔ پاکستان بھر میں آج کل تمام تر غربت، مہنگائی، بے روزگاری، لاعلاجی، نا انصافی، جہالت، معاشی و سیای عدم استحکام، انتشار، بد امنی، بد اعتمادی اور وحشت کے ساتھ ساتھ ایک نیا عذاب محنت کشوں، نوجوانوں اور دیگر عوامی پرتوں کے احساسات کو مجروح کر رہا ہے۔ پورے ملک سمیت زیر انتظام علاقوں اور بالخصوص پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ان دنوں اس قدر بڑھ چکا ہے کہ بعض علاقوں میں لوڈ شیڈنگ 20 گھنٹے سے تجاوز کر چکی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے اتنے دورانیہ کے علاوہ اکثریتی علاقوں میں ماحولیاتی بگاڑکی صورت میں فطرت کے غصے کا سامنا کرتے ہوئے آندھیوں، طوفانوں، آگ لگنے کے واقعات، کلاؤڈ بلاسٹ، گرداب، طوفانی بارشوں سمیت دیگر طوفانوں کے دوران پہلے سے کمزور، پسماندہ اور تباہ حال ڈھانچے کی مزید تباہی کی وجہ سے کئی کئی دن تک لوگ اندھیروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ پورے زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی کی ترسیل کا نظام دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں نا صرف یہ کہ کسی موسمیاتی طوفان کو سہنے کی سکت نہیں رکھتا بلکہ جان لیوا حد تک خطرناک ہے۔ اس محکمہ کے ملازمین سمیت دیگر ہزاروں لوگوں کی زندگیاں لے چکا ہے اور مزید زندگیاں مسلسل خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔ جو اپنے تئیں احتیاط کی بنیاد پر بجلی کی قاتل لائنوں سے بچ کر زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بھی بجلی کے مہنگے بلات سمیت لوڈ شیڈنگ کے عذاب نے مزید نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے اکثر بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ صلاحیت کا نا ہونا قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں۔

اکنامک سروے آف پاکستان 2022ء کے مطابق پاکستان بھر میں موجود اس وقت تکمیل شدہ منصوبہ جات کے ذریعے پاور جنریشن کی کل صلاحیت 41557 میگاواٹ ہے۔ جس میں سے 10251 میگا واٹ پن بجلی، 9884 میگا واٹ آر ایل این جی، 5958 میگاواٹ آر ایف او، 5332 میگا واٹ کوئلے، 3536 میگا واٹ گیس، 3647 میگا واٹ ایٹمی، 1985 میگا واٹ ہوا، 600 میگا واٹ شمسی توانائی جبکہ 364 میگا واٹ بائیو گیس کے منصوبہ جات کے ذریعے پیداکرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جبکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت 29000 میگا واٹ بتائی جا رہی ہے جو کہ عالمی نجی اداروں کے مختلف سرویز کے مطابق اوسطاً 18-20 ہزار میگاواٹ سے زائد نہیں ہے۔ مگر دوسری طرف ترسیل کی صلاحیت محض 22000 میگاواٹ ہے۔ پاکستان بھر میں کراچی کے علاوہ (کراچی میں کراچی الیکٹرک کے نام سے ایک مقامی کمپنی یہ تمام تر امور سر انجام دیتی ہے جس کی مکمل نجکاری کرنے کے بعد مقامی سرمایہ کار کو نوازا جا رہا ہے) دو بڑے پبلک سیکٹر کے ادارے واپڈا اور پیپکو بجلی کی پیداوار، منتقلی اور تقسیم کے ذمہ دار ہیں جبکہ 11 چھوٹی بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے علاوہ این ٹی ڈی سی کے نام سے قائم کمپنی کے ذمہ زیادہ تر ترسیل کی ذمہ داریاں ہیں۔ اس کے علاوہ 42 نجی کمپنیاں جنہیں آئی پی پیز کے نام سے جانا جاتا ہے اس شعبہ میں کاروبار کرتے ہوئے اربوں، کھربوں کے منافعے بٹورنے میں مصروف ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پورے زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی کی کل ضرورت زیادہ سے زیادہ 400 میگا واٹ بتائی گئی ہے، جس میں سے 330 میگا واٹ تک رسائی اور تصرف نام نہاد آزاد حکومت کو دی گئی ہے۔ جبکہ موجودہ وقت میں بھی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے مختلف علاقوں سے پن بجلی کے بڑے منصوبہ جات سمیت تقریباً 2500 میگا واٹ (ادارہ شماریات کے مطابق 2362.820 میگا واٹ) پیدا کر کے پنجاب کے راستے پاکستان میں بجلی کی ترسیل ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ان میں پن بجلی کے بڑے منصوبے جن میں منگلا ڈیم 1100 میگا واٹ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور 969 میگا واٹ سمیت دیگر چھوٹے بڑے منصوبہ جات شامل ہیں۔ ادارہ شماریات ہی کے مطابق زیر انتظام جموں کشمیر میں اس وقت مزید منصوبہ جات جن کی تعمیر جاری ہے یا ان کے حوالہ سے کچھ نا کچھ اقدامات کئے جا رہے ہیں ان سب کی پیداواری صلاحیت 9000 میگا واٹ سے بھی زائد ہے۔ حالانکہ زیر انتظام جموں کشمیر کی 400 میگاواٹ ضرورت کو بھی پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس پر ستم یہ کہ واٹر یوز چارجز اور رائلٹی تو درکنار، یہاں پن بجلی کے منصوبے زیر انتظام علاقے کی حدود میں بنا کر پنجاب کی حدود میں سوئچ یارڈ، ترسیل کے یونٹس سمیت نام بھی پاکستانی علاقوں کے ساتھ منسلک کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ اس سب کے باوجود بھی زیر انتظام جموں و کشمیر کے تمام علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی مسلط کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر 70ء کی دہائی تک مکمل طور پر اندھیر رہا۔ 1973-74ء میں مظفر آباد اور میر پور میں 13500 کنکشن کے ساتھ پہلی مرتبہ بجلی کی ترسیل کا آغاز کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق 2016ء تک یہ کنکشن بڑھتے بڑھتے تقریباً 42 لاکھ لوگوں تک بجلی کی ترسیل کو ممکن بنانے لگے جو کہ کل آبادی کا 93 فی صد بنتا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے منصوبہ جات میں سب سے بڑا حصہ واپڈا کے کنٹرول میں ہے جبکہ اس کے بعد پی ڈی او (پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن جو کہ 2014ء میں بنائی گئی تھی)، پرائیویٹ پاور سیلز، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر اور پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے منصوبہ جات شامل میں۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں مکمل شدہ منصوبہ جات میں 2069 میگا واٹ واپڈا، 65 میگا واٹ پی ڈی او، 231 میگا واٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر (جس میں بورڈ کے منصوبہ جات بھی شامل ہیں) جبکہ 3.5 میگا واٹ پرائیوٹ پاور سیلز کے منصوبہ جات شامل ہیں جن کی تکمیل ہو چکی ہے اور ان کے ذریعے سے مسلسل بجلی کی ترسیل ممکن بنائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ منصوبہ جات جن کی تعمیر جاری ہے اور بہت جلد ترسیل کے لئے تیار ہوں گے ان میں واپڈ کا کوئی نیا منصوبہ شامل نہی جبکہ پی ڈی او کے 141.6 میگا واٹ کے منصوبہ جات سمیت دیگر پرائیویٹ منصوبوں میں 2795.38 میگا واٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ ان سب منصوبہ جات کے علاوہ 4000 میگا واٹ سے زائد کے منصوبے زیر غور ہیں یا ان پر کم از کم ابتدائی نوعیت کے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقہ قرار دئیے جانے اور مفت بجلی کی فراہمی کے لئے بہت سے سیاسی احتجاجوں، اسمبلی میں تجاویز سمیت دیگر کاوشیں لمبے عرصے سے ہوتی رہی ہیں جو آج بھی جاری ہیں مگر ان پر عملدرآمد کوئی بھی فوجی آمریت یا نام نہاد جمہوری حکومتیں کبھی نہیں کروا پائیں۔ مانگ اور ضرورت کی چار گنا پیداوار کے باوجود آج تک زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقوں کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نا صرف استثنیٰ نہیں کیا دیا جا سکا بلکہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز سمیت دیگر نا جائز محصولات لگا کر انتہائی مہنگے داموں بجلی کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ زیر انتظام جموں و کشمیر جیسے پسماندہ پہاڑی خطوں میں لوگ پہلے سے اشیائے ضروریہ کی سب سے مہنگی ادائیگیوں، انفرسٹر کی پسماندگی اور خستہ حالی، بالخصوص خطرناک اور بدحال سڑکوں پر آئے روز حادثات، تعلیمی اداروں کی کمی، پسماندگی اور مہنگی تعلیم، علاج کی ناقص اور نا کافی سہولیات، بے روزگاری کے نتیجے میں صحراؤں میں با مشقت جلا وطنی، سیاسی غلامی سمیت دیگر سنگین مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ حکمرانوں کی طرف سے حالیہ لوڈشیڈنگ کے ذریعے تمام تر صلاحیت ہونے کے باوجود محنت کشوں اور نوجوانوں کا مزید امتحان لیا جا رہا ہے۔

پاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیرکے موجودہ حکمران ”خاص مصروفیات“ کی بنا پر ان تمام تر مسائل پر توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ نوجوانوں اور محنت کشوں کو منظم ہوتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنے حقوق چھیننے کے لئے احتجاج کا راستہ اپنانا ہو گا۔ اگر یہاں ایک انقلابی سرکشی کو کامیاب بناتے ہوئے حقیقی جمہوریت (مزدور ریاست) کا قیام عمل میں آتا ہے تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ چند گھنٹوں میں حل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پر موجود توانائی کے تمام ذرائع کو اجتماعی جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے ایک منصوبہ بند معیشت میں اس خطے کو ناصرف لوڈ شیڈنگ سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے بلکہ بغیر لوڈ شیدنگ 24 گھنٹے بجلی کی مفت فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

بدر رفیق کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے ہے۔ وہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے میگزین ’عزم‘ کے مدیر ہیں۔