پاکستان

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی: ’میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک‘

اکبر زیدی

آئی ایم ایف سے معاہدے پر بغلیں بجانا ایک طرح سے خود تضادی کا اظہار ہے۔ ایسے معاہدوں کے نتیجے میں حکومتوں اور ان کی معیشتوں کو وقتی سہارا تو مل جاتا ہے مگر یہ معاہدے ہمیشہ عوام دشمن ہوتے ہیں جن کے گہرے اور دیرپا نقصانات ہوتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے پروگرام کی بحالی کا اعلان کیا، جسے شائد حکومت نے غور سے نہیں پڑھا کیونکہ اگر سرخیوں سے ہٹ کر اس کے متن پر نظر دوڑائی جاتی تو کئی کڑوے سچ سامنے آتے، اس پروگرام میں سیلاب آنے سے قبل بھی افراط زر کی شرح 20 فیصد پروجیکٹ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ حکومت بجلی کی قیمت بڑھائے، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے، علاوہ ازیں شرح سود اونچی رکھی جائے۔ بغلیں کس بات پر بجائی جا رہی ہیں؟

عمومی طور پر آئی ایم ایف سے اس وقت مدد مانگی جاتی ہے جب کسی ملک میں معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو اور اکثر جب یہ مدد مانگی جاتی ہے تو پہلے ہی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کی ایک اچھی اور تازہ مثال سری لنکا ہے۔ بعض ممالک دور اندیش ہوتے ہیں اور تباہی کے دہانے پر پہنچنے سے پہلے ہی آئی ایم ایف سے رجوع کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال بنگلہ دیش ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے ممالک سے معاشی لحاظ سے اچھی کارکردگی دکھا رہا تھا مگر جوں ہی عالمی معیشت پگھلنا شروع ہوئی، بنگلہ دیش آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گیا۔ گو ابھی دونوں کے مابین مذاکرات شروع نہیں ہوئے مگر آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کسی بحرانی صورت حال کا شکار نہیں۔ ایک پاکستان ہے جس پر عرصے سے آئی ایم ایف نوازشات کرتا چلا آ رہا ہے۔

آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی پچھلے مہینے سے متوقع تھی کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف ان سخت شرائط پر تیار ہو گئے ہیں جن پر پاکستان عمل درآمد کرے گا۔ یکم اگست کو سٹیٹ بینک پاکستان اور وزارت خزانہ نے جو مشترکہ بیان جاری کیا اس میں یہ واضح تھا کہ تمام پیشگی شرائط تسلیم کر لی گئی ہیں۔ اب پاکستان کو صرف آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کا انتظار کرنا تھا جو اگست کے آخر میں ہونا طے تھا۔

دریں اثنا، پاکستانی معیارکے مطابق بھی دو انتہائی ڈرامائی واقعات ہوئے جن پر کافی توجہ دی گئی۔

اؤل، یہ مشہور واقعہ کہ جنرل باجوہ نے امریکی حکومت سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کی جلد از جلد بحالی کے لئے دباو ڈالا جائے۔ اگر تو ایسا ہوا تھا تو یہ بالکل غیر متعلقہ رابطہ تھا کیونکہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین معاہدہ طے پا چکا تھا اور فوجی سربراہ کے رابطہ کرنے سے کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں تھا۔

دوسرا اور زیادہ سنسنی خیز واقعہ تھا اس آڈیو کا لیک ہونا جس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے وزرا خزانہ سے یہ کہتے پائے گئے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کو سبوتاژ کیا جائے اور اس مقصد کے لئے آئی ایم ایف کو لکھا جائے کہ سیلاب کے پیش نظر، بالخصوص خیبر پختونخواہ میں، یہ ممکن نہیں کہ صوبائی حکومتیں آئی ایم ایف سے معاہدے پر عملدرآمد کر یں۔

بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ کوشش غداری کے زمرے میں آتی ہے، ایک طرح سے اسے غداری کہا بھی جا سکتا ہے، سچ بہر حال یہ ہے کہ اس کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس تین دن بعد ہونے والا تھا۔ معاہدہ تو طے ہی تھا۔ بس بورڈ کو اس کی توثیق کرنا تھی۔ مزید براں، آئی ایم ایف صرف وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے۔ صوبائی حکومتیں کتنی ہی ناقابل براداشت کیوں نہ ہوں، اس طرح کی حرکتوں سے وہ محض کچھ سیاسی فائدہ حاصل کر سکتی ہیں۔ شوکت ترین والے واقعہ میں تو یہ کوشش الٹی پڑی۔

جو معاہدہ ہوا ہے، وہ نیا نہیں بلکہ جولائی 2019ء میں ہونے والے معاہدے کی بحالی ہے۔ 2019ء والے معاہدے پر کئی بار عمل درآمد شروع ہوا، پھر رک گیا۔ بحالی کے بعد معاہدے میں پہلے سے بھی زیادہ کڑی شرائط شامل کر دی گئی ہیں۔ محض 1.1 ارب ڈالر کی وصولی پر حکمران طبقہ جس طرح خوشیاں منا رہا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ ہماری توقعات اور معیارمیں کس قدر گراوٹ آ چکی ہے۔

گو ملک کے دیوالیہ ہونے کا ہلکا سا خدشہ موجود تھا، جس کی وجہ ہماری اجتماعی نالائقی ہوتی، مگر آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے سانس لینے کا بہت کم موقع ملے گا۔ معیشت کو جو دیرپا، گہرے اور ساخیاتی مسائل درپیش ہیں ان کو درست کرنا تو دور کی بات، ان کا تو ذکر بھی نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی سے حکومت کو تھوڑا سانس لینے کا موقع تو ملا ہے کیونکہ فوری نوعیت کی پریشانی کم ہو گئی ہے اور معمول کی طرف واپس آ جائیں گے مگر اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلے گا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے۔ پچھلے چار ماہ کے دوران جو اقدامات کئے گئے، جو ایڈجسٹ منٹس کی گئیں ان کا مقصد تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ مل جائے۔ اب قرضہ مل گیا ہے تو وہ اپنی جھوٹی کامیابی کا جشن منائیں گے اور ان اقدامات سے گریز کریں گے جو ان کے ماضی کے اقدامات سے بھی زیادہ غیر مقبول ثابت ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے، آئی ایم ایف نے قرضہ دیا ہے جو واپس بھی کرنا ہے۔ یہ گرانٹ یا امداد نہیں۔ اس قرضے کے ساتھ کچھ شرائط منسلک ہیں۔ ویسے امداد بھی کبھی بغیر شرائط کے نہیں ملتی۔ گو لیا قرضہ ہے لیکن اس کے ساتھ کڑی شرائط، جنہیں پیشگی شرائط کہا جاتا ہے، جڑی ہیں۔ ان کے نتیجے میں ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے (عمومی طور پر رجعتی قسم کے ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے، مثلا بالواسطہ ٹیکس بڑھا دیا جاتا ہے)، اخراجات میں کمی کرنا ہوتی ہے (ہمیشہ ترقیاتی اخراجات میں کمی ہوتی ہے نہ کہ دفاعی اخراجات میں)، لازمی ضروری اشیا پر ٹیرف میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ ان شرائط کے نتیجے میں عمومی مانگ میں کمی اور معاشی ترقی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ 22 معاہدے ہوئے مگر ان تمام معاہدوں کے باوجود پاکستان کی کسی حکومت کے پاس، اچھے خاصے حالات میں بھی، یہ دعوی کرنے کا کوئی جواز نہیں کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد سے کچھ خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہو۔ بظاہر بہت مستحکم فوجی حکومتیں بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کرتی رہیں اور سوائے اعداد و شمار میں تھوڑی بہتری لانے کے لئے یہ فوجی حکومتیں بھی قرضوں، افراط زر اور معاشی نمو میں کمی کے حوالے سے کچھ نہ کر سکیں۔ ہر کسی نے معاشی مسائل کا بوجھ عوام پر ڈالا، اشرافیہ پر نہیں۔

حزب اختلاف کے ہٹ دھرم رہنما نے جو سیاسی عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے، اس کے پیش نظر یہ طے ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں بھی سیاسی و معاشی افرا تفری جاری رہے گی۔ سیلاب سے جو نقصان پہنچا ہے وہ آئی ایم ایف سے ملنے والی قسط سے دس گنا زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف سے ملنے والے اس تازہ ترین پیکیج سے پاکستان کے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

بشکریہ: ڈان۔ ترجمہ: فاروق سلہریا

مصنف آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر معیشت ہیں۔ وہ ’ایشیوز ان پاکستانز اکانومی‘ (Issues in Pakistan's Economy: A Political Economy Perspective)اور ’میکنگ اے مسلم‘ (Making a Muslim: Reading Publics and Contesting Identitiesin Ninteenth-Century India) کے مصنف ہیں۔