پاکستان

الیکشن جنوری میں، اگلی حکومت خان کی؟

حارث قدیر

تقریباً دو ہفتے قبل نجم سیٹھی نے دی فرائیڈے ٹائمز میں اپنے ادارئے، بعنوان ’پنڈی پلان‘ میں، بعد ازاں اپنے ٹاک شوز میں یہ ’تھیوری‘ پیش کی ہے کہ انتخابات جنوری میں ہوں گے۔ اس لئے ستمبر یا اکتوبر میں موجودہ حکومت توڑ دی جائے گی۔

وہ اپنے ٹاک شوز میں بار بار یہ دعویٰ بھی کرتے آئے ہیں کہ عمران خان جس قدر مقبول ہیں، وہ دو تہائی اکثریت سے جیت جائیں گے۔ بہ الفاظ دیگر، اگلی حکومت عمران خان کی ہو گی۔ اس طرح وہ اگلا فوجی سربراہ نامزد کریں گے کیونکہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے دی جائے گی۔ ادہر، جنرل فیض حمید اپریل تک ریٹائر نہیں ہوں گے۔ یوں عمران خان چاہیں گے تو جنرل فیض حمید کو ہی یہ عہدہ دے دیں۔

ان کی اس ’تھیوری‘ پر مسلسل تبصرے ہو رہے ہیں۔ دریں اثنا ان (غیر مصدقہ) خبروں نے اور بھی سنسنی پھیلا دی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان سے دو خفیہ ملاقاتیں کیں۔ اسد طور نے اپنے ویلاگ میں دعویٰ کیا کہ دوسری ملاقات میں جنرل باجوہ کی گاڑی جنرل فیض حمید ڈرائیو کر رہے تھے اور اس ملاقات میں جنرل فیض بھی موجود تھے۔

کیا نجم سیٹھی کی ’تھیوری‘ درست ہے؟

۱۔ تاریخ اس’تھیوری‘کی نفی کرتی ہے

پہلی بات تو یہ ’تھیوری‘ نہیں۔ نجم سیٹھی صاحب تھیوری کی اصطلاح اس لئے استعمال کر رہے ہیں کہ غلط ثابت ہونے کی شکل میں وہ اپنا دفاع کر سکیں۔

ادہر، اگر ہم پاکستان کی حالیہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو نظر آتا ہے کہ فوج جس حکومت کو گھر بھیجتی ہے، اگلی بار اسے حکومت نہیں ملتی۔ نوے میں بی بی کو گھر بھیجا گیا تو الیکشن میں زبردست دھاندلی کے ذریعے نواز شریف کو اقتدار دیا گیا۔ ان انتخابات کو بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی دھاندلی زدہ قرار دیا لیکن تب بے نظیر زندگی سے بھی ہاتھ دھو چکی تھیں۔ 1993ء میں نواز شریف کو گھر بھیجا گیا تو حکومت بی بی کو ملی۔ 1997ء میں بی بی کی چھٹی ہوئی تو نواز شریف واپس آ گئے۔ 1999ء میں بھی یہی ہوا 2018ء میں ایک مرتبہ پھر نواز لیگ کو گھر بھیجا گیا تو اس کے بعد حکومت تحریک انصاف کو دی گئی چاہے اس کے لئے دھاندلی کرنی پڑی۔

۲۔ منطق اس ’تھیوری‘ کی نفی کرتی ہے

عمران خان کی حکومت اس لئے ختم کی گئی کہ ان سے اگلا آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار چھینا جا سکے۔ اگر جنوری کے الیکشن اور اگلی حکومت کے ذریعے عمران خان کو واپس لانے کا منصوبہ ہے تو اس سارے کھیل کا فائدہ جو تقریباً ایک سال سے جاری ہے۔ یہ بالکل غیر منطقی بات ہو گی اگر اگلے فوجی سربراہ کی تقرری کا اختیار واپس عمران خان کو اس آپشن کے ساتھ دے دیا جائے کہ وہ جنرل فیض حمید کو بھی اگلا چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر سکیں۔

۳۔ سیلاب اس ’تھیوری‘ کی نفی کرتے ہیں

جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے، وہاں انتخابات کرانا ممکن نہیں۔ جن سکولوں کی عمارتوں میں پولنگ اسٹیشن بننے ہیں، وہ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پانی اترنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ جن اساتذہ نے پولنگ کرانی ہے، وہ بے گھر ہیں۔ جن ووٹروں نے ووٹ ڈالنے ہیں، وہ کھلے آسمان تلے لیٹے ہیں۔ سیلاب سے محفوظ علاقوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ سیلاب زدہ علاقوں کی کیا حالت ہے۔

پس نوشت: نیرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روم جل رہا تھا، وہ بانسری بجا رہا تھا۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اور اس کا پالتو میڈیا عصر حاضر کا نیرو ہے۔ ملک جل تو نہیں رہامگرڈوب ضروررہا ہے، ایوان اقتدار میں بیٹھے نیروایکسٹینشن کی بانسری بجا رہے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔