دنیا

ایران: ملائیت کے خلاف عام بغاوت

التمش تصدق

اس وقت سرمایہ دارنہ نظام کے عالمی بحران نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جو معاشی گراوٹ، سیاسی انتشار، سامراجی جنگوں اور ماحولیاتی بربادیوں کی صورت میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔ سرمایہ داری کے عالمی بحران اور تاریخی زوال نے تیسری دنیا کی پسماندہ ریاستوں کے بحران کو زیادہ شدید اور گہراہ کر دیا ہے۔ اس وقت ایران ان ریاستوں میں سرفہرست ہے جہاں معاشی بحران اور سماجی انتشار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انتشار میں گھیری ہوئی ایرانی ریاست میں ملاوں کے جبر میں بھی مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ان دنوں مہسا امینی نامی 22 سالہ لڑی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاک کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیے جا رہے ہیں، جس میں خواتین کی بھی بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ مہسا امینی کو تہران جاتے ہوئے پولیس مناسب حجاب نہ کرنے پر گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ اس سے پہلے رواں سال ایران میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جو دارالحکومت تہران سمیت چھ صوبوں تک پھیل گئے تھے۔

ایران میں انقلاب کی ناکامی کے نتیجے میں جنم لینے والے 1979ء کے رد انقلاب کی کے بعد سے اب تک ایرانی سماج میں ملاوں کی رجعتی مذہبی آمریت کے خلاف محنت کشوں، خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی مزاحمت ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی ہے جسے انتہا بے رحمی سے کچل دیا جاتا رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں ایرانی محنت کشوں اور نوجوانوں کے سیکڑوں چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں ہوئی ہیں۔ ان احتجاجوں میں سماج کی مختلف پرتیں شامل ہوئی ہیں جن میں طلبہ، بے روزگار، مختلف شعبوں سے وابستہ مزدور، خواتین، تاجر اور ریٹائرد حضرات شامل تھے۔یہ احتجاجی مظاہرے ایران میں بڑھتے ہوئے معاشی مسائل اور ملاوں کی سیاہ حاکمیت کے خلاف جنم لینے والی بے چینی اور اضطراب کا اظہار ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جبر و تشدد اور سخت سزاوں سے عوام کو زیادہ لمبے عرصے تک کنڑول نہیں کیا جا سکتا ہے۔ محنت کش عوام کو درپیش غربت، جہالت مہنگائی، بے روزگاری اور لاعلاجی جیسے حقیقی مسائل کو مذہبی پیشواؤں کے روحانی نسخوں سے ہرگز حل نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے ٹھوس مادی حل درکار ہے۔ فروری 1979ء کا رد انقلاب، جسے نام نہاد اسلامی انقلاب کہا جاتا ہے، کے بعد شاہ رضا پہلوی کی شخصی بادشاہت تو ختم ہو گئی اس کی اس کی جگہ آیت اللہ خمینی کی مذہبی آمریت نے لے لی۔ جن محرمیوں اور جبر سے آزادی کے لیے ایران کے محنت کشوں نے بے شمار قربانیاں دی تھی وہ ختم ہونے کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہو گیا۔

یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد کی ایرانی ریاست کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس کا کردار بھی ہمیں دیگر سابقہ نوآبادیاتی ریاستوں سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔ ایران میں بھی سرمایہ داری قومی جمہوری انقلاب کے نتیجے میں نہیں بلکہ یورپی سامراجی طاقتوں کی لوٹ مار کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ایران کا مقامی سرمایہ دار طبقہ اسی سامراجی لوٹ کھسوٹ کے عمل کے دوران وجود میں آیا جس کا کردار روز اؤل سے رجعتی اور سامراجی گماشتہ کا رہا۔ یہی وجہ ہے یہ حکمران طبقہ کبھی بھی جدید سماج کی تعمیر کے لیے کسی قسم کا ترقی پسند کردار ادا کرنے کے قابل نہیں تھا۔ایرانی ریاست کا بھی ہمیں زار روس کی طرح دوہرا کردار نظر آتا ہے، ایک طرف ایرانی ریاست امریکی اور مغربی سامرجیوں کی نوآبادی تھی دوسری طرف اس کا علاقائی سامراجی کردار بھی تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں یورپی سامراجی طاقتیں زوال پذیر ہوئی اور امریکہ سامراج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا جس نے رضا شاہ کی صورت میں اک بدمعاش ایرانی محنت کشوں پر مسلط کیا جو نہ صرف ایران کے وسائل کی لوٹ گھسوٹ میں امریکہ کا کمیشن ایجنٹ تھا بلکہ خطے میں امریکی مفادات کے محافظ تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی سامراج کی مسلط کردہ آمریتوں اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوامی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے ایرانی فوج کا بے دریغ استعمال کیا جاتا تھا۔ ایرانی معیشت اور تجارت پر سامراجی اجارادیوں کا مکمل غلبہ تھا۔ اس کا اندازہ ہم ایران کے سب سے نفع بخش تیل کے کاروبار سے لگا سکتے ہیں جس پر سات غیر ملکی کمپنیوں کی اجارادہ داری قائم تھی۔ ان کمپنیوں میں پانچ امریکی اور ایک ڈیچ اور ایک برطانوی تھی۔

ایران کے انقلاب کے کردار کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے ایرانی انقلاب مطلق العنان بادشاہت کے خلاف جمہوری انقلاب تھا جسے ملاوں نے یرغمال بنا دیا۔ بعض دانشوروں کا ماننا ہے انقلاب کا کرادر اسلامی تھا جو رضا خاں کی لبرل اصلاحات کے خلاف مذہبی ردعمل تھا۔ رضا خاں نے مغربی تہذیب و تمدن کی اساس صنعتی ترقی کے بجائے قوانین کے ذریعے مغربی تہذیب کو رائج کرنے کی کوشش کی،مغربی طریقہ تعلیم نافذ کیا، ریاستی امور میں ملاوں کی مداخلت کو روک دیا، پردے کا رواج ختم کیا، لوگوں کو مغربی لباس اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اوپر سے کی گئی یہ اصلاحات کاسمیٹکس تبدیلیوں کے علاوہ ایرانی سماج کی بنیادوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکی، ایرانی سماج جدت اور پسماندگی کا ملغوبہ تھا۔ بیرونی سرمایہ کاری اور تیل کی پیدوار میں اضافے نے اقلیتی سرمایہ دار حکمران طبقے کے منافع میں تو اضافہ کیا لیکن اس سے ایرانی سماج کی پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ بیرونی سرمایہ کاری نے اک طرف ایرانی محنت کشوں کی غربت، محرومی اور استحصال میں اضافہ کیا دوسری جانب سماجی ناہمواری اور طبقاتی تضادات کو مزید بڑھا دیا۔ امیر اور غریب کی بڑھتی ہوئی خلیج اور دیگر تضادات نے انقلاب جنم دیا جس انقلاب نے امریکی سامراج کے دلال رضاہ شاہ کو ملک چھوڑ کے بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔

انقلاب کے حقیقی کردار کو انقلاب کے دوران مختلف طبقات کے کردار اور اس وقت رونما ہونے والے واقعات سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انقلاب کی وجوہات میں جہاں ایرانی ریاست کے داخلی تضادات تھے، جن میں مطلق العنان بادشاہت کا بدترین ریاستی جبر واستحصال، بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق، قومی محرمی، زراعت کا بحران تھا وہاں ستر کی دہائی میں جنم لینے والے عالمی سرمایہ دارنہ نظام کے معاشی بحران اور معیشت اور سیاست پر امریکی سامراج کے تسلط کا کردار بھی نمایاں تھا۔ لبرل جمہوریت پسند اور سٹالنسٹ بایاں بازو جس طبقے کو بنیاد بنا کر ایران میں مغربی طرز کی جمہوریت قائم کرنا چاہتے تھے اس حکمران طبقہ کی تاریخی پسماندگی اور سامراجی قوتوں سے برائے راست معاشی مفادات وابسطہ ہونے کی وجہ سے اس میں یہ اہلیت نہیں تھی وہ کوئی ازادانہ کردار ادا کر سکے، یہی وجہ ہے انقلاب کہ دوران ایرانی سرمایہ دار حکمران طبقے کا کردار سامراجی دلالی پر مبنی نظر آتا ہے۔ سماج کے پسے ہوئے استحصال زدہ طبقات ہی تھے جن کی جدوجہد نے نہ صرف شاہ ایران کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا بلکہ شاہ کے وفادار اور سامراجی دلال سرمایہ دار حکمران طبقے کو بھی فرار ہونے پر مجبور کیا۔ اس انقلابی تحریک میں ہمیں طلبا و طالبات، محنت کش مرد و خواتین، کسانوں اور مظلوم قومیتوں کا اہم کردار نظر آتا ہے۔

ایران میں محنت کش طبقہ ہی وہ واحد طبقہ تھا جو مظلوم قومیتوں اور کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اس نظام کو اکھاڑ کر سامراجی تسلط اور صدیوں کی پسماندگی کا خاتمہ کر سکتا تھا۔ تحریک کے دوران ایرانی محنت کشوں نے اپنی پوشیدہ انقلابی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے فیکٹروں اور کارخانوں پر سرمایہ داروں کے فبضے کو ختم کر کے اپنے جمہوری کنٹرول میں لیا۔ انقلاب کے دوران محنت کشوں سے خوفزدہ بڑے بڑے سرمایہ دار جب ملک چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مزدوروں نے کمیٹیاں بنا کر سارا انتظام خود سنبھال لیا تھا۔ حتیٰ کہ تیل کی صنعت کے مختلف شعبوں میں بھی مزدوروں نے کمیٹیاں بنا کر غیر ملکی انجینئروں اور ہنر مند مزدوروں کے چلے جانے کے باوجود ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیل کی پیدوار جاری رکھی۔ ان کمیٹیوں نے یہ ثابت کیا محنت کش سرمایہ داروں کے بغیر بھی پیدواری عمل کو جاری رکھ سکتے ہیں اور اس نظام کو چلا سکتے ہیں۔ جب سپاہیوں نے طبقاتی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے افسروں کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور محنت کشوں پر جبر کے بجائے چھوٹے افسروں اور سپاہیوں کی محنت کشوں کی تحریک میں شمولیت نے ایرانی حکمران طبقے اور امریکی سامراج کے پیروں تلے زمین نکال دی تھی۔

ایرانی محنت کشوں کی انتہائی جرت مندانہ جدوجہد کے باوجود ایرانی میں بائیں بازوں کی جماعتوں بالخصوص تودہ پارٹی کی قیادت کے انقلاب کے کردار کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ملاوں کو اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا۔ تودہ پارٹی اور دیگر بائیں بازوں کے رحجانات نے سرمایہ دارانہ سامراجی نظام کے بجائے شاہ ایران کو تمام تر برائیوں کی جڑ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف رجعتی ملاؤں کی حمایت کی۔ ملاں اشرافیہ نے اقتدار ہاتھ آنے کے بعد ان قوتوں کو بدترین جبر کا نشانہ بنایا جنہوں نے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا تھا بالخصوص خواتین کو سب سے زیادہ جبر کا نشانہ بنایا۔ ملاوں نے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کو ختم کر کے افسر شاہی کا کنٹرول پھر سے کیا، باغی سپاہیوں کو کی سزائیں دی گئی۔ خمینی کی قیادت میں ایرانی ملاوں نے پاسداران انقلاب جیسی متشدد تنظیم کے ذریعے بائیں بازوں کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، خواتین اور طلبہ کی تنظیموں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ جو کام شاہ ایران بھی نہ کر سکا وہ رجعتی ملاوں نے کر دیکھایا۔ بلوچوں، کردوں سمیت دیگر مظلوم قومیتوں پر قومی جبر میں مزید اضافہ ہوا، یوں ایران کمیونسٹوں کا مقتل گاہ بن گیا، خواتین کا جیل اور محنت کشوں کے لیے جہنم بن گیا۔

ایرانی ملائیت نے گزشتہ چار دہائیوں سے جہاں رجعتی قوانین کا سہارا لے کر جبر و تشدد اور سزاوں کے ذریعے اپنی رجعتی حاکمیت کو قائم رکھا ہے وہاں اس حاکمیت کو قائم رکھنے میں امریکی دشمنی اور ایک تہائی اقتصادیات بشمول کاروباری اداروں پر ایرانی ملائیت کے کنٹرول کا اہم کردار ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سابق ڈپٹی اسپیکربہزاد نباوی کے مطابق ریاست کے ساٹھ فیصد اثاثے چار تنظیموں کے قبضے میں ہیں جن کا تعلق پاسداران انقلاب اور کروڑ پتی ملاں اشرافیہ سے ہے۔ ایرانی حکمران طبقہ امریکی دشمنی اور پابندیوں کو جواز بنا کر محنت کشوں کا استحصال کر رہا ہے جس کے خلاف ایرانی محنت کشوں کو احتجاج کرنے کا حق بھی نہیں ہے۔ احتجاج پر پابندیوں کے باوجود ایرانی محنت کشوں، طلبہ اور خواتین کے احتجاجی مظاہروں میں مسلسل اضافہ اس بات کا اظہار ہے امریکی دشمنی کا چورن اب زیادہ عرصہ فروخت نہیں ہو سکتا ہے۔ ایرانی محنت کش اگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو وہ صرف ملائیت کی وحشت کے خاتمے تک خود کو محدود نہیں رکھیں گے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے اس بنیاد کو ہی ختم کریں گے جو انسان کو انسان پر جبر کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔