خبریں/تبصرے

سوات میں دہشت گردی کے خلاف ہزاروں کا جلوس: 2 ماہ میں 6 واں مظاہرہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی سوات میں پیر کو نامعلوم حملہ آور کی فائرنگ سے سکول بس ڈرائیور کی ہلاکت اور بچے کے زخمی ہونے کے بعد منگل کے روز ہزاروں افراد نے دہشت گردی کے واقعات کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔

ہلاکتوں اور تشدد کے واقعات کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین نشاط چوک میں جمع ہوئے اور امن کے قیام اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے دہشت گردی نامنظور، غنڈہ گردی نامنظور، بھتہ خوری نامنظور جیسے نعرے لگائے۔

یہ احتجاج گزشتہ دو ماہ کے دوران چھٹا احتجاج تھا، جس میں 15 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی اور امن کے قیام کیلئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت عوام کو مسلح کئے جانے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلانات بھی کئے گئے۔

یہ احتجاج سوات قومی جرگہ اور سوات اولسی پسون (سوات پیپلز موومنٹ) کی کال پرکئے جا رہے ہیں۔ پیپلز موومنٹ کے کارکن فواد خان نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’خطے میں پرتشدد واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ہم حکومت سے دہشت گرد عناصر کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو واپس آ کر یہاں دہشت پھیلا رہے ہیں، ہمیں تحفظ دیا جانا چاہیے، جو ہمارا آئینی حق ہے۔‘

گزشتہ ماہ سوات کے کوٹ کٹائی گاؤں میں ایک بم دھماکے میں طالبان مخالف بااثر قبائلی رہنما سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ سوات 2009ء تک ٹی ٹی پی کا بڑا گڑھ رہا ہے۔ تشدد میں حالیہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب پاکستان کی فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

Roznama Jeddojehad
+ posts