خبریں/تبصرے

خیبر پختونخوا: رکن صوبائی اسمبلی طالبان کو ماہانہ 12 لاکھ بھتہ دینے پر مجبور

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کی خبروں کے ساتھ ساتھ اب بھتہ وصول کرنے کی خبریں بھی عام ہو رہی ہیں۔

’عرب نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی ممبر اسمبلی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہیں بتایا ہے کہ وہ جولائی سے ٹی ٹی پی کوماہانہ 12 لاکھ روپے کی رقم دینے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وہ اپنے ووٹرز کے ساتھ چائے پی رہے تھے کہ انہیں طالبان نے فون کر کے عطیات کا مطالبہ کیا۔ ایک پیغام بھی انہیں فون پر بھیجا گیااور ساتھ ہی لکھا گیا کہ ’مالی مدد فراہم کرنے سے انکار آپ کیلئے ایک مسئلہ بنا دے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ ایک عقلمند آدمی سمجھے گا کہ ہمارا اس سے کیا مطلب ہے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’جو لوگ ادائیگی نہیں کرتے انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ کبھی وہ دروازے پر دستی بم پھینکتے ہیں، کبھی وہ گولی مار دیتے ہیں۔‘

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ’زیادہ تر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھتہ کی رقم ادا کرتے ہیں۔ کچھ زیادہ ادا کرتے ہیں، کچھ کم ادا کرتے ہیں۔ تاہم س پر کوئی بھی بات نہیں کرتا۔ ہر کسی کو اپنی جان پیاری ہے۔‘

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے مطابق طالبان کی واپسی کے بعد سے ایک سال میں پاکستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں تقریباً 433 افراد مارے گئے ہیں۔

سوات کمیونٹی کے ایک رکن احمد شاہ کے مطابق ’انہوں نے وہی پرانا کھیل شروع کر دیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، اغوا اور بھتہ خوری کیلئے کالیں کرتے ہیں۔ بلیک میل نیٹ ورک ٹی ٹی پی کو مالی وسائل بھی مہیا کرتا ہے، ساتھ ہی مقامی حکومت پر اعتماد کو بھی کھوکھلا کرتا ہے۔‘

رکن صوبائی اسمبلی نثار مہمند کے اندازے کے مطابق آس پاس کے اضلاع کے 80 سے 95 فیصد خوشحال رہائشی اب بلیک میلنگ کا شکار ہیں۔ قانون سازوں کو ادائیگی سے انکار کرنے پر نشانہ بنایا گیا ہے اور کچھ اپنے علاقے کا دورہ کرنے سے اب بہت خوفزدہ ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ’ان کا جزا اور سزا کا اپنا نظام ہے۔ انہوں نے ایک متبادل حکومت قائم کر دی ہے تو لوگ مزاحمت کیسے کرینگے۔‘

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں کی میزبانی نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم ٹی ٹی پی کی بلیک میل کرنے کیلئے کی گئی فون کالیں جن نمبروں سے آرہی ہیں وہ افغانستان کے نمبر ہیں۔

بلیک میلنگ کیلئے ایک صوتی پیغام (وائس کلپ) پشتو زبان میں بھیجا جاتا ہے۔ ’اے ایف پی‘ نے ایک پیغام سنا جس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مالک مکان نے ادائیگی سے انکار کیا تو ’ایکشن سکواڈ‘ بھیج دیا جائے گا۔

احمد شاہ کے مطابق ایک دہائی کے وقفے کے بعد ایک بار پھر بلیک میلنگ کے ٹیکسٹ موصول ہونے لگے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ’صورتحال اتنی خراب تھی کہ بہت سے لوگ نقل مکانی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ زندگی رک گئی تھی۔‘

تاہم اس میں ایک پش بیک ہوا اور اگست میں تین ہائی پروفائل اغوا کے بعد سے ٹی ٹی پی کے خلاف کئی مظاہرے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں مضبوط ٹی ٹی پی کی اطلاعات انتہائی مبالغہ آمیز اور گمراہ کن تھیں۔

تاہم ٹی ٹی پی اور اسلام آباد کے درمیان ایک مذاکراتی معاہدے کے باوجود پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملے اور بھتہ خوری کا سلسلہ جاری ہے۔

حکومتی مذاکرات کار محمد علی سیف نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا حل تلاش کرنا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ ”ایک دیرپا تصفیہ تلاش کرنا پڑے گا۔“