خبریں/تبصرے

نیپال: کمیونسٹ حکمران اتحاد میں دراڑ، مخلوط حکومت خطرے سے دوچار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) نیپال کے کمیونسٹ اکثریتی حکمران اتحاد کے اندر پھوٹ نے ہمالیائی ملک میں سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ماؤ نواز وزیر اعظم کی طرف سے اپوزیشن کے صدارتی امیدوار کی حمایت کے بعد حکمران اتحاد میں شامل مارکسسٹ لینن اسٹ پارٹی نے وزیر اعظم کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی ہے۔

2008ء میں 239 سالہ بادشاہت کے خاتمے کے بعد نیپال میں اب تک 11 حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ 9 مارچ کو نیپال کے اگلے صدر کا تقرر کیا جانا ہے۔

موجودہ وزیر اعظم پشپا کمل دہل تین بار اس عہدے پر رہ چکے ہیں۔ وہ ایک سابق ماؤ نواز گوریلا رہنما ہیں اور آج بھی اپنے گوریلا نام ’پراچندا‘سے جانے جاتے ہیں۔

دسمبر میں منتخب ہونے والے وزیر اعظم نے ایک 7 جماعتی اتحاد تشکیل دیا، جس میں ان کی اپنی ماؤسٹ سنٹر پارٹی، کمیونسٹ یونیفائیڈ مارکسسٹ لینن اسٹ پارٹی (یو ایم ایل) اور پانچ دیگرچھوٹے گروپ شامل تھے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نے اپوزیشن نیپالی کانگریس کے صدارتی امیدوار رام چندرپاڈیل کیلئے حمایت کا وعدہ کر کے یوایم ایل کو ناراض کیا۔

اتحاد میں شامل سیاستدانوں کے مطابق وزیر اعظم نے پہلے صدارت کیلئے یو ایم ایل کے امیدوار کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین اور 7 صوبائی اسمبلیوں کے اراکین صدر کے انتخاب کیلئے 9 مارچ کو اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ یہ ایک بڑی حد تک ایک نمائشی یا بے اختیار عہدہ ہوتا ہے، تاہم یہ سیاسی بحرانوں کے دوران کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

نائب وزیر اعظم کے طور پر خزانہ کے انچارج سینئر یو ایم ایل رہنما بشنو پاڈیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے اور ان کی پارٹی کے تمام 8 وزرا نے وزیر اعظم کو استعفیٰ پیش کر دیا ہے، کیونکہ وزیر اعظم حکومت بنانے کے وقت طے پانے والے اتفاق رائے کا احترام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے پارٹی میٹنگ کے بعد بتایا کہ ’ہم مخلوط حکومت کی حمایت بھی واپس لے لیں گے۔‘

امور خارجہ کی وزیر بملا رائے پاڈیل بھی مستعفی ہونے میں شامل تھیں۔ انہیں وزیر اعظم نے اتوار کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پینل کے اجلاس میں شرکت کیلئے جنیوا کا سفر نہ کرنے کیلئے کہا تھا۔

دوسری پارٹی کے ایک نائب وزیر اعظم سمیت 4 وزرا نے بھی اسی معاملے کی وجہ سے ہفتے کے آخر میں حکومت چھوڑ دی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 275 رکنی پارلیمان میں 32 نشستوں کی حامل ماؤسٹ پارٹی کے وزیر اعظم کو 30 دنوں کے اندر اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا ہو گا۔

امکان ہے کہ وہ یہ ووٹ کانگریس کی حمایت سے جیتیں گے، جو پارلیمنٹ کی سب سے بڑی واحد پارٹی ہے۔ اس طرح ایک نیا اتحاد تشکیل پائے گا، جس میں کانگریس اور دیگر چھوٹے گروپ شامل ہونگے۔

موجودہ وزیر اعظم پراچندا اس سے قبل بھی کانگریس کیساتھ کام کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماؤسٹ لیڈر مارکسسٹ لین اسٹوں کے مقابلے میں کانگریس کے ساتھ زیادہ بہتر رہتے ہیں۔

Roznama Jeddojehad
+ posts