خبریں/تبصرے

سوڈان کا سابق فوجی آمر عدالت کے کٹہرے میں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) 1989ء میں فوجی بغاوت برپا کرنے اور آئین کو معطل کرنے پر تیس سال تک سوڈان پر حکومت کرنے والے فوجی آمر عمر البشیر کو گذشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا۔

عمر البشیر کو چھ سویلین اور دس فوجی افسروں سمیت فوجی بغاوت کرنے پر مقدمے کا سامنا ہے۔ گذشتہ سال عوامی مظاہروں کے بعد 11 اپریل کو ان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ ان مظاہروں کے دوران درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔

عمر البشیرنے بطور برگیڈئیر جنرل اکتیس سال قبل ملک سے جمہوریت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس فوجی آمریت کو بنیاد پرست رہنما حسن الترابی کی حمایت حاصل تھی جن کا 2016ء میں انتقال ہوا۔

عمر البشیر کی آمریت کا موازنہ کافی حد تک پاکستان میں ضیا الحق کی آمریت سے کیا جا سکتا ہے۔ دونوں نے مذہب کے نام پر حکومت کی۔

عمر البشیر پر مظاہرین کی ہلاکتوں کا بھی الزام ہے۔ ان پر عالمی عدالت انصاف میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ بھی چل رہا ہے کیونکہ ان پر سوڈان کی مذہبی اقلیتوں کے قتل عام کا الزام بھی ہے۔