دنیا

سٹاک مارکیٹ کریش: ایک روز میں 321.6 ارب ڈالر کا نقصان عوام پر مزید معاشی دباؤ کا باعث بنے گا!

فاروق طارق

پانچ بڑی ٹیک کمپنیوں کو ”بلیک منڈے“ کے ایک روز میں 321.6 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آئی فون کے شیئرز کی قیمت میں 7.9 فیصد کی گراؤٹ ہوئی جبکہ فیس بک، مائیکرو سافٹ اور الفابیٹ کے شیئرز 6 فیصد تک گر گئے۔ آئی فون بنانے والی کمپنی کے ایک سو ارب ڈالر غائب ہو گئے جبکہ مائیکرو سافٹ کو ایک دن میں 83 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

بھارت کاا نیل امبانی اب ایشیا کا امیر ترین آدمی نہیں رہا اسے بھی ”کالی سوموار“ میں 6 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جبکہ دنیا کے امیر ترین پانچ سو افراد بھی 238.5 ارب ڈالر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

معیشت دان اسے سٹاک مارکیٹ کریش قرار دے رہے ہیں مگر حقیقت میں یہ سرمایہ داری کے ایک نئے عالمی معاشی بحران کا پیش خیمہ ہے۔ یہ بحران 2008ء کے عالمی معاشی بحران سے کہیں زیادہ شدت سے سامنے آئے گا اور اب چین وہ چین نہیں جو اپنے محفوظ خزانوں سے اربوں ڈالر سرمایہ درانہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے سامراجی ممالک کے حوالے کر دے گا۔ امبانی کی طرح چین کے امیر ترین فرد اور علی بابا کے مالک کو بھی 44 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

سرمایہ داری کے معیشت دان اسے’COVID 19‘ یعنی کرونا وائرس بیماری کے دنیا بھر میں پھیلنے اور تیل کی ایک دن میں تیس فیصد کمی کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں مگر ”ناجائز قرضوں کے خلاف عالمی کمپئین“ (CADTM) کے راہنما ایرک تونساں لکھتے ہیں کہ”یہ صرف کرونا وائرس کی وجہ سے نہیں بلکہ سٹاک ایکسچینج کی گراؤٹ کے تمام تر اثرات 2017-18ء سے ہی واضح تھے اور یہ سرمایہ داری نظام کی بوسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کا ایک نیا اظہار ہے۔“

سوموار کو ہی تیل کی عالمی قیمتیں میں بھی پہلی خلیج جنگ 1991ء کے بعد سب سے بڑی گراؤٹ آئی تھی۔ تیل کی قیمتوں میں ایک روز میں تیس فیصد کی کمی ایک نیا عالمی ریکارڈ تھا۔ اگرچہ قیمتیں اب تھوڑی سی بہتر ہوئی ہیں مگر یہ کبھی اپنی پہلی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

اربوں کا ایک روز میں نقصان اب عوام پر مزید بوجھ ڈال کر پورا کیا جائے گا۔ سرمایہ دار ریاستیں اب اپنے محفوظ خزانوں کو امیروں کے لئے کھول دیں گی اور غریبوں پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔

وال سٹریٹ میں 2008ء کے بعد پہلے کریش نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تقریباً ہر ملک میں سٹاک مارکیٹیں چھ سے نو فیصد تک نیچے گر گئی تھیں۔ منگل کے روز بعض مارکیٹوں میں دو سے تین فیصد تک بحالی ہوئی ہے مگر یہ اپنی سابقہ جمعہ کی سطح تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

ڈوجانز شیئر مارکیٹ کی 123 سالہ تاریخ میں کبھی بھی ایک روز میں سات فیصد تک گراوٹ نہیں آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا وائرس نے عالمی سرمایہ درانہ معیشت کو شدید دھچکا لگایا ہے۔

ابتک کرونا وائرس سے ایک لاکھ دس ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں اور اس سے چین میں 3119، اٹلی میں 463، ایران میں 237، ساؤتھ کوریا میں 53، فرانس میں 30، سپین میں 30، جاپان میں 17 اور عراق میں 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اب تک 13 افراد کی نشان دہی ہو چکی ہے جو کرونا وائرس کے شکار ہیں۔ کرونا وائرس کے شکار افراد کا تین سے چار فیصد موت کی آغوش میں جا رہے ہیں اور یہ کسی بھی عام بخار سے کہیں زیادہ اوسط ہے۔

پاکستان کی موجودہ گرتی معیشت پر اس عالمی معاشی دھچکے کے شدید منفی اثرات ہوں گے۔ سی پیک کے منصوبے التوا میں جائیں گے۔ یورپ کی جانب سے جی ایس پی پلس کے 2022ء تک توسیع کے باوجود اس کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قسطیں بروقت ادا کرنے کا پریشر موجودہ حکومت کو ان سے تضاد میں بھی لا سکتا ہے کیونکہ یہ حکومت ابھی بھی آئی ایم ایف کے معاشی پریشر سے شدید تنگ ہے اور اس کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔

عمران خان بار بار بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا اعلان کر رہا ہے۔ مگر گرفت اتنی شدید ہے کہ پاکستانی معیشت کا اس سے باھر آنا مشکل ہے، جبکہ یہ تازہ ترین عالمی معاشی گراوٹ پاکستانی معیشت کا مذید گلا گھونٹے گی۔

سرمایہ داری نظام کی ناکامیاں ہر میدان میں نظر آرہی ہیں۔ اس کا جواب ایک سوشلسٹ معیشت کے قیام سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔