اداریہ

ناظم الدین جوکھیو: پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

اداریہ جدوجہد

ضلع ملیر، سندھ، کے گاؤں سالار گوٹھ کے رہائشی نوجوان ناظم الدین جوکھیوکو قتل ہوئے 5 روز گزر چکے ہیں۔ ان کے قتل کے الزام میں سندھ میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس گہرام جوکھیو اور ان کے 2 سکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور وہ تینوں پولیس کی حراست میں ہیں۔

ناظم الدین جوکھیوکا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ایک ’سردار‘ کے مہمان عرب باشندوں کو اپنے گاؤں سالار گوٹھ میں ’تلور‘ کے غیر قانونی شکار سے روکنے کی کوشش کی، انکی ویڈیو بنائی اور پولیس کو کارروائی کیلئے فون کال کی۔

رکن اسمبلی جام اویس جوکھیو نے ناظم الدین کو انکے بھائی کے ذریعے اپنے ڈیرے پر طلب کیا اور تشدد کر کے انہیں قتل کر کے انکی نعش کو پھینک دیا گیا۔ پولیس نے رکن اسمبلی اور وڈیرے کے اس ظلم پر پردہ ڈالنے کیلئے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان جاری کر دیا کہ دو گروہوں میں تصادم کے دوران ناظم الدین ڈنڈوں سے تشدد کے باعث ہلاک ہو گیا ہے۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں پولیس نے بیان تبدیل کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ معراج نامی شخص نے ناظم الدین کی لاش سے متعلق پولیس کو اطلاع فراہم کی۔

ابتدا میں مرکزی ملزم جام اویس جوکھیوکے دونوں گارڈز کو پولیس کے حوالے کیا گیا تاکہ تمام ملبہ ملازمین پر ڈال دیا جائے اور بعد ازاں متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈال کر انہیں صلح پر مجبور کر دیا جائے گا۔ تاہم سوشل میڈیا پرواقع اور ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مجبوراً رکن اسمبلی جام اویس کا نام بھی مقدمہ میں لکھنا پڑا اور انہیں گرفتار بھی کرنا پڑا، لیکن اس وحشت ناک انداز میں ایک معصوم نوجوان کو قتل کرنے والے جام اویس جوکھیو کو پولیس کی جانب سے شاہانہ پروٹوکول دیئے جانے کے الزامات کو اس وقت تقویت پہنچنا شروع ہوئی جب پولیس نے جام اویس کو بغیر ہتھکڑی لگائے عدالت میں پیش کیا۔

نہ تو پاکستان میں عرب شہزادوں کے غیر قانونی شکار کا یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی وڈیروں، سرداروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی طرف سے اس وحشیانہ طریقے سے کیا جانے والا یہ پہلا قتل ہے۔

مشترک اور ناہموار ترقی کا شاہکار پاکستان جیسے معاشرے میں جدید سرمایہ دارانہ نظام کے فرائض بھی پورے نہیں کئے جا سکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جاگیردارانہ باقیات کی ریاست اور حکمران طبقات کیلئے ناگزیر حد تک اہمیت اس ریاست میں متعدد ریاستیں قائم کئے ہوئے ہے۔ ان ریاستوں سے متعلق قانون، آئین، سیاسی جماعتیں اور حکمران طبقات کے تمام دھڑے نہ صرف ایک پیج پر ہیں، بلکہ ان کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

سندھ کے دیہاتوں سمیت ملک کے دیگر حصوں کے پسماندہ دیہاتوں میں یہ وڈیرے اور سردار انسانوں کے مقدر کے مالک ہوتے ہیں۔ انکی مرضی کے خلاف نہ تو کوئی ووٹ دے سکتا ہے، نہ ہی ان کی مرضی کے خلاف کسی قسم کی سیاسی یا سماجی سرگرمی کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ تعلیم، روزگار اور صحت تک کے حصول کے سلسلہ میں ان وڈیروں اور سرداروں کے فیصلے ہی حتمی قرار پاتے ہیں۔ پولیس سے لیکر ریاست کا ہر ڈھانچہ ان وڈیروں اور سرداروں کیلئے ہمہ وقت ہر طرح کی خدمت کیلئے حاضر رہتا ہے۔

ان وڈیروں کے مظالم کی کوئی خبر اگر مین سٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا کی زینت بن بھی جائے تو قانون کی بھول بھلیوں سے انہیں مکھن سے بال کی طرح باہر نکالنے کا راستہ دکھانے کیلئے ہر شعبہ اور محکمہ حاضر خدمت رہتا ہے۔

ناظم جوکھیو کیس بھی میڈیا کی زینت بننے کے بعد یا تو یہ معاملہ محافظوں کے سر ڈال کر انہیں قربانی کا بکرا بنا دیا جائے گا، یا پھر مقتول کے ورثا پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں صلح کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے حکمران طبقات کوئی بھی اقدام کرنے میں سنجیدہ اس لئے نہیں ہیں کہ یہ قبائلی، سرداری اور وڈیرہ شاہی ڈھانچہ حکمران طبقات کے اس بحران زدہ نظام کے تحت حکمرانی کو جاری رکھنے اور اس نظام کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس ملک میں سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقلاب کے تقاضے پورے کرنے کیلئے بھی محنت کش طبقے کو اپنے کندھے ہی فراہم کرنا ہونگے۔ محنت کش طبقے کی ایک تحریک کے ذریعے ہی نہ صرف اس بوسیدہ ڈھانچے کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ سرمایہ دارانہ ریاست کا خاتمہ کرتے ہوئے ہر طرح کے استحصال سے پاک معاشرے کی تعمیر کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔