اداریہ

قاتلوں کو مذاکرات کی میز پر نہیں، کیفر کردار کو پہنچائے

اداریہ جدوجہد

نیا ریاستی بیانیہ تیار کیا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ صلح، مذاکرات، امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسی سیماب طبع ریاست شائد ہی دنیا کے کسی اور حصے میں پائی جاتی ہو۔

ابھی چند سال پہلے ہر روز شہریوں کو یاد دلایا جا رہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا چکی ہے۔ یہ اعلان کیا جا رہا تھا کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ یا تو کل جھوٹ بولا جا رہا تھا، یا اب: اگر دہشت گر شکست کھا چکے تھے تو شکست خوردہ سپاہ سے کون سا فاتح مذاکرات کرتا ہے؟

دوم، مذاکرات کے لئے کوئی مشترکہ نقاط ہوتے ہیں۔ کم از کم کسی ایک نقطے پر تو اتفاق موجود ہو۔ طالبان نہ تو پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں نہ قانون کو۔ عام شہری تو کجا، پارلیمان کو بھی معلوم نہیں کہ کن شرائط اور کس مشترکہ نقطے کے گرد مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سابق فاٹا کو طالبان کے حوالے کر دیا جائے گا (سوات ماڈل)۔

سوم، مذکورہ مذاکرات بارے پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی ہو یا طالبان، یہ ہمارے ہی بچے ہیں۔ بلوچ اور پشتون قوم پرست جوابی طور پر پوچھ رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کے پر امن کارکنوں اور بلوچستان کی گوریلا قوتوں کے بارے میں یہ رویہ کیوں اختیار نہیں کیا جا رہا۔ جن طالبان نے پاکستانی سپاہیوں کے سر قلم کر کے ان سے فٹ بال کھیلا اور سکول کے بچوں پر گولیاں برسائیں، ان سے تو مذاکرات جائز ہیں مگر ایک پشتو تقریر جس کا ایک سال سے اردو ترجمہ نہیں کرایا جا سکا، کی وجہ سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر پابند سلاسل ہیں۔ یہ دوہرے معیار سات پردے ڈال کر بھی چھپانا ممکن نہیں۔ نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں۔

سب سے اہم بات: ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ان سے صلح کے ہر معاہدے کے بعد، ان کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ تازہ ترین مذاکرات کے بعد وہ ایک بار پھر طاقتور ہوں گے۔ اگر ریاست کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کو سابق فاٹا اضلاع میں کھلا چھوڑ کر پی ٹی ایم کا بندوبست ہو سکے گا تو یہ خودکشی پر مبنی ایک حکمت عملی ہے۔

اگر مذاکرات کرنے ہیں تو پی ٹی ایم سے کیجئے، بلوچ قوم پرست قوتوں سے کیجئے۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے کی بجائے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ خون کی ہولی کھیلنے والوں کی جگہ عمربھر کے لئے جیل ہے۔ ان کے سہولت کاروں کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ ایک ٹرتھ کمیشن بننا چاہئے۔

ساتھ ہی ساتھ ایسے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں ان وجوہات کا خاتمہ ہو سکے جو دہشت گردی کو جنم دیتے ہیں: غربت ختم ہونی چاہئے، مدرسوں کو قومی ملکیت میں لیکر ملک بھر میں طبقاتی نظام تعلیم ختم ہونا چاہئے، طبقاتی عدم مساوات ہی نہیں قومی جبر بھی ختم ہونا چاہئے۔

وائے افسوس! موجودہ ریاست اور سیاسی قیادت سے اس کی کوئی بھی توقع رکھنا عبث ہو گا۔ اگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کو طالبان کا پارلیمانی ونگ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ رہی پی پی پی اور اے این پی تو سوات معاہدہ انہی جماعتوں نے کیا تھا۔ اس لئے اشد ضروری ہے کہ ملک بھر میں ترقی پسند قوتیں آگے بڑھیں۔ ایک تحریک تعمیر کریں جس کا خاتمہ امن، جمہوریت اور سوشلزم پر ہو۔

پاکستان آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں امن کا سوال بھی سوشلزم سے جڑ چکا ہے۔