سماجی مسائل

خود کشی کا بڑھتا ہوا رحجان

التمش تصدق

اس کرۂ ارض پر لاکھوں اقسام کے جاندار پائے جاتے ہیں۔ ان تمام جانداروں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ زندہ رہیں اور زندگی کے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے اپنی نسل آگے بڑھائیں۔ زندہ رہنے کے لیے تمام جانداروں کو توانائی کے حصول اور فطرت کی سختیوں کیخلاف مسلسل ایک جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ یہ جنگ بقا کی جنگ ہے جو کروڑوں سالوں سے جاری ہے۔ زندہ رہنے کی یہی جنگ ان جانداروں کی ترقی کا موجب بنی ہے۔ اگر حیوانی دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو یہ لڑائی ہمیں واضح نظر آتی ہے۔ جہاں خوراک کے حصول، دیگر جانوروں اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے تمام جانور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ انسانی ترقی جسے انسان کی خداداد صلاحیتوں اور غیر معمولی ذہانت کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے دراصل زندگی کو قائم رکھنے کی لاکھوں سالہ مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

تمام جانداروں سے زیادہ مادی اور ذہنی ترقی کے باوجود آج انسانوں کی بہت بڑی تعداد بقا کی اس فطری جنگ کو چھوڑ کر اپنی زندگیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے فنا کر رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں ایک شخص خود کشی کر رہا ہے اور یہ تعداد کسی بھی جنگ یا قدرتی آفت میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں نشے، انفرادی دہشتگردی اور دیگر غیر فطری طریقوں سے جان لینے والے شامل نہیں ہیں، جن کی بہت بڑی تعداد ہے۔ کرونا وبا کے بعد خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ خود کشی کرنے والے ان افرد میں سے اکثریت ایسی ہے جو کسی لاعلاج جسمانی بیماری کی اذیت سے نجات کے لیے نہیں بلکہ ذہنی اذیت سے نجات حاصل کے لیے اپنی جان دے دیتی ہے۔ اس کے علاوہ کروڑوں انسان ایسے ہیں، جو خود کشی کرتے تو نہیں ہیں لیکن زندگی میں کئی مرتبہ خود کشی کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جہاں تمام جاندار اپنی زندگی کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، انسان جب خود اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لیتا ہے تو اس بات سے انسانی دکھوں، تکلیفوں، اذیتوں اور مصائب کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ نظام کس قدر وحشیانہ اور غیر فطری ہے جس نے انسان کو ایسے کرب میں مبتلا کر رکھا ہے جس سے نجات کے لیے زندگی سے نجات چاہتا ہے۔

خود کشی کی مختلف سماجی اور معاشی وجوہات ہوتی ہیں، جن کو خود کشی کرنے والوں کے ذاتی ذہنی صحت کے مسائل قرار دے کر حقیقی وجوہات کو چھپا دیا جاتا ہے۔ خود کشی کی سب سے بڑی وجہ نفسیاتی امراض کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن نفسیاتی امراض کی وجوہات کو کارپوریٹ میڈیا اور بورژوا سائنس بتانے سے قاصر ہے۔ آخر کیا وجہ ہے انسان آج خود کو اتنا کمزور، بے بس، مایوس، لاچار اور تنہا محسوس کر رہا ہے۔ کیا وجوہات ہیں جنہوں نے انسانی زندگی سے خوشی اور سکون چھین لیا۔ انسان نے اس وقت ہمت نہیں ہاری تھی، جب یہ دیگرجانوروں سے کمزور تھا، اس کے ہاتھ میں پتھر اور لکڑی کے سادہ اوزار تھے، اس کا مقابلہ خون خوار درندوں کے ساتھ تھا۔ اس نے زندہ رہنے کے لیے آندھیوں اور طوفانوں سمیت جسم کو جلا دینے والی گرمیوں اور خون جما دینے والی سردیوں سے لڑائی لڑی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس عہد میں جب انسان نے نہ صرف دیگر تمام جانوروں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے بلکہ فطرت کی بہت سی قوتوں کو اپنے تابع کر دیا ہے۔ اس کے باوجود انسان خود کو وقت اور حالات کے سامنے اتنا کمزور اور بے بس محسوس کر رہا تھا جو اس نے تاریخ میں کبھی نہ کیا تھا۔

خود کشی جیسے غیر فطری عمل کی بنیادی وجہ سرمایہ داری کا معاشی جبر، نجی ملکیت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں جنم لینے والی طبقاتی تقسیم ہے۔ غربت، مہنگائی، بیروزگاری سمیت دیگر محرومیاں اور مجبوریاں انسان کو اس اذیت ناک زندگی سے نجات حاصل کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہر سال ہزاروں کسان قرض ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ساری دنیا میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بیروزگاری کی ذلت سے تنگ آ کر خود کشی کرتی ہے۔ منڈی کی اندھی قوتیں جب انسان کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہیں تو انسانوں کی بہت بڑی تعداد کو زندگی کے حق سے محروم کر دیتی ہیں۔ محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے افرد خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرتے ہیں۔ منڈی کے اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں مستقبل کے حوالے سے بے یقینی اور خوف زندگی سے ہی مایوس کر دیتا ہے۔ ان محرومیوں اور مجبوریوں سے نجات انفرادی طور پر اکثریت کے لیے موت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ بقول غالب:

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف انسانوں کی اکثریت کا معاشی قتل عام کرتا ہے بلکہ یہ انسان کے جذبات اور احساسات کو قتل کر کے اسے روحانی غربت میں غرق کر دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ طریقہ پیدوار کے نتیجے میں جنم لینے والی مقابلہ بازی، خود غرضی، تنہائی اور بیگانگی نے انسان کو کئی طرح کے نفسیاتی مسائل سے دو چار رکھا ہے۔ انسان معاشرتی حیوان ہے جو کبھی بھی تنہا خوش نہیں رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے سرمایہ داری کی انفرادیت اور مقابلہ بازی کی نفسیات نے اربوں انسانوں کی موجودگی میں بھی انسان کوتنہا کر دیا ہے۔ انسان دوسرے انسانوں کو اپنا مدمقابل اور دشمن سمجھتا ہے۔ کیوں کہ سرمایہ داری میں آگے بڑھنے کے لیے دوسرے انسانوں کو پیچھے دھکیلنا ضروری ہے۔ یہاں انسان کی کامیابی کے لیے دوسرے انسانوں کی ناکامی لازم ہے۔ محنت کشوں کی محنت کا استحصال کیے بغیر کوئی انسان امیر نہیں بن سکتا ہے۔ اس نظام میں ہر تعلق، ہر رشتہ لالچ، خود غرضی اور مفادات پر مبنی ہے۔ نظام زر میں کامیابی اور خوشی کا واحد ذریعہ پیسے کا حصول ہے۔ پیسے کے ذریعے حاصل ہونے والی خوشی بہت مصنوعی اور عارضی ہوتی ہے۔ سرمائے کے حصول کی لامتناعی دوڑ انسان کو درندہ بنا دیتی ہے۔ بے رحم استحصال کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مادی دولت بھی انسان کی روحانی غربت کا خاتمہ نہیں کرتی بلکہ اس میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ جس کا خاتمہ سرمایہ دار حکمران طبقہ صدقات و خیرات سمیت دیگر فلاحی کاموں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روحانی سکون کے لیے حکمران طبقے کے افراد بھی نشے اور تصوف کی طرف رخ کرتے ہیں، جب وہاں بھی سکون نہیں ملتا تو موت میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔ اس نظام میں سرمایہ دار حکمران طبقہ بھی خود سرمائے کے تقاضوں کا غلام ہے۔

خود کشی کی ایک بہت بڑی وجہ اس نظام کی پیدا کردہ بے مقصدیت ہے۔ انسان کو اپنا وجود بے کار لگنے لگتا ہے۔ اسے زندگی میں کوئی ایسا مقصد نہیں ملتا جس کے لیے وہ زندہ رہے۔ سرمایہ داری نے انسان کو اس کے تخلیقی عمل سے بیگانہ کر کے اس سے خوشی اور زندگی کا مقصد چھین لیا۔ پہلے انسان کو مختلف اشیا بنا کر خوشی ملتی تھی اور آج اشیا کو حاصل کر کے ملتی ہے۔ محنت کش طبقہ اپنی ہی بنائی ہوئی اشیا خرید نہیں سکتا ہے یوں وہ اس نظام کی جھوٹی خوشیوں سے محروم ہوتا ہے جو چیزوں کوحاصل کر کے ہوتی ہے۔ مارکس نے محنت کشوں کی اس نفسیاتی کیفیت کو فلسفہ بیگانگی میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

مارکس کے نزدیک انسان کا نوعی وصف، جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتا ہے، اس کا با اختیار اور شعوری تخلیقی عمل ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کا اظہار اور اس کی تشکیل اور تکمیل کرتا ہے۔ محنت اسی اظہار ذات اور تکمیل ذات کاایک ذریعہ ہے۔ انسانی محنت اسے دیگر حیوانات سے الگ بطور انسانی نوع کے تسلیم کرانے کا عمل ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ تخلیقی انسانی عمل سرمایہ دار کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔ سرمایہ داری میں مزدور کی حیثیت مشین کے کسی پرزے سے زیادہ نہیں ہے اور مزدور کی حرکت بھی میکانکی طرز کی ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اپنے کام سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ہے۔

یہی وجہ انسانوں کی اکثریت یعنی محنت کش اپنی محنت اور محنت کے نتیجے میں ہونے والی پیداوار سے بیگانہ ہو جاتی ہے۔ کیوں کے محنت کشوں کی محنت ان کی اپنی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ ان کی ذات سے خارج شے بن جاتی ہے، جس پر انکا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ محنت سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، وہ بھی سرمایہ دار کی ملکیت ہوتا ہے، جن آلات پیدوار کے ذریعے وہ محنت کرتا ہے، وہ بھی سرمایہ داروں کی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی ہی پیدوار سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ محنت، محنت کی پیدوار اور دوسرے انسانوں سے بیگانگی کے نتیجے میں انسان کا محنت کرنے اور زندہ رہنے کا واحد مقصد پیٹ بھرنا اور بچے پیدا کرنا رہ جاتا ہے۔ یہی بیگانگی انسان کی اپنی زندگی سے بیزاری اور سماج سے لاتعلقی سے ہوتی ہوئی سماج دشمنی اور دیوانگی کی حد تک جا سکتی ہے۔ جہاں انسان نہ صرف خود کشی کے ذریعے اپنی جان لیتا ہے بلکہ خود کش بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں کے ذریعے اور انسانوں کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا ہے۔

جب تک غیر انسانی اور غیر فطری سماج موجود ہے، انسانی زندگی یوں ہی کرب اور اذیت کا شکار رہے گی۔ اسی طرح انسان موت میں زندگی اور قبر میں سکون تلاش کرتا رہے گا۔ اس نظام کے جبر سے نجات کا انفردی حل اکثریتی انسانوں کے لیے خود کشی ہے، لیکن کروڑوں انسان اجتماعی خود کشی نہیں کر سکتے ہیں۔

محنت کش بقا کی فطری جدوجہد کرتے ہوئے انقلاب کے ذریعے اس نظام کا ہی خاتمہ کر دیں گے جو انسانوں کو غیر فطری موت دے رہا ہے۔ تاریخ ایسے انقلابات سے بھری پڑی ہے، جب کوئی نظام اکثریتی انسانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو جائے محنت کش عوام اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ آج سرمایہ دارانہ نظام بھی اکثریتی انسانوں کے لیے ناقابل برداشت ہو کر رہ گیا ہے۔ منافع خوری اور خود غرضی پر مبنی نظام کو شکست دے کر ہی انسانوں کو تنہائی، بیگانگی اور مایوسی کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔

سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے نجی ملکیت کا خاتمہ کرتے ہوئے ہی انسانی زندگی پر منڈی کی بے رحم قوتوں کے بجائے انسان کا اپنا اختیار قائم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں انسانی تخلیقی عمل اس کی مجبوری نہیں شوق ہو گا۔ جہاں زندگی پر موت اور حال پر ماضی غالب نہ ہو۔ جیسا ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ”زندگی بہت خوبصورت ہے مگرالمیہ یہ ہے کہ انتہائی بدصورت اور وحشیانہ نظام زر کی جکڑ بندیوں میں مقید ہے۔ سوشلزم کا بنیادی مقصد زندگی کی جبر سے آزادی ہے۔“

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔