شاعری

غزل: کون ہے صبح کی جبینوں میں

قیصر عباس

کون ہے صبح کی جبینوں میں
کس کی آہٹ ہے خوابگینوں میں

دل کے ساحل پہ کون اترا ہے
کس کی تصویر آبگینوں میں

سرخ ہونٹوں پہ چاہتوں کے گلاب
فاصلے بات کے قرینوں میں

ذات کی جنگ تھی حریفوں کی
زخم کیوں ہیں ہمارے سینوں میں

دشت احساس کے مسافر لوگ
مر گئے سوچ کے قرینوں میں

میں کہ شہرالم کا خاک نشیں
مجھ کو بونا مری زمینوں میں

کھوگئے گھر کے راستے قیصرؔ
کب سے بیٹھا ہوں رہ نشینوں میں

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔