سوچ بچار

ابو بکر سے ملاقات پر ایک پشتون بچے کا عمران خان کو خط

فاروق سلہریا

ڈئیر عمران خان انکل، سلامونہ۔

چند روز پہلے میں نے وہ ویڈیو دیکھی جس میں ابو بکر کی قمیض پر آپ نے آٹو گراف دئیے۔ مجھے بہت اچھا لگا۔ میرا دل چاہا میں بھی آپ سے ملوں اور آٹو گراف لوں۔ میں ویسے آپ کی سیاست کا حامی تو نہیں لیکن مجھے کرکٹ سے بہت پیار ہے اس لئے میں آپ کے آٹو گراف لینا چاہتا ہوں۔

ابو بکر والی ویڈیو دیکھ کر ابھی میرے دل میں آپ سے آٹو گراف لینے کی خواہش پنپ ہی رہی تھی کہ تین دن پہلے پشاور میں دو سکھ انکلز کو ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے والے ایک انکل کا نام رنجیت سنگھ تھا اور دوسرے انکل کا نام کلجیت سنگھ تھا۔ میرے ماما جو پشتون تحفظ مومنٹ کے کارکن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 2014ء کے بعد سے پشاور کے سکھ رہائشیوں پر یہ دسواں حملہ ہے۔ اس حملے کے بعد میرے دل میں خیال آیا کہ آپ کو آٹو گراف دینے کے لئے ابو بکر یا میرے جیسے پشتون بچوں کی بجائے ان سکھ انکلز کے بچوں کو بلانا چاہئے۔ شائد وہ ابو بکر سے بھی زیادہ روتے ہوئے آپ سے ملیں۔ آپ بے شک ان کو آٹو گراف بھی مت دینا لیکن ان سے پلیز ضرور ملیں۔ ہمارے صوبے میں آپ کی حکومت ہے۔ ان سکھ بچوں کو انصاف تو کبھی نہیں ملے گا لیکن شائد آپ سے مل کر تھوڑا سا دلاسہ مل جائے۔

میں ابھی یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ہمارے گاؤں سے کچھ رشتہ دار ہمارے پاس پشاور آ گئے۔ وہ میرے پھوپھی زاد اکرم وزیر کا علاج کرانے پشاور آئے ہیں۔ ہماری پھوپھو وزیرستان میں رہتی ہیں۔ اکرم وزیر کی ایک ٹانگ لینڈ مائن پھٹنے سے ضائع ہو گئی تھی۔ میں جب بھی گاؤں جاتا ہوں تو وہاں، بلکہ راستے میں بھی، کتنے ہی بچے نظر آتے ہیں جو بیساکھیوں پر چلتے ہیں۔

عمران انکل! آپ ان بچوں کو بھی ضرور بلائیں اور ان کی قمیض پر آٹو گراف دیں تا کہ وہ اپنی قمیضیں بیچ کر اپنا علاج کرا سکیں۔ مجھے معلوم ہے تحفے بیچنا اچھی بات نہیں ہوتی۔ مجھے ابوبکر سے پورا اتفاق ہے کہ کوئی بے غیرت ہی تحفہ بیچ سکتا ہے لیکن انکل اگر کوئی مجبور پشتون بچہ آپ کی آٹو گراف والی قمیض بیچ کر لینڈ مائن میں ضائع ہونے والی ٹانگ کی جگہ مصنوعی ٹانگ لگوا لے تو ہمیں اسے کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ یہ بے غیرتی نہیں مجبوری ہو گی۔

آخر میں انکل آپ سے یہ بھی کہنا تھا کہ آپ اپنے جلسوں میں ہمارے گاؤں والے ایم این اے علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ بھی کریں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انکل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق آپ کہتے ہیں، سندھ پولیس ہر بار علی وزیر کو گرفتار کر لیتی ہے۔ علی وزیر کا بیٹا میرا دوست ہے۔ جب میں گاؤں جاتا تھاتو اس کے ساتھ فٹ بال کھیلتا تھا۔ جب سے علی انکل جیل گئے ہیں، وہ اداس سا رہتا ہے۔ فٹ بال کھیلنا چھوڑ گیا ہے۔ کہتا ہے کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھتا ہے، اس لئے اس کے پاس فٹ بال کھیلنے کا وقت نہیں۔ اس کی دادی بہت پیاری ہیں۔ ہم سب ان کو مور کہتے ہیں۔ مور پشتو میں ماں کو کہتے ہیں۔ اب گاؤں جاتا ہوں تو میرا بھی دل چاہتا ہے میں فٹ بال کھیلنے کی بجائے ان کا خیال رکھوں۔

امید ہے آپ کی سوشل میڈیا ٹیم یہ خط آپ تک پہنچا دے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا خط وائرل ہو مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ آپ ان سارے سکھ بچوں سے ضرور ملیں جن کے والدین ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے اور ان سارے بچوں کی قمیضوں پر آٹو گراف دیں جن کی ٹانگیں طالبان کی لگائی لینڈ مائنز میں ضائع ہو گئیں۔ جس محبت سے آپ ابو بکر سے ملے اس کی وجہ سے مجھے پورا یقین ہے آپ میری بات ضرور مانیں گے۔

خدائی پہ امان۔

سلطان ٹیپو خان

(یہ مضمون شہاب خٹک ایڈوکیٹ کے ایک ٹویٹ سے متاثر ہو کر لکھا گیا)

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔