خبریں/تبصرے

آئی ایم ایف سے معاہدہ: پٹرول کی قیمت میں ہر ماہ 5 روپے اضافہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مابین منگل کی رات وفاقی بجٹ برائے 2022-23ء پر ایک مفاہمت ہو گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ہر ماہ 5 روپے بڑھاتے ہوئے 50 روپے تک عائد کی جائیگی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ واپس لیا جائے گا، تنخواہوں، پنشن کیلئے مختص 200 ارب روپے ’رینی ڈے فنڈ‘ (ہنگامی حالات کیلئے مختص فنڈ) سے تبدیل ہونگے، ٹیکس وصولی کے ہدف میں 422 ارب روپے تک نظر ثانی اور فرموں کو مختلف سلیبوں میں غربت ٹیکس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مجموعی طور پر حکام کی جانب سے 436 ارب روپے کے مزید ٹیکس پیدا کرنے کے عزم کے بعد توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کو بحال کیا گیا ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق یہ مفاہمت وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں آئی ایم ایف کے عملے کے مشن اور پاکستانی اقتصادی ٹیم کے درمیان ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی ملاقات کے دوران طے پائی۔

آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ایستھر پریزروئز نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مالی سال 2022-23ء کے بجٹ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے بتایا کہ ”آئی ایم ایف کے عملے اور حکام کے درمیان آنے والے سال میں میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط بنانے کی پالیسیوں پر بات چیت جاری ہے۔“

آئی ایم ایف مشن اگلے چند دنوں میں اسٹیٹ بنک کے ساتھ مالیاتی اہداف کو حتمی شکل دے گا اور اس دوران اقتصادی اور مالیاتی پالیسی (ایم ای ایف پی) کی یادداشت کے مسودے کا اشتراک کرے گا۔

ایم ای ایف پی میں کچھ پیشگی کارروائیاں بھی شامل ہونگی، جو آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کیلئے پاکستان کے کیس کو اٹھانے اور اس کے نتیجے میں اگلے ماہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی ادائیگی سے پہلے عمل درآمد کیلئے ضروری ہونگی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مشن کا اعتماد جیتنے کیلئے پاکستانی فریق نے تمام پی او ایل مصنوعات پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی وصول کرنا شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا، جسے بتدریج 5 روپے ماہانہ بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 50 روپے تک پہنچایا جائے گا۔

اس کے علاوہ حکومت نے 150 ملین روپے کمانے والی فرموں پر 1 فیصد، 200 ملین روپے کمانے والوں پر 2 فیصد، 250 ملین روپے سے زیادہ کمانے والی فرموں پر 3 فیصد اور 300 ملین روپے سے زیادہ کمانے والی فرموں پر 4 فیصد غربت ٹیکس لگانے پر بھی اتفاق کیا۔ اصل بجٹ میں حکومت نے صرف 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے والوں پر 2 فیصد غربت ٹیکس لگایا تھا۔

حکومت نے اضافی تنخواہوں اورپنشن کی دفعات کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس کیلئے 200 ارب روپے بلاک مختص کئے گئے تھے، اس کی بجائے ہنگامی حالات کیلئے الگ سے مختص کیا گیا تھا لیکن یہ سختی سے ہنگامی حالات جیسے سیلاب اورزلزلے کیلئے ہو گا تاکہ یہ رقم خرچ نہ ہو۔

پاکستان نے 152 ارب روپے کا بنیادی بجٹ سرپلس فراہم کرنے کا بھی عہد کیا، جس کا مطلب ہے کہ محصولات سود کی ادائیگیوں کے علاوہ تمام اخراجات کو پورا کرینگے اور پھر بھی 152 ارب روپے کا سرپلس پیدا کرینگے۔

آئی ایم ایف کی ٹیم اب خالص بین الاقوامی ذخائر اور خالص ملکی اثاثوں کے اہداف کو حتمی شکل دے گی، تاہم معاہدے کے تحت سب کچھ طے پا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف ٹیم جمعہ کو اپنا مسودہ ایم ای ایف پی حکومت کے ساتھ شیئر کریگی۔

اتحادی حکومت نے آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کو راضی کرنے کیلئے اضافی ٹیکس اقدامات کرتے ہوئے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف کو تقریباً 422 ارب روپے تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ان ٹیکسوں کو غریبوں پر بوجھ میں اضافے کی بجائے ٹھوس اضافی ٹیکس اقدامات قرار دیا جائے گا اور اعلان وزیر خزانہ حتمی بجٹ تقریر میں کرینگے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے 2022-23ء کیلئے 7004 ارب روپے سے لے کر 7426 ارب روپے کرنے کیلئے ایف بی آر کی منظوری کے بعد ایک باضابطہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اندرونی ذرائع کے مطابق بڑے فیصلوں میں سے ایک زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کیلئے زیادہ سلیب میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنا بھی تھا، تاہم 1.2 ملین روپے تک کی چھوٹ برقرار رہے گی۔

بجٹ میں ایف بی آر کے ریونیو بیس کا تخمینہ 2021-22ء کے لیے 5.818 ہزار ارب روپے لگایا گیا تھا، جس کا تخمینہ اب 6.1 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہو گا۔