خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: سرکاری ملازمت کیلئے ’نظریہ الحاق پاکستان‘ پر حلف کی تقریب لازمی قرار

راولاکوٹ (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک کسی بھی سطح کی سرکاری ملازمت کیلئے ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریہ پر حلف اٹھانے کا باضابطہ طریقہ کار واضع کر دیا گیا ہے۔

محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے 6 جولائی کو نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جملہ محکمہ جات کے سربراہان کو ہدایات جاری کی گئی ہے کہ ’سرکاری ملازمت میں لئے جانے پر متعلقہ شخص کیلئے مذکورہ قواعد کے ساتھ منسلک شیڈول کے مطابق حلف اٹھانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔‘

نوٹیفکیشن میں لکھا گیا ہے کہ ’مشاہدہ میں آیا ہے کہ سرکاری محکمہ جات میں ملازمت حاصل کرتے وقت قاعدہ پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا۔ مجاز اتھارٹی پر لازم ہے کہ کسی بھی شخص کو سرکاری ملازمت کیلئے جانے سے متعلق احکامات تقرری کی حوالگی سے قبل اس سے متذکرہ بالا قاعدہ کے تحت باقاعدہ حلف لیا جائے تاکہ ملازم حلف نامہ کے مندرجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکاری امور کی انجام دہی شروع کر سکے۔‘

نوٹیفکیشن میں مزید لکھا گیا کہ متذکرہ بالا قاعدہ معہ عکسی نقل نمونہ حلف نامہ لف ہذا کرتے ہوئے تحریر ہے کہ بمہربانی اپنے ماتحت محکمہ جات کے جملہ افسران اور ملازمین سے مطابق نمونہ حلف لینے کو یقینی بنایا جائے اور اس حلف نامہ کو متعلقہ ملازم کی ذاتی مسل سروس ریکارڈ کا حصہ بنانے کے علاوہ سروس ریکارڈ میں اس اہم ایونٹ کا باقاعدہ اندراج بھی فرمایا جائے۔ نیز آئندہ کیلئے ہر ملازم کی حاضری رپورٹ کی قبولیت سے قبل حلف برداری کی مختصر مگر رسمی تقریب کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے تاکہ سرکاری ملازمتوں کے ڈھانچہ کی نظریاتی اساس کے تحت کی تجدید ہو سکے۔‘

مذکورہ نوٹیفکیشن کے ساتھ منسلک حلف نامہ کو چار نکات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حلف اٹھانے والے کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ”آزاد جموں و کشمیر اور ایسی حکومت کا وفادار رہوں گا، جو قرآن و سنت، عبوری آئین ایکٹ 1974ء اور نظریہ الحاق پاکستان کی وفادار ہو گی۔ میں کسی ایسی تحریک میں بالواسطہ یا بلاواسطہ، ظاہری یا خفیہ طور پر کوئی حصہ نہیں لوں گا، جو نظریہ الحاق پاکستان کے نصب العین کے مغائر ہو۔ میں ہر قسم کے لسانی، علاقائی، قبیلائی اور گروہی تعصبات سے بالاتر رہ کر ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا۔ اپنے فرائض منصبی پوری محنت، دیانت، خلوص نیت اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر رہ کر سرانجام دونگا، اس ضمن میں نہ تو کسی سے رشوت لونگا، نہ کوئی ناجائز سفارش سنوں گا اور نہ ہی کوئی ناجائز سفارش کروں گا۔“

یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں نافذ العمل عبوری آئین ایکٹ 74ء کے تحت ملازمت کے حصول سے لیکر سیاسی تنظیم رجسٹرڈ کروانے، انتخابات میں حصہ لینے اور کسی بھی نوع کے کاروباری لائسنس کے حصول تک ’نظریہ الحاق پاکستان‘ پر یقین رکھنے کا حلف لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

تاہم حالیہ نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی سطح کے ملازم کی تقرری کے بعد اسکی حاضری رپورٹ سے قبل اس کیلئے ایک رسمی تقریب منعقد کرتے ہوئے اس تقریب میں لوگوں کے سامنے اس سے یہ حلف لیا جانا ضروری ہو گا۔

حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن کو ترقی پسند حلقوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور آئین پاکستان کے مغائر قرار دیا ہے۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ایکٹ 74ء میں بھی تضادات موجود ہیں۔ ایک طرف ایکٹ کا آغاز ہی اس بات سے ہو رہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔ تاہم اگلے ہی لمحے ایکٹ 74ء میں کسی بھی نوع کی سرگرمی کو الحاق پاکستان پر یقین کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ریاست جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے، اس خطے کے لوگو ں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس وقت تک کسی بھی ریاست کے ساتھ وفاداری یا الحاق پر یقین رکھنے کا حلف لینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

جے کے این ایس ایف کے ترجمان بدر رفیق نے اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس خطے میں آزادی اور انقلاب کی آواز وں کو دبانے اور ان کی تضحیک و تذلیل کے ساتھ ساتھ ان کیلئے روزگار کے راستے بند کرنے کی ایک سازش ہے۔

انکا کہنا تھا کہ یہ عمل نوجوانوں میں آزادی اور انقلاب کیلئے کام کرنے کی صلاحیتوں کو ختم کرنے اور والدین پردباؤ ڈالنے کیلئے کیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنی اولادوں کو آزادی اور انقلاب کا نام لینے سے خود ہی اس لئے روک لیں کہ مستقبل میں انہیں روزگار ملنے سمیت دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ روزگار چھیننے اور زندگی گزارنے کے راستے مسدود کرنے کے عمل کے ذریعے سے اس خطے سے آزادی اور انقلاب کی آوازوں کو دبانے کا یہ ہتھکنڈہ کسی صورت کامیاب نہیں ہو گا۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ان کالے قوانین، جبری بندشوں اور نو آبادیاتی طرز عمل کے خلاف بھرپور رد عمل کا مظاہرہ کرے گی۔ ریاست جموں کشمیر کے ہر باسی کا اس خطے کے وسائل اور پیدا ہونے والے روزگار پر برابر کا حق ہے، چاہے وہ ریاست کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی نقطہ نظر کا حامی ہو۔ جبر کے ہر اصول کے خلاف بغاوت کی جائے گی۔