خبریں/تبصرے

پی ٹی آئی کی ایکسپورٹڈ حکومت کے خلاف جموں کشمیر میں عام بغاوت، پونچھ مکمل بند

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں 2جولائی 2022ء سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے خلاف ریاستی جبر اور تشدد کارگر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ نہ صرف یہ تحریک تمام اضلاع تک پھیل چکی ہے بلکہ پونچھ ڈویژن بھر میں تحریک انصاف کی مقامی حکومت کی رٹ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

ہفتہ 6 اگست کو پونچھ ڈویژن بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ مختلف اضلاع و تحصیلوں کو پاکستان کے دارالحکومت سے ملانے والی اور دیگر رابطہ سڑکوں کو مکمل طور پر بند کیا گیا۔ ٹرانسپورٹروں نے رضاکارانہ طور پر ٹرانسپورٹ سڑکوں پر لانے سے انکار کیا۔ مرکزی اور نواحی شہروں، بازاروں اور قصبہ جات میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ دن بھر سڑکیں سنسان رہیں، بازار ویران رہے۔

انتظامیہ کی جانب سے سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کر رکھا گیا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ کسی نے بھی سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اس کے خلاف فوری کاررائی کی جائے گی اور کوئی سڑک بند نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم ہفتہ کے روز علی الصبح ہی تمام سڑکوں پر نوجوانوں نے مختلف رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اتنے مقامات پر یہ اقدامات کئے گئے تھے اورمظاہرین کی اتنی بڑی تعداد اس احتجاج میں شامل تھی کہ انتظامیہ کسی ایک جگہ بھی کارروائی نہ کر سکی۔ پولیس اور انتظامیہ ضلعی صدر دفاتر میں مقید ہو کر رہ گئے۔

مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کا انعقاد بھی کیاگیا۔ ضلع حویلی میں بڑی احتجاجی ریلی منعقد کی گئی، ضلع نیلم میں بھی ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ پونچھ ڈویژن کے صدر مقام راولاکوٹ میں آل پارٹیز کا اجتماع منعقد کیا گیا۔ تمام سڑکوں کی بندش کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین پیدل شہر میں پہنچے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

یہ صورتحال ایک طویل عرصہ بعد سامنے آئی ہے، ماضی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف 11 سال قبل پونچھ ڈویژن میں تاجروں کی کال پر ہڑتال اور احتجاج ہوا تھا جس میں تین روز تک مسلسل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی تھی۔ اس احتجاج کے بعداس خطے کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ دیا گیا تھا۔

موجودہ احتجاج کا آغاز بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ کے خلاف ہی ہوا تھا، جس میں وقت کے ساتھ دیگر مطالبات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ احتجاج کو کچلنے کی حکومتی پالیسی نے اس احتجاج کو مزید تقویت فراہم کی ہے۔ 400 سے زائد لوگوں کے خلاف مقدمات درج کئے جانے اور ڈیڑھ درجن سے زائد سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد یہ احتجاج میرپور اور مظفرآباد ڈویژن میں بھی پھیل چکا ہے۔

ابھی تک اس احتجاج میں تمام سیاسی جماعتیں، مذہبی جماعتیں اور حتیٰ کہ انتہا پسند گروہوں کے نمائندگان بھی شامل ہیں۔ ترقی پسند اور قوم پرست رجحانات بھی کثیر تعداد میں اس تحریک میں شامل ہیں۔ تاہم وزیر اعظم تنویر الیاس اور ان کے ترجمان کی جانب سے اس احتجاج میں شامل تمام لوگوں کو قوم پرست، فوج مخالف اور بھارتی خفیہ ادارے را کا ایجنٹ قرار دے رکھا ہے۔

بڑے پیمانے پر عوامی تحرک نے حکومت کو ایک مرتبہ پھر عوامی قوت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور مذاکرات کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔ قوی امکانات ہیں کہ فوری طور پر مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی اور گرفتار شدگان کی رہائی پر آل پارٹیز کی جانب سے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا جائے۔ اس اعلان اور یقین دہانی سے یہ تحریک وقت طور پر ٹھہراؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

تاہم اس تحریک کے مطالبات اور جوش و جذبہ میں جس تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وہ اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس تحریک کو مکمل طورپر حکومتی یقین دہانیوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ابھی محض آغاز کا بھی آغاز ہے۔ اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو قومی محرومی اور شاؤنزم کے نام پر ماضی میں بھی متعدد مرتبہ سیاسی طور پر استعمال کرتے ہوئے اس خطے کی مقامی حکمران اشرافیہ نے اپنے مفادات کو تحفظ اور اپنے اقتدار کے راستے ہموار کئے ہیں۔

گزشتہ 75 سال میں یہ پہلا ایسا بڑا عوامی ابھار ہے، جس میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے اس خطے پر نو آبادیاتی قبضے کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبقاتی مسائل اور وسائل سے مقامی آبادیوں کو محروم کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ داروں کو قبضہ دلانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی موجودگی نے اس تحریک کو پھیلانے میں نہ صرف ایک کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ اس خطے میں موجود وسائل اور عوامی محرومیوں کا ادراک حاصل کرنے میں نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا ایک اہم ہتھیار بنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تنگ نظر قوم پرستی اور تعصبات کی بنیاد پر سیاست کرنے والی قوتیں بھی طبقاتی مسائل کو اجاگر کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ تحریک کی طاقت نے رجعتی اور بنیاد پرست قوتوں کو بھی روزگار، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے وسیع عوامی جڑات اوریکجہتی کے پیغامات دینے پر مجبور کیا ہے۔ روایتی سیاست میں شریک حکمران اشرافیہ کی نمائندہ جماعتوں کی قیادتیں بھی تحریک کے زور کی بنیاد پر ان مطالبات اور پروگرام پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جن کی بات کرنے والوں کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے پر اکتفا کیا جاتا رہا ہے۔

حکمران اشرافیہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی عوامی تحریک کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جس کے ذریعے سے مقامی نو آبادیاتی طرز کی حکومت کے معمولی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ گزشتہ 75 سال سے اس خطے کے پاکستانی ریاست کے ساتھ آئینی تعلق کی وضاحت اور اختیارات کی تقسیم کے نام پرآنے والی تمام ترامیم اور ایکٹ ہا کے سامنے یہ حکمران اشرافیہ ہمیشہ سرتسلیم خم کرتی آئی ہے۔ ہمیشہ اپنے اختیارات چھن جانے پر عوامی جذبات کو ابھار کر قومی محرومی اور شاؤنزم کے نام پر اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے اور اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کرنے میں یہ حکمران اشرافیہ پیش پیش رہی ہے۔

انقلابی قوتوں کی اس تحریک میں موجودگی اور مسلسل وضاحت کا عمل محنت کشوں اور نوجوانوں کو نتائج اخذ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹیوں کے ذریعے شروع ہونے والی اس تحریک کو وقتی طور پر ٹھنڈا تو کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ پہلے سے زیادہ طاقت سے دوبارہ ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انقلابی قوتوں کی واضح انقلابی پروگرام کے ساتھ اس تحریک کے اندر موجودگی اور ہر اؤل کردار اس تحریک کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر میں پھیلانے کا موجب بن سکتا ہے۔ اس خطے سے ابھرنے والے بغاوت کے شعلے پورے برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لینے میں دیر نہیں کرینگے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔