خبریں/تبصرے

ایران: مہسا امینی کے حراستی قتل کے بعد پرتشدد مظاہرے، 2 افراد ہلاک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ایران میں حجاب پولیس (اخلاقی پولیس) کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور ریاستی جبر سے 2 افراد کی ہلاکت کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق کرد حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ایران میں پیر کو ایک نوجوان خاتون کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔ خاتون کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے تیسرے روز بھی جاری رہے۔

مہسا امینی کواخلاقی پولیس کی جانب سے حجاب کے سخت قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا، جہاں تشدد کے باعث ان کی ہلاکت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد کرد علاقہ، جہاں کی وہ رہائشی تھیں، تہران اور دیگر شہروں سمیت متعدد علاقوں میں مظاہرے شروع ہوئے۔

رائٹس گروپ کے مطابق ہلاکت ہونے والے دونوں افراد کو کرد علاقے کے ایک قصبے دیوانداررہ میں قتل کیا گیا، جہاں مظاہرے سب سے زیادہ شدید رہے ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے ہلاکتوں سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی، تاہم یہ ضرور بتایا ہے کہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی نے دو زخمی نوجوانوں کی ویڈیوز کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر ہلاکتوں کے دعوؤں کو مسترد کیا۔ تاہم جن زخمیوں کے نام سرکاری ٹی وی پر بتائے گئے، وہ ہلاک ہونے والے افراد کے ناموں سے مختلف تھے۔

رائٹس گروپ کے مطابق پیر کے روز مظاہروں میں کم از کم دو شہری فواد قادری اور محسن محمدی ہسپتال میں دم توڑ گئے اور 15 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ قبل ازیں رائٹس گروپ کی جانب سے ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مظاہرین کو پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا تھا کہ دیوانداررہ میں جنگ ہو رہی ہے، ملعون ایجنٹ حملہ کر رہے ہیں۔

ادھر مہسا امینی کی موت کی ملک بھر میں مذمت کی جا رہی ہے، لاکھوں افراد سوشل میڈیا پر اس قتل کی مذمت کر رہے ہیں۔

ایرانی صحافی مسیح علی نجد کی جانب سے ٹویٹر پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایرانی خواتین حجاب پولیس کے ہاتھوں مہسا امینی کے قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے بال کاٹ رہی ہیں اور حجاب جلا کر اپنے غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’7 سال کی عمر سے اگر ہم اپنے بال نہیں ڈھانپیں گے تو ہم سکول نہیں جا سکیں گے اور نہ ہی نوکری حاصل کر سکیں گے۔ ہم اس صنفی امتیازی نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

ایک زخمی نوجوان کو اٹھاتے ہوئے لوگوں کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مسیح علی نجد نے لکھا کہ ’یہ ہے اصل ایران، سکیورٹی فورسز نے مہسا امینی کی تدفین کے بعد پر امن مظاہرین پر فائرنگ کر دی، متعدد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ پہلے حجاب پولیس نے 22 سالہ لڑکی کو قتل کیا اور اب غمزدہ لوگوں کے خلاف بندوق اور آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

یاد رہے کہ ایران کی اخلاقی پولیس 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے نافذ کردہ سخت قوانین کے نفاذ کیلئے کام کرتی ہے۔ ان قوانین کے تحت خواتین کو اپنے بالوں کو ڈھانپنے اور عوام میں ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے لازمی ہوتے ہیں۔