شاعری

دھیرے چلو!

قیصر عباس

کچے گھروندوں کے بکھرتے کھنڈر
پانیوں پرتیرتی بے جان جسموں کی کشتیاں
اپنے ہی بوجھ تلے ڈوبتے، ابھرتے لوگ
سہمے بچوں کا ہاتھ تھامے
گر تی پڑتی، خود کو سنبھالتی
”بے پردہ، بے حیا عورتیں“
اخبار کی سرخی کتنی جاندار ہے بھائی!

الیکشن فوری طور پر کرائے جائیں
دس لاکھ جاں نثارتیار ہیں لانگ مارچ کے لئے
پوری قوم کھڑی ہے میرے ساتھ
چوروں کی ساری وکٹیں گراؤں گا
خان پور میں ہزاروں کا جلسہ!

الحمدللہ کپتان نے پھربنائی ہے سنچری
ٹی ٹونٹی میں انگلینڈ کا دھڑن تختہ
ہماری پوری ٹیم فارم میں ہے
ورلڈ کپ بھی جیتیں گے انشااللہ
PCB کاپیغام، قوم کے نام!

ولایت سے جلد واپس آؤں گا (جیل میں)
ملک بڑے نازک دور سے گزر رہا ہے
IMF کا قرضہ بڑی کامیابی ہے بھائی
آنے ہی والی ہے غیبی امداد
انجیلینا جولی تو پہنچ بھی گئی آج
کتنے کی ہوگی نازک انگلیوں میں ہیرے کی انگوٹھی؟
پاکستان کو مدد کی شدید ضرورت ہے: جو بائیڈن

روس بھی تو گیس دے رہا ہے ہمیں
کچھ شہرتو واپس بھی لے لیے ہیں یوکرین نے
کچھ سنا تم نے؟
پتن میاں ہزاروں فوجی اور جھونک رہے ہیں جنگ میں
ٹی وی پر Tikker صبح سے چل رہاہے، جیو اور جینے دو!

دیوان خاص میں عصرانہ ہے آج
خاص لوگوں کے لئے
ظّلِ الٰہی تشریف لائیں گے بہ نفسِ نفیس
”ہم آس لگائے بیٹھے ہیں، تم وعدہ کرکے بھول گئے“
کیا خوبصورت راگ ہے، راگ درباری!

”سمے او! دھیرے چلو، دھیرے چلو
یہ ہوا سب لے گئی
کارواں کے نشاں بھی اڑا لے گئی
اڑتی ہواؤں والے ملیں گے کہا ں
دھیرے چلو“
کمال کا شاعر ہے گلزار بھی!

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔