خبریں/تبصرے

برازیل انتخابات کل: بائیں بازو کی فتح کے امکانات، کیا بولسنارو ہار قبول کرینگے؟

لاہور (جدوجہد رپورٹ) برازیل کے صدارتی انتخابات کل اتوار کے روز منعقد ہو رہے ہیں۔ انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامل صدر بولسنارو کا مقابلہ بائیں بازو کے سابق صدر لولاڈی سلوا سے ہے۔

لولا ڈی سلوا ایک سابق یونین لیڈر ہیں، وہ 2003ء سے 2010ء تک برازیل کے صدارتی عہدے پر فائز رہے ہیں۔ وہ برازیل کے غریبوں کی بہتری، ایمیزون کے جنگلات کے تحفظ اور برازیل کی مقامی کمیونٹیز کی حفاظت کیلئے بائیں بازو کے پلیٹ فارم سے صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق انسانی حقوق کی وکیل ماریا لوئیسا مینڈونسا نے بتایا کہ لولا ڈی سلوا کو برازیل کے ایک وسیع اور نچلی سطح تک پھیلے اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔

سروے پولز سے بھی پتہ چلتا ہے کہ لولا ڈی سلوا کو بولسنارو پر مضبوط برتری حاصل ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ رن آف سے بچنے کیلئے درکار ووٹوں کی اکثریت حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ پوڈ کاسٹ ’برازیل آن فائر‘ کے میزبان رپورٹر مائیکل فاکس کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت ہوا جب بولسنارو اور ان کی پارٹی انتخابات ہارنے کی صورت میں بغاوت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

فاکس کا کہنا ہے کہ ’بغاوت کے خوف کے باوجود برازیل میں لوگ واقعی پر امید ہیں کہ وہ اتوار کو تبدیلی دیکھنے جا رہے ہیں۔‘