خبریں/تبصرے

تین راہنماؤں کی عبوری ضمانت منظور اور عالمگیر وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) آج لاہور کینٹ کچہری میں تین دن قبل پنجاب یونیورسٹی سے غائب کئے گئے عالمگیر وزیر کو پیش کیا گیا تو اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ پولیس نے اس کا مزید فزیکل ریمانڈ لینے کے لئے دلائل دئیے مگر مقامی جج نے یہ درخواست رد کرتے ہوئے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔

عالمگیر وزیر کی بازیابی کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے دو دن مسلسل احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ پوری رات سخت سردی میں وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے گزاری۔ پنجاب یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر نے وہ ٹی وی فوٹیج دینے سے انکار کر دیا تھا جس سے معلوم ہو جاتا کہ اسے کس نے اٹھا یا ہے۔ یہ واضح تھا کہ اسے کسی ریاستی ادارے نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔ 30 نومبر کو جب پولیس نے ایف آئی آر کاٹی تو واضح ہو گیا کہ اس کا نام اس میں شامل ہے۔

اس دوران لاہور سیشن کورٹس میں عمار علی جان، کامل خان اور فاروق طارق کی قبل از گرفتاری ضمانتوں کے لئے نور ایڈووکیٹ اور ربیعہ باجوہ ایڈووکیٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل کی عدالت سے رجوع کیا۔ ان تینوں کی پچاس پچاس ہزار روپے بانڈز کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی گئی۔

محمد شبیر اور اقبال لالہ والد مشال شہید کی عبوری ضمانتیں چند روز میں کرانے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ لاہور کی تاریخ میں بائیں بازو کے ایک کامیاب ترین طلبہ مارچ کے بعد طالب علم اور بائیں بازو کے راہنماؤں پر یہ مقدمہ دائر کرنا حکومتی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ انہیں اپنے پاؤں سے نوجوانوں کی حمایت کھسکتی نظر آتی ہے۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے ملک بھر میں طلبہ کو ایک ترقی پسند ایجنڈے پر متحرک کر کے دائیں بازو کو شدید ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور اب افراتفری میں اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔