تاریخ


مارکس کے آخری سال: تازہ سوانح عمری میں دلچسپ انکشافات

نئے حقائق کی روشنی میں مارکس اپنے نظریات کی از سر نو تشکیل پر ہمہ وقت تیار رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کٹر قسم کا انقلابی نہیں تھا۔ مستو کے خیال میں مارکس کے بعد آنے والے مارکس وادیوں میں یہ خاصیت دیکھنے کو نہیں ملی۔ سوچ میں لچک کی غالباً بہترین مثال وہ جوابی خط ہے جو مارکس نے روسی انقلابی ویرازاسولچ کو لکھا۔ ویرا نے 1881ء میں مارکس کو خط لکھا اور اس خط میں ویرا نے روسی کسان طبقے کے دیہی کمیون (ایک طرح کی پنچائت: مترجم) بارے مارکس کی رائے مانگی۔ ویرا جاننا چاہتی تھی کہ کیا روسی انقلابی کسانوں کو منظم کرنے کی کوشش کریں یا مزدور طبقے میں ہی کام کریں جو حجم میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔

اکتوبر انقلاب اور انسان دوست سماج کا آدرش

اس سماج کی تعمیر کا اک آدرش تھا: ’ہر قسم کے ظلم و استحصال سے پاک سماج‘۔ یہ وہ آدرش تھا جس کے حصول کی خاطر  20 ویں صدی میں لاکھوں کروڑوں لوگوں نے جدوجہد کی اور کئی بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ یوں 20 ویں صدی کمیونسٹ انقلابوں اور قومی آزادی کی تحریکوں کی صدی قرار پائی۔

امید و نشاط کا شاعر…ساحر لدھیانوی

ساحرؔ نے اپنی شخصیت کا سارا گداز شاعری میں بھر دیا ہے اور شاعری کی ساری جادوئیت اپنے خط و خال میں جذب کر لی ہے۔ آئینہ سے آئینہ گر کا ابھرنا لطیفہ سہی لیکن ’تلخیاں‘ کا مطالعہ کیجئے تو اس کے مصنف کی روح بولتی دکھائی دے گی۔ مصنف سے باتیں کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آپ اس کی نظمیں پڑھ رہے ہیں۔

محمد مقبول شیروانی: کشمیریوں کا مسیحا یا غدار

”شہید مقبول شیروانی“، کو پوسٹر پر چھپی تحریر کے مطابق 7 نومبر 1947ء کو 19 برس کی عمر میں، شمال مغربی سرحدی صوبے کے قبائلی حملہ آوروں نے مار دیا جو کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پہلی سرحدی جنگ تھی۔

کامریڈ ٹامس سنکارا: افریقی چی گویرا

34 سال قبل آج کے دن 15 اکتوبر 1987ء کو برکینا فاسو کے صدر ٹامس سنکارا کو فوجیوں نے گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دیا۔ 33 برس کی عمر میں اقتدار سنبھالنے والے سنکارا محض 37 برس کی عمر میں قتل کر دئیے گئے۔ انہیں براعظم افریقہ کے ”چی گویرا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سنکارا ایک سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ کامریڈ سنکارا نے صدر بننے کے کچھ ہی عرصے بعد کہا تھا ”انقلاب کا اصل مقصد سامراجیت کے غلبے اور استحصال کو شکست دینا ہے“۔

بغاوت کے الزامات پڑھ کرہم سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے: ظفراللہ پوشنی

آزادی کے بعد ہی امریکی اثرو رسوخ پاکستان کے معاملات میں بے حد بڑھ چکاتھا اور اسی اثر کے تحت ملک میں بائیں بازو کی تحریکوں کو قانونی موشگافیوں کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں پھنساکر اورظلم وتشدد کے ذریعے ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔

سوشلسٹوں کا فوجی ہیرو: ظفر اللہ پوشنی امر ہو گئے (1916-2021ء)

”میں بذات خود کبھی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں رہا اور پارٹی پالیسیوں کے بہت سے پہلو سے اتفاق نہیں کرتا تھا لیکن مجھے اس پارٹی کے مسلک سے ہمدردی ضرور تھی۔ ہماری دنیا کی بیشتر آبادی اس قدر افلاس، ناداری، بھوک اور پریشانی کا شکار ہے کہ کوئی بھی حساس انسان ایسی صورت حال سے مطمئن نہیں ہو سکتا اور اس کی خواہش ہوگی کہ اس بے مروت استحصالی نظام کو کسی طرح سے بدلا جائے۔ خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب ممالک کے رہنے والے لوگ جس کسمپرسی کی حالت میں زندہ ہیں وہ کوئی زندگی تو نہیں“۔

طالبان کے ہاتھوں میرے والد کا بہیمانہ قتل، امریکہ نے مدد کی اپیل نظر انداز کی

رات کے ابتدائی پہر میں جب طالبان دارالحکومت میں داخل ہوئے توانہوں نے ”خصوصی مہمان“ سے ملاقات کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ کے دروازوں پر دستک دی۔ گھنٹوں کے بعدایک بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوئی کہ ”سابق افغان رہنما، صدر نجیب اللہ کو پھانسی دے دی گئی۔“ میں نہیں جانتی تھی کہ اس لفظ کا مطلب کیا ہے۔ میں نے اپنی بہن کی طرف دیکھا لیکن اس کے جذبات سے عاری چہرے نے مجھے مزید گھبراہٹ میں دھکیل دیا۔ میں جلدی سے لغت لے آئی اور حرف ’E‘ کا صفحہ کھولا تا کہ ’Execute‘ کا معنی دیکھ سکوں۔

فادر آف ماڈرن پنجاب

دیہی پنجابیوں کے مفادات کے فروغ اور تحفظ کے لیے تعلیم، سیاست اور معیشت کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانے اور قانون سازی کے اقدامات شروع کرنے کے لیے ان کی انمول خدمات کی وجہ سے انھیں ”فادر آف ماڈرن پنجاب“ کہنا بالکل درست ہو گا۔

عطا اللہ مینگل: بلوچ سیاست کا ایک انقلابی عہد تمام ہوا

سردار عطا اللہ مینگل کی وفات کے ساتھ ہی ایک ایسے سیاسی دور کے کتب خانہ کا خاتمہ ہو گیا ہے جس پر ابھی تحقیق کی جانی باقی تھی۔ انہوں نے کبھی اپنی سوانح عمری نہیں لکھی۔ بقول ان کے بیٹے اختر مینگل کے ایک بار جب ان سے لکھنے کو کہا تو جواب ملا: ”سوانح عمری لکھنے کے لیے سچ لکھنا پڑتا ہے اور مجھے جھوٹ بولنا آتا نہیں“۔