منٹو کی تحریروں پر کام اور ان پر تحقیق سے میرامنٹو کے ساتھ ایک کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ بن چکا ہے۔ میں ان کی تحریروں کو پھیلانے کا کام جاری رکھوں گا کیونکہ سچائی جانے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔ یہی میرا خراج عقیدت ہے اور یہی میرا اُن حکومتی اہلکاروں سے انتقام ہے جو منٹو کو سچ لکھنے کی سزا دینے کے لیے ان پرمقدمے کرتے تھے۔
تاریخ
شمس الرحمن فاروقی (1935-2020ء)
شمس الرحمن فاروقی اردو ادب کے ناقدین کی ایک نادر نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایسی میراث چھوڑ کر گئے ہیں جس کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔
چوہدری فتح محمد اور پنجاب کسان تحریک
چوہدری فتح محمد نے نہ صرف زرعی مسائل کے بارے میں بات کی، بلکہ کسانوں کو اجاگر اور متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
نصیرالدین شاہ اور فردوس
ماضی کی مقبول ہیروئین فردوس دو دن قبل وفات پا گئیں۔ ان کی وفات کے موقع پر ان کے بارے میں یہ مضمون پیش کیا جا رہا ہے۔
فوجی آمریتوں کے بخیے ادھیڑنے والا انقلابی درزی
سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
’جنرل‘ کو 200 ویں سالگرہ مبارک: اینگلز لینن کی نظر میں
مارکس کی وفات کے بعد اینگلز نے اکیلے ہی یورپی سوشلسٹوں کے رہنما اور صلاح کار کے طور پر کام جاری رکھا۔ اینگلز کی ہدایات اور مشورہ سب کو برابر درکار ہوتا تھا، چاہے وہ جرمن سوشلسٹ ہوں، جن کی طاقت ریاستی جبر کے باوجود مسلسل اور تیزی سے بڑھ رہی تھی، یا پھر پسماندہ ملکوں مثلاًسپین، رومانیہ اور روس کے نما ئندے ہوں، جنہیں ابتدائی قدم اٹھانے سے پہلے کافی سوچ بچار اور ناپ تول کرنی پڑ رہی تھی۔ بوڑھے اینگلز کے علم اور تجربے کا بھرپور خزانہ ان سب کے کام آتا رہا۔ آ ئیے فریڈرک اینگلز کو خراج عقیدت پیش کریں، جو پرولتاریہ کا استاد اور زبردست جانباز تھا!
دل کا فلسطینی، کیوبا کا سپاہی، سامراج مخالف
میرا ڈونا فلسطینی عوام پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے اور امریکی سامراج کی مسلط کردہ سامراجی جنگوں کے خلاف مہم کا ہمیشہ حصہ رہے۔ انہو ں نے ایک بازو پر چی گویرا کی تصویر کا ٹیٹو بنوا رکھا تھا جبکہ ایک ٹانگ پر کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کے چہرے کا ٹیٹوبنوا رکھا تھا۔ وہ چی گویرا اور فیدل کاسترو کو اپنا ہیرو قرار دیتے تھے۔ کاسترو بارے ان کا کہنا تھا کہ کاسترو ان کے والد کی طرح تھے۔
”پنجاب کا رابن ہڈ“
افسانوی کہانی کاروں نے اس کو پنجاب کے رابن ہْڈ سے تشبیہ دی ہے کیوں کہ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ مغلوں کے خزانوں کو لوٹ کر مساکین میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ اس طرح، وہ مقامی مزاحمت اور پنجابی شناخت کی علامت کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ اس کی بہادری، سخاوت اور کسانوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کو پنجابی لوک شاعری کے ذریعہ امر کیا گیا ہے۔
باچہ خان کی تعلیمات سے جیل میں ٹراٹسکی والی مشق تک: محسن داوڑ کی سیاسی زندگی
”میں نے بطور سیاسی کارکن یہ سیکھا ہے کہ قیادت صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص طور پر بحران کے دوران۔ میں نے اپنی زندگی میں یہی کام کرنے کی کوشش کی ہے“۔
سلیم عاصمی (1934-2020ء) الوداع!
ریسٹ ان پاور عاصمی صاحب۔ آپ کے بغیر پاکستان اور بھی تہی دامن ہو گیا ہے۔