شاعری

اپنے بے نام اندھیروں کو سنبھالے رکھوں

قیصرعباس

اپنے بے نام اندھیروں کوسنبھالے رکھوں
میں نکل جاؤں تواس گھر پہ بھی تالے رکھوں

روشنی کچھ تو میسر ہو درِ ز نداں میں
دل میں بھولی ہوئی یادوں کے اجالے رکھوں

توڑ ڈالوں میں سسکتی ہوئی ظلمت کا غرور
ہاتھ پر ڈوبتے سورج کو اچھالے رکھوں

جب تری ذات کا محتاج نہیں میرا وجود
اپنی تکمیل کو کیوں تیرے حوالے رکھوں

میں نے بخشاہے تجھے تیری بڑائی کا وقار
روٹھ جاؤں تو کوئی اور خدا لے رکھوں

خاک بن کربھی رہوں اپنی مسافت کا غبار
میں کہ مرنے کے بھی انداز نرالے رکھوں

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔