شاعری

غزل: مہکتی رتوں کے گلاب اپنے اپنے!

قیصر عباس

مہکتی رتوں کے گلاب اپنے اپنے
گئے موسموں کے حساب اپنے اپنے

ہے پیشِ نظر آئینہ زندگی کا
سوال اپنے اپنے، جواب اپنے اپنے

گرجتے سمندر، چہکتے پرندے
دھنیں سب اسی کی، رُباب اپنے اپنے

گزرتی ہواؤں کے سب گیت سانجھے
نئی بارشوں کے سحاب اپنے اپنے

قلم بھی تمہارے، کتا بیں تمہاری
دلوں پر لکھے سب نصاب اپنے اپنے

فضیلت کی سب داستانیں تمہاری
ہمارے گناہ و ثواب اپنے اپنے

جزا ا پنی اپنی، سزا اپنی اپنی
غبار اپنے اپنے، سراب اپنے اپنے

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔