خبریں/تبصرے

واشنگٹن ٹرمپ انتظامیہ کے گھیرے میں!

قیصرعباس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکیوں نے گزشتہ انتخابات میں ان کے منشور کی بنیاد پر صدر منتخب کیا تھاجس میں انہوں نے امریکہ کودوبارہ ایک عظیم مملکت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ا ن کی حکومت اور انتظامیہ اب تک جس افراتفری اور نا اہلیت کا شکار رہی ہے وہ ملک کے اس اعلی ترین عہدے کے وقار اور احترام کے شایانِ شان نہیں ہے۔

صدر نے قوم کی زمین تیل کی کمپنیوں میں تقسیم کی اور کارپوریٹ سیکٹرکے ا ن چنیدہ لوگوں کو حکومت کے اہم فیصلوں کا اختیاردے دیا جو عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی دولت کو شاندار ہوٹلوں کی ضیا فتوں اور پرائیوٹ جیٹ طیاروں پر خرچ کرتے رہے۔ ان خیالات کا اظہارگزشتہ جمعرات کو نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی میں یاہو (Yahoo) کے صحافی الیگزینڈر نزیرین (Alexander Nazaryan) کی نئی کتاب ”بہترین لوگ: ٹرمپ کابینہ اور واشنگٹن کا گھیراؤ“ کی تقریبِ رونمائی میں کیا گیا۔

اس تقریب میں ریپبلکن پارٹی کے سیاسی تجزیہ کار رک ولسن (Rick Wilson) نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے دوران رِک اور مصنف نے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ پر دلچسپ تبصرے کیے۔ رک اگرچہ صدر کی ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ ان کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔

دونوں شرکا کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایک مسئلے کو حل کرنے کے لئے دوسرا مسئلہ تخلیق کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے مسائل میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر مشیر نااہلی اورناتجربہ کاری کاشکارہیں۔ مثلاً ان کے سابق مشیر اور دائیں بازو کے ایک جانے پہچانے کارکن اسٹیو بینن (Steve Bannon) نے حکومت کوانتظامی پیچیدگیوں سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن عملاً وہ خود جس انتظامی نااہلیت کا شکا ر رہے و ہی ان کے زوال کا باعث بنی۔ اسٹیو جنہیں صدرنے کچھ ہی عرصے بعدفارغ کردیا تھا‘ اپنے مختصر دور میں بلاضرورت میڈیا کو تنقیدکا نشانہ بناتے رہے جس سے انتظامیہ کی توجہ اہم مسائل سے ہٹتی گئی۔

مصنف نے مزید کہا کہ وہ شروع میں ناول نگار بننا چاہتے تھے اوروہ اس خواہش کو اب بطور صحافی سچی کہانیاں لکھ کر پورا کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق نیویارک سے ہے جو واشنگٹن کی روایات سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا جس کو وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صد ر ٹرمپ کا تعلق بھی نیویارک کی کاروباری اشرافیہ سے ہے جو حریفوں سے مقابلہ بازی اور جارحانہ انداز کے لئے مشہورہیں۔ دراصل وہ اسی کردار کو وائٹ ہاؤس میں بخوبی ادا کررہے ہیں اور بحیثیت صدر وہ اس جارحانہ اندازسے اب تک نہیں نکل سکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ ایک جذباتی رہنما ہیں جن کے فیصلے حقیقت پسندانہ نہیں ہوتے۔

مصنف کا کہنا تھا کہ اس کتاب کو تحریرکر تے ہوئے انہوں نے صدر ٹرمپ کا انٹرویو بھی کیا جو تقریباً نصف گھنٹے تک جاری رہا جس میں صدر اپنی شخصیت کا مثبت رُخ دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔

مصنف نے بتایا کہ عموماً وہ اپنی نگارشات میں گمنام ذرائع کا استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن کتاب کی تحریر کے دوران زیادہ تر لوگ انٹرویو دینا نہیں چاہتے تھے اور جو انٹر ویو کے لئے راضی ہوئے ان میں سے بیشتر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا سوائے ان کے جو ٹریڈ یونین کے رکن تھے کیونکہ انہیں یونین کا تحفظ حاصل تھا۔

رِک ولسن نے کہا کہ صدر نے اپنی انتظامیہ کی بہت کم آسامیوں کو پر کیا ہے۔ وہ اپنی انتظا میہ کے افراد کو بہت کم جانتے ہیں اور اپنے ٹی وی امیج اور ٹویٹس پرزیادہ دھیان دیتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف جان کیلی (John Kelly) کے متعلق انہوں نے بتایاکہ وہ اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی میں غیر موثر کردار ا ادا نہیں کرنا چاہتے تھے جس کی بناپر انہوں نے استعفیٰ دیاتھا۔

دونوں شرکا نے 2020ء میں ہونے والے امریکی انتخابات کا ذکر بھی کیاجن کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی انتخابات یعنی پرائمریز میں صدارتی امیدواروں کے مباحثے آج کل ٹی وی پر بھی جاری ہیں۔ امریکہ کی سیاست میں ریپبلکن پارٹی نظریاتی طورپر رجعت پسند اور ڈیموکریٹک پارٹی ”بائیں بازو“ کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔

آئندہ انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے ر ِک کا کہنا تھا کہا کہ اگرٹرمپ دوبارہ صدرمنتخب ہوئے تو ان کی بیشتر انتظامیہ ان کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق سابق ڈیموکریٹ نائب صدر جو بائیڈن (Joe Biden) کا نام جانا پہچانا ہے اورخیال ہے کہ وہی ایک اہم امیدوار کے طورپ سامنے آئیں گے۔ ان کے مقابلے میں الیزبتھ وارن (Elizabeth Warren) کا جھکاؤ بائیں بازو کی جانب ہے۔

ویسے تو یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ صحافیوں اور امریکی صدر کے درمیان شروع ہی سے اختلافات کی ایک لمبی خلیج موجو دہے لیکن اس کتاب نے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ امریکہ کے کچھ صحافیوں کی صدر ٹرمپ کے بارے میں کیا رائے ہے۔
مجمو عی طور پر مذکورہ کتاب قاری کو صدر ٹرمپ کی مرکزی انتظامیہ کا وہ رُخ دکھاتی ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر عملے کی تبدیلی اورپیشہ ورانہ افراتفری سیاست کے سنہری اصول بن چکے ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔