سوچ بچار

عمران خان بنام جنرل ضیا

دعا زینب

اے مشتِ خاک!

امید ہے کہ آپ کی مٹی کو بھی جرنیلی کا رتبہ ملا ہو گا۔ یوں تو شریعت میں آپ جیسے عظیم اور عالی شان ڈکٹیٹر کے لئے بہت اعلیٰ مقام اور بخشش کا وعدہ ہے سو میں بے فکر ہوں مگر آپ کے مزار پر لازمی ڈیڑھ ہزار ماہوار بھجواتا رہتا ہوں۔ امید کرتا ہوں کہ وہ آپ تک پہنچتے ہوں گے اور میرے وزیر ان پیسوں سے چائے کے ساتھ بسکٹ نہیں لے لیتے ہوں گے۔

جب سے آپ کی ناگہانی موت ہوئی ہے خود سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جس ملک کو آپ نہیں سدھار سکے اسے میں سیدھے راستے پر لاوں گا۔ سو کبھی کنٹینر پر تو کبھی اسمبلی سے چھٹی لے کر بستر میں پڑا سوچ میں غرق رہتا ہوں۔ آپ کے پاس دستیاب مخصوص ذرائع ابلاغ کی بدولت آپ کو پاکستان کے حالات و واقعات کا تو بخوبی علم ہو گا لہٰذا میں آپ کو تفصیلات سے آگاہ کر کے دکھ اور تجسس کا سبب نہیں بنوں گا۔

آجکل یوں تو مہنگائی کا شور مچا ہوا ہے۔ ہر طرف ڈالر کے ریٹ اور پیٹرول کی قیمت کے چرچے ہیں جس سے میری انا کو بہت ٹھیس پہنچتی ہے۔ سو میں نے اپنے وزیروں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ قوم کو سمجھائیں مہنگائی وہنگائی بالکل نہیں ہے اور چرچا صرف میرے بارے کی جائے۔

آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ سکون تو قبر میں ہے۔ جوں ہی آپ قبر میں پہنچے، پاکستان نے سکون کا سانس لیا تھا۔ ساتھ ہی ملک میں فحاشی نے ڈیرے ڈال لئے۔ ملک میں پھیلی اس فحاشی پر آپ کا خون تو کھولتا ہو گا لیکن آپ بے فکر رہیں۔ میں نے مولانا طارق جمیل سے دعا کروائی ہے۔ سب کنٹرول میں ہے۔ سوچ رہا تھا مولانا سے آپ کے لئے بھی دعائے مغفرت کروا لوں۔ پھر خیال آیا کہ آپ کے اعمال کے باعث آپ پہلے سے ہی بہت اعلیٰ مقام پر ہوں گے۔ خیر بات ہو رہی تھی فحاشی کی۔ میں نے احتیاطی طور پر پیمرا کو بھی خاص تدابیر جاری کر دی ہیں۔ مثلاً یہ کہ میاں بیوی کو ایک بیڈ میں دکھانے کی ضرورت نہیں۔ صرف بیوی کو پٹتے ہوئے دکھایا جائے۔ جب صرف تشدد اور مار پیٹ ہو گی تو فحاشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔

ادہر امریکہ میں ڈونلڈ ڈَک کے بعد آنے والے جُو بڈن کی وجہ سے ابھی تک وہاں سے امداد کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ افغانستان میں نئے سرے سے مجاہدین کی ضرورت نہ پڑی تو میری حکومت اور آپ کے جانشین دیوالیہ ہو جائیں گے۔ اندریں حالات قوم و ملک کی بھلائی کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے آگے پیچھے گھوم رہا ہوں۔

ان دنوں عالم بالا میں آپ کی صحافیوں سے ملاقات نہیں ہوتی ہو گی۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بھائی لوگ آج کل نافرمان صحافیوں کو عالم بالا کی بجائے شمالی علاقہ جات بھیج دیتے ہیں۔ باقی اپنے بینک اکاؤنٹس میں آنے والی ماہانہ آمدن سے مطمئن ہیں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں القاعدہ بھائیوں نے آخر کار آزادی حاصل کر لی ہے۔ جی ہاں! آپ کی طرف سے بھی مبارک باد بھیج دی تھی۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ آپ کی تصویر امیرالمومنین کے دفتر میں لٹکائیں گے۔ حیران مت ہوں۔ انہوں نے تصویر وں اور ٹیلی ویژن پر پابندی ختم کر دی ہے مگر، الحمداللہ، عورتوں کی تعلیم اور زندگی پر مکمل پابندی ہے۔ نہ جانے ہم پاکستان میں اس منزل مقصود تک کب پہنچیں گے تا کہ ملک سے ریپ کلچر کا خاتمہ ہو سکے۔

اب اجازت چاہوں گا۔ بہت دنوں سے ترین صاحب سے ان کی ملوں بارے دریافت نہیں کیا۔ ہاں یاد آیا۔ اس کافر صحافی جوناتھن کے ساتھ انٹرویو کے دوران میں نے تسبیح آپ کے لئے ہی پڑھی تھی۔ آپ تک پہنچ جانی چاہئے۔ امید ہے فرشتے دھاندلی میں ملوث نہیں۔ ایسا ماجرا ہے تو حکم کریں، نیب حاضر ہے۔

ولسلام۔

وزیر اعظم ریاست مدینہ ثانی
عمران خان

دعاء زینب بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں لبرل آرٹس کی سند حاصل کر رہی ہیں۔ وہ’مہود‘ اور’دی رپپو‘
(The Rapport) میں سب ایڈیٹرکے فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔