نقطہ نظر

آج نہیں تو کل پٹاخہ چلنے والا ہے! لسانی، سماجی اور سیاسی مسائل پر ڈاکٹر منظور اعجاز سے گفتگو

قیصرعباس

اس دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو منہ میں سونے کاچمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور کچھ وہ جو تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی ذہانت اور محنت سے اپنا مقام خود پیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منظوراعجاز بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک گاوں سے نکل کر اپنی محنت اور لگن سے ملک اور پھر ملک سے باہر نکل کر اپنا نام کمایا۔ پنجاب کے گاوں برج والا سے نکلے تو لاہور کی ادبی، علمی او ر بائیں بازو کی نظریاتی سرگرمیوں کا ایک اہم نام بنے۔ پنجاب یونیورسٹی میں فلسفے کے پروفیسر رہے پھر پنجابی ادب کی تشہیرکے لئے ایک اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھی۔

جنرل ضیا کے پُرآشوب دور میں امریکہ آئے اور زندگی کی مشکلات کا پھر سے مقابلہ شروع کیا۔ لیکن یہاں آکر بھی علم کی جستجو جاری رکھی اور اقتصادیات میں پہلے ایم اے اورپھر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ان سب سرگرمیوں کے علاوہ انہوں نے پنجابی ادب، ڈرامے اور ر نظریاتی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔ ثقافتی تنظیم ”واشنگٹن پالیسی انیلیسز“ کی بنیاد رکھی جو گزشتہ 25سال سے پروگرام کرارہی ہے۔

ایک وفاقی ادارے میں شماریات کے ماہر کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد آج کل واشنگٹن ڈی سی کے قریب ورجینیا میں رہائش پذیر ہیں۔ انگریزی، پنجابی اور اردو زبانوں پر یکساں عبوررکھتے ہیں۔ تینوں زبانوں میں کئی کتابوں کے مصنف ہیں اورروزنامہ جنگ میںاردو کا لم لکھتے ہیں۔ آج کل پنجابی ادبی اور اشاعتی ادارے ’وچار‘ کے منتظم ہیںاورکئی زبانوں میں اس کی ویب سائٹ کے نگران بھی ہیں۔

اپنی زندگی کے لمبے سفر کوانہوں نے حال ہی میں پنجابی زبان میں” جندڑیئے تن دیساں تیرا تانا“(زندگی: تیرے دھاگوں سے بننا مجھے آتاہے!) کے عنوان سے قلم بند کیاہے جس کے انگریزی اور اردو تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز او رہجرتوں کی روداد لکھتے ہوئے کہتے ہیں:

” میں پاکستان کا ہم عمر ہوں۔ میں ان سترسے زائد سالوں میں پہلے تیس سال پاکستان میں رہا اور باقی ساری زندگی امریکہ میں گزری ہے۔ جتنی تبدیلیاں میری زندگی میں آئی ہیں اس سے زیادہ میرے گاوں، پاکستان اور امریکہ میں آئی ہیں۔ میں نے اپنے کالموں اور پنجابی کے کئی کاموں میں مصروف ر ہنے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی ذہنی طورپرزیادہ عرصہ پاکستان ہی میں بتایا ہے۔ ظاہر ہے میں نے وہ مصیبتیں تو نہیں جھیلیں جو میرے ساتھ کے لوگوں نے پاکستان میں رہ کرجھیلیں۔ لیکن تھوڑا سا دور ہونے پر مجھے یہ فائدہ بھی ہوا کہ میں چیزوں کو تھوڑا صاف دیکھ سکتاہوں۔“

ڈاکٹر منظور اعجاز جنوبی ایشیاکی موجودہ شکست وریخت اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجوہات کی تلاش خطے کی سماجی اور اقتصادی تاریخ میں کرتے ہیں۔ ان کے نظریے کے مطابق برصغیر ماضی قریب میں گاوں کی سماجی اور اقتصادی اکائی کی بنیاد پر چل رہاتھا جہاں ہر گاوں خود کفیل تھا اور اپنے اندر ایک خود مختار معاشی و سماجی نظام رکھتاتھا۔ نئی ٹیکنالوجی اورصنعتی ترقی نے اس نظا م کو اکھاڑ پھینکا ہے لیکن اس کی جگہ ابھی کوئی متبادل نظام نہیں آسکا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے بنیاد پرست مذہبی گروہوں اور تشدد پسندوںنے پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ مگران کے نزدیک یہ ایک عارضی مرحلہ ہے جو نئے نظام کے آ نے تک جاری رہے گا۔

روزنامہ جدوجہد کے ساتھ اس خصوصی انٹرویومیں انہوں نے معیشت سے لے کر سیاست، ادب، لسانی تنازعات اور سماجی مسائل پر کھل کر گفتگو کی ہے:

بر صغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان میں صوبائی اورعلاقائی زبانوں کو اہمیت نہیں دی گئی بلکہ ان کا استحصال کیاگیا۔ آزادی کے بعد قومی لسانی پالیسیوں میں ا نگریزی اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟

تاریخی اعتبارسے دیکھا جائے تو انگریز سامراج نے جن زبانوں کی سرپرستی کی ‘آزادی کے بعدتمام صوبوں میں ان ہی زبانوں کوفروغ ملا۔ پنجاب میں پہلے سنسکرت پھر فارسی اور پھر اردو زبان رائج کی گئی مگر ان میں سے کوئی زبان بھی مقامی نہیں تھی۔ اس طرح حکمرانوں نے مقامی زبانوں کو ہمیشہ پسِ پشت رکھا۔ لیکن دیہاتوں میں ‘جن کی آبادی 95 فی صد تھی، پنجابی ہی بولی اور پڑھی جاتی تھی۔

مسلمان حکمران ا پنے ساتھ فارسی لائے جو زیادہ تر وسط ایشیا سے آئے تھے۔ اس لحاظ سے پنجاب کی سرکاری اور انتظامی زبان ایک عرصے تک فارسی تھی اور اسی کا اثرتھاکہ مہارا جہ رنجیت سنگھ کی درباری زبان بھی فارسی ہی تھی۔ لیکن عوامی زبان تو پنجابی ہی رہی اور جب بٹوارہ ہوا تو دیہی علاقوں میں پنجابی ہی کا چلن تھا۔ مسلمانوں کی پنجابی کا رسم الخط فارسی تھا اور سکھوں کا گُرمُکھی۔

دراصل یہ انگریزوں کی ہی پالیسی تھی جس کے تحت پنجاب میں اردو رائج کی گئی اور اردو بولنے والے مسلمان ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے لاکر یہاں انتظامیہ میں شامل کیے گئے۔ اس طرح اقتصادی اور تعلیمی زبان اردو ٹھہری۔ اس کے باوجود عوامی زبان پنجابی ہی رہی کیونکہ دیہاتی تو اسکول ہی نہیں جاتے تھے۔

دوسری جانب ا نگریز سرکار افغانستان اور سرحدی علاقوں کو ثقافتی طورپر الگ تھلگ رکھنا چاہتی تھی اور اس پالیسی کے تحت وہاں اردو کو نافذنہیں کیاگیا جو ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ اس کے برعکس نیپئر نے سندھ میں سندھی کو سرکاری زبان کے طورپررائج کیااور وہی ان کی تعلیمی زبان بھی قرارپائی جواب تک ہے۔ تو تاریخی طورپر جن زبانوں کو انگریز سامراج نے اپنی پالیسیوں کے تحت رائج کیا وہی اب تک اشرافیہ کی زبانیں ہیں جبکہ عوامی سطحوں پر مقامی زبانیں ہی مقبول ہیں۔

عام تاثر ہے کہ پنجابی زبان کی تنزلی میں خود ان  پنجابیوں کا بھی ہاتھ ہے جو ا پنی زبان میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ کیایہ تاثر درست ہے؟

جی ہاں یہ بالکل صحیح ہے کہ شہروں میں رہنے والے اکثر  پنجابی حضرات نجی محفلوں میں پنجابی نہیں بولتے نہ پڑھتے ہیں۔ لیکن اردگرد کے ماحول میں بچے پنجابی سیکھ جاتے ہیں اور بلوغت تک پہنچ کر یہ ان کی روزمرہ کی زبان بن چکی ہوتی ہے۔

1968ء میں چند ہی پنجابی کتابیں پڑھی جاتی تھیں اور دکانوں پر دستاب تھیں جن میں امرتاپریتم، احمدراہی اور موہن سنگھ کی تصنیفات ہی شامل تھیں۔ اس کے برعکس آ ج پنجاب کے بیشتر شہروں میں ادب، سیاست، ناول، افسانے اور شاعری کے موضوعات پرپنجابی زبان میں کتابیںشائع ہوتی ہیں اور فروخت بھی ہوتی ہیں۔

پنجابی ادبی تنظیمیں اور اشاعتی ادارے کام کررہے ہیں۔ یوینورسٹی کی سطح پر پنجابی کی تدریس و تحقیق ہورہی ہے۔ عمومی طورپر یہ احساس جڑ پکڑتاجارہاہے کہ پنجابی اد ب اور ثقافت کو فروغ دیاجانا چاہیے۔

پنجابی لوک ور ثہ اور زبان پر آپ کی گہری نظر ہے۔ کیا آپ کے خیال میں صوفی افکار، شاعری اور طریقت کے ذریعے موجودہ دور کی تشددپسندی، عدم برداشت اورمذہبی تعصب کو کم کیاجاسکتاہے؟

ہم عموما ًتمام صوفی سلسلوں کو ایک اکائی سمجھتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ صوفی تحریکوں کی کئی اقسام ہیں اوران کے عقائد و طریقت میں فرق پایا جاتا ہے۔ بر صغیر میں صوفیوں کی کئی شاخیں ہیں جن میں سلسلہ چشتیہ قادریہ‘ ترقی پسند اور انسانیت پسندسمجھاجا تاہے۔ انسانیت پر ان کااپنا ایک صلح کاجو نظریہ ہے اس کی بناپر وہ تمام مذاہب اور فرقوں کے درمیان رواداری کادرس دیتے ہیں۔ ان کے یہاںلوک شاعری اور ادب کو عوامی سطح پر برتاجاتاہے اور اسی لئے یہ صوفی مسلک عوام الناس میں بہت مقبول ہے۔ اس سلسلے کے نامور صوفی بختیا رکاکی، نظام الدین اولیا، بابا فریدگنج شکر، بلھے شاہ، شاہ عنایت اور وارث شاہ تھے جنہوں نے اپنی تعلیمات اور شاعری کے ذریعے انسانی قدروں کو عام کیا۔ ان صوفیا کا طرز ِزندگی درویشانہ رہا اور وہ ہمیشہ دربارو امرا سے دوراورعام لوگوں سے نزدیک رہے۔

اس کے مقابلے میں نقشبندی صوفیا رجعت پسند تھے اور مذہبی عبادات و اعتقاد میں ان کا ایک الگ نظریہ تھا۔ اس سلسلے کے سہروردی اورشیخ الاسلام بہاوالدین زکریا جیسے صوفیائے کرام‘ مغل شہنشاہوں کے قریب اورمذہبی روحانیت کے پیروکار رہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ مجموعی طورپرتمام صوفی سلسلوں سے آج کے متشدد رویوں اور مذہبی رجعت پسندی پر قابوپایا جاسکتاہے کچھ حد تک درست نہیں۔

جنوبی پنجاب کے باسیوں کا کہنا ہے کہ سرائیکی زبان پنچابی سے بہت مختلف ہے اور اس علاقے کی اپنی تاریخی و ثقافتی روایات اسے شمالی پنجاب سے الگ پہچان دیتی ہیں۔ اس بارے میں آپ کیاکہتے ہیں؟ کیاآپ سرائیکی صوبے کی حمایت کرتے ہیں؟

سرائیکی پورے پنجاب کی زبان ہے جو پنجابی سے بھی پرانی ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہتاہوں کہ پنجابی نے سرائیکی ہی سے جنم لیاہے۔ 1970ء تک سرائیکی اشرافیہ ہی پورے پنجاب کی حکمران رہی ہے۔ لیکن 1980ءکے بعد جاگیرداروں کی بجائے تاجرپیشہ طبقے نے حکمرانی شروع کی اور نوازشریف کی جماعت برسراقتدارآئی۔

سرائیکی صوبہ بننے سے مجھے خوشی ہوگی کیونکہ یہ میرے لئے کوئی جذباتی مسئلہ نہیں ہے لیکن میرے نزدیک صوبوں کو لسانی اور انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا صحیح نہیں ہے۔ بڑے صوبے‘ چھوٹے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور خوش حال ہوتے ہیں۔ امریکہ ہی کی مثال لیجئے۔ یہاں کیلیفورنیا ایک بڑی ر یا ست ہے اورچھوٹی ریاستوں کی نسبت قومی معیشت میں اس کااقتصادی حصہ بہت زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ کچھ انتظامی اور جغرافیائی مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں۔ سرائیکی بیلٹ کے وسط میں بہاولپور، رحیم یارخان، بھکر اورلیہ پرمشتمل ایک بڑا آبادکاروں کا علاقہ ہے جن کی زبان پنجابی ہے۔ اگر زبان ہی تقسیم کی بنیاد ٹھہری تو اس علاقے کو کس طرح نئے صوبے میں شامل کیاجائے گا؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسکولوں میں پرائمری سطح پر تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے ؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

جدید تحقیق کے مطابق وہ بچے جو اپنی ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرتے ہیں ان میں سیکھنے کی اور دوسری زبانوں پر دسترس حاصل کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ میرے خیال میں تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی کو سرکاری اوراردو کو قومی زبان رکھنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔ اس طرح ہمارے بچے مادری، قومی اور بین الاقوامی زبانوں میں ماہر ہوکر سماجی اور اقتصادی طورپر بھی کامیاب ہو سکیں گے۔

پاکستان میں آزادیِ رائے ہمیشہ پا بہ زنجیررہی ہے لیکن آج اس کی نوعیت مختلف اور سنگین ہے۔ ستراور اسی کی دہائیوں میں مرکزی حکومت ہی پریس سنسرشپ اور میڈیا پر پابندیوں کا واحد ادارہ تھی۔ آج میڈیاہاوسز کہنے کو تو آزاد ہیں لیکن ان پر کئی اطراف سے قدغنیں عائد ہورہی ہیں جن میں جہادی گروہ، نجی ادارے اورلشکر شاہی بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال کا آپ کس طرح تجزیہ کرتے ہیں؟

یہ بات بالکل درست ہے کہ ملک میں ابلاغ عامہ پر جتنی پابندیاں آج ہیں پہلے کبھی نہیں تھیں۔ حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لکھنے سے پہلے اب صحافی یہ نہیں سوچتا کہ کیالکھنا ہے، وہ یہ سوچتا ہے کہ کیا نہیں لکھنا! اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس بے انتہا طاقت آگئی ہے جسے پریس سنسرشپ کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔ قومی اورصوبائی سطح کے بعد اب ان کی پہنچ یونین کونسلوں تک ہے جو باعثِ تشویش ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ سول حکومت پوری طرح لشکرشاہی کے زیرنگیں ہے کیونکہ عمران خان کے لئے اقتدار سے زیادہ اورکوئی چیز نہیں۔ اور اسے یہ بھی فکرنہیں ہے کہ عوام اسے اقتدارسے اتار بھی سکتے ہیں کیونکہ اس کی طاقت کا منبہ کہیں اور ہے۔

آج ملک کے غریب اوراوسط طبقے کے عوام کے لئے مشکلات ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئی ہیں۔ مہنگائی آسمان کوچھورہی ہے، پٹرول اور گیس کی قیمت بے انتہابڑھ گئی ہے، کھانے کی اشیا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اقتصادی اور زرعی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان سب کے باوجود عوام میں مزاحمت کے کوئی آثارنظرنہیں آرہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

مزاحمت نہ ہونے کی ایک وجہ تویہ ہے کہ تمام ترمشکلات کے باوجود لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے ان کے ذرائع آمدورفت اور رعوامی رابطوں میں اضافہ کیاہے۔ مڈل کلاس کی زندگی میں بہتری آئی ہے۔ نچلی کلاس کے لوگ بھی اب جاگیر داری تسلط سے نکل کر شہروں میں یا دوسرے ملکوں میں کام کرنے لگے ہیں جس سے ان کے طرززندگی میں بدلاو آیاہے۔ لیکن دوسری جانب ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی رک گئی ہے بلکہ منفی ہے۔ اندازہ لگائیں کہ پاکستان کی کل برآمد 27.3 بلین ڈالر ہے جبکہ بنگلہ دیش کی صرف سلے ہوئے کپڑوں کی برآمد ہی 30 بلین ڈالر ہے۔

ملک میں پہلی اور آخری جمہوری مزاحمت پی پی پی کے پہلے انتخابات میں نظرآئی تھی جب لوگوں نے اشرافیہ کو ردکرکے عام نمائندوں کو منتخب کیا تھامگر اس کے دوررس نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ لیکن آج کل کی صورت حال سے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کوئی پٹاخہ آج نہیں توکل چلنے والا ہے!

ملک میں اب تک جتنی سول حکومتیں آئیں ان کی لشکر شاہی سے نہیں بنی اور تقریباً سب کو ہی آخرکاراقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ لیکن آج کل ایک نئی حکمت عملی کے تحت جو سول حکومت لائی گئی ہے وہ مکمل طورپر لشکر شاہی کے تابع ہے۔ یہ نیا گٹھ جوڑ جمہوریت اور ملک کے لئے کس حد تک سودمندہے؟

میرے نزدیک جمہوریت شفاف ہونی چاہیے اور اس کے پیچھے نادیدہ طاقتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ آج ہماری جمہوریت کے پس پردہ جو طاقتیں کام کررہی ہیں ان کی صلاحیتیں محدود ہیں اور ان میں جدید دور کے حالات کو پرکھنے اور پھر صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان طاقتوں کے اپنی مفادات ہیں جو ملکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتاہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے حواریوں میں بھی وہ صلاحیت نہیں جو ملک کے حکمرانوں کے لئے ضروری ہیں اور اسی لئے ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔