خبریں/تبصرے

برصغیر کا سیاسی نظام جاگیر دارانہ ذہنیت کی گرفت میں ہے: بھارتی سماجی کارکن سندیپ پانڈے

انٹرویو: قیصر عباس

بھارت کے معروف سماجی کارکن سندیپ پانڈے انسانی حقوق اور علاقائی امن کی جانی پہچانی آواز ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست کے بارے میں ان کا کہنا ہے:

”بد قسمتی سے بر صغیر کا سیاسی نظام جاگیردارانہ ذہنیت کی گرفت میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما طاقت کے حصول کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اور عوام کی بہبود ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ انڈیا اور دیگر جنوبی ایشیا ئی ملکوں کے سیاسی لیڈروں کی اولادیں ان کی سیاسی میراث سنبھالتی ہیں جن پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ کرپشن ہمارے نظام کا حصہ ہے جس کے ذریعے لیڈر اپنی سیاست کی فنڈنگ کرتے ہیں اور اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔“

ڈاکٹر سندیپ پانڈے کی بودوباش عام لوگوں کی زندگی کا عکس ہے۔ وہ اس دور میں بھی موبائل فون استعمال نہیں کرتے، سفید کرتا پاجامہ اورہوائی چپل ان کا روز مرہ کا لباس ہے اور ان کی پوری زندگی صوفیانہ انداز لئے ہوئے نظر آتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ جدید دنیا اور سائنسی علوم سے ناواقف ہیں۔ امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے مکینکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے بعد وہ بھارت واپس گئے اور کئی یونیورسٹیوں میں درس و تدریس میں مصروف رہے لیکن انہوں نے اپنی زندگی سماجی کاموں کے لئے وقف کر دی اور اب یہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

جنوبی ایشیا میں قیام امن اور مذہبی ہم آہنگی ا ن کا وہ خواب ہے جس کے لئے ہمیشہ مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ 2015ء میں انہوں نے اس مقصد کیلئے کراچی سے دہلی اور پھر دہلی سے ملتان تک لانگ مارچ کی قیادت کی۔ ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف 1999ء میں انہوں نے بھارت کے ایٹمی دھماکے کے مقام پوکھران سے سارناتھ تک، جہاں بدھا نے پہلا درس دیاتھا، ایک ہزار کلومیٹر لمبے مارچ میں حصہ لیا۔ آغاز سے اب تک وہ بین الاقوامی کمپنیوں کی مزدور دشمن پالیسیوں، غربت اور سماجی نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ اس پاداش میں وہ کئی بار گرفتا ر ہوئے اور پابند سلاسل بھی رہے۔

اس خصوصی انٹرویو میں وہ علاقائی امن، برصغیر کی سیاست اور سماجی ہم آہنگی کے موضوعات پر بے لاگ تبصرہ کر رہے ہیں:

اگرچہ برصغیر کے ملکوں میں ترقی کی رفتار مختلف ہے لیکن مجموعی طور پر یہاں غربت، بھوک، بنیادی سہولتوں کا فقدان، پانی کی فراہمی، جہالت اور بیروزگاری عام مسائل ہیں۔ آپ کے خیال میں ہم ان مسائل کو کس طرح حل کر سکتے ہیں؟

بر صغیر کا سیاسی نظام اشرافیہ کو عام لوگوں کے مفادات سے دور کرنے کا کام بخوبی سرانجام دیتا ہے۔ اس طرح سیاست دان لوگوں کی فلاح کے بجائے خود اپنی خدمت کر رہے ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو اپنے مقاصد کے لیے تشدد کا سہارہ لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ثابت قد می سے نیو لبرل اقتصادی پالیسیو ں سے نجات حاصل کرنا ہو گی تاکہ امرا اور غریبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کیا جائے، بیروزگاری پر قابو پایا جائے، تعلیم، صحت اور ماحول کوبہتر بنانے کے لئے عوام دوست پالیسیوں کا نیا دور شروع کیا جائے۔

ضروری ہے کہ ہم تعلیم عام کریں، بھوک، بیروزگاری اور ماحول کے تحفظ کے لئے ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی بہترین قدرتی ماحول چھوڑ جائیں۔

بٹوارے سے اب تک بھارت اور پاکستان مسلسل ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی میں مصروف ہیں۔ اس سے بھی خطرناک امر یہ ہے کہ دونوں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں ایک دوسر سے بازی لے جانے کی کوشش میں ہیں۔ آپ کے خیال میں اس جنگی جنون پر کس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟

میرے خیال میں خطے کو نیوکلیئر فری زون قرار دینا ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ لاطینی امریکہ اور کریبین ممالک میں ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا ’Tlatelolco‘ معاہدہ، جنوبی پیسیفک میں ’Rarotonga‘ معاہدہ، جنوب مشرقی ایشیا میں بنکاک معاہدہ، افریقہ میں ’Pelindaba‘ معاہدہ اور دوسرے ممالک کے درمیان کئی اور معاہدے ایٹمی دوڑ پر قابو پانے میں کامیاب رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا بھی اسی قسم کے انتظامات کے ذریعے خطے میں امن کی نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ کرتارپور راہداری کی طرز پر دونوں ملکوں کی سرحدیں شہریوں کے لئے کھولنا بہت ضروری ہے۔ اس اقدام کے ذریعے عام شہریوں کے درمیان فاصلے کم کر کے مذاکرات کے لئے راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر سمیت دیگر اہم تنازعات بھی باہمی گفت و شنید سے حل کئے جانے چاہیں۔

دیکھا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا پرہونے والی بین الاقوامی اورعلاقائی کانفرنسوں میں زیادہ تر بھار ت اور پاکستان کے مسائل ہی زیر بحث لائے جاتے ہیں اور چھوٹے ملکو ں کے مسائل پس پشت ڈال دئے جاتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ خطے کے دوسرے ملکوں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہے؟

آپ کا خیال درست ہے۔ یہ رویہ دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ اس طرح ہم ایک طرف بنگلہ دیش اور بھوٹان کی کامیابیوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور دوسری جانب سری لنکامیں تامل شہریوں کی نسل کشی کے اقدامات سے نظریں پھیر لیتے ہیں۔ ہمیں خطے کے تمام ملکوں کو یکساں اہمیت دینی چاہیے تاکہ ہم ان کے تعاون سے امن کی کوششیں جاری رکھ سکیں۔

صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے بیشتر پڑوسی اس پر اعتبار نہیں کرتے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے کی سپر پاور بننے کے خواب دیکھنا بندکرے۔ بھارت علاقے کا بڑا بھائی بننے اور چھوٹے ملکوں کے لئے خطرہ بننے کے بجائے خطے میں تعاون اور جمہوریت کی فضا پیداکرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

آج جنوبی ایشیا میں قیام امن کے امکانات جتنے کم ہیں اتنے پہلے کبھی نہیں تھے۔ خطے کی دو ایٹمی طاقتیں، انڈیا اور پاکستان ایک مستقل سرد جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں گرفتا رہیں۔ آپ کی نظر میں اس صورت حال کے محرکات کیا ہیں؟

پاکستان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ چین، امریکہ اور روس کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔ ادھر بھارت عالمی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور یہی علاقے میں دیرپا امن کے قیام میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب تک پاکستان ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر قابو نہیں پائے گا، جس کا وہ خود بھی شکار ہے، علاقائی امن کا قیام ناممکن ہے۔

کار گل کی جنگ میں دنیا میں پہلی بار دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آگئی تھیں اور یہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال تھی۔ دونوں ملکوں میں دہشت گردی ہو رہی ہے اور خطرہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ بھی لگ سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ضروری ہے۔ دونوں اطراف کے حکمرانوں کو امن کی زبان سیکھنا چاہئے اور عام شہریوں کی خواہش بھی یہی ہے۔

کیا ایک دن برصغیر میں بھی امن کا دور دورہ ہو گا؟ یہاں بھی عام آدمی اقتصادی ناانصافیوں اور دہشت گردی سے نجات حاصل کر سکے گا؟ کیا آپ مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں؟

میرے خیال میں امن اور سماجی ہم آہنگی اس خطے کے شہریوں کا مستقبل ہے کہ یہی ایک طریقہ ہے جس میں انسانیت پنپ سکتی ہے۔ تاہم قدامت پسندی نے جو فضا قائم کی ہے اس کے تدارک کے لئے کچھ عرصہ لگے گا۔ ہمارے معاشرو ں میں اشرافیہ اپنی دولت کے بل پر حکمرانوں سے مراعات حاصل کرتی ہے اور وہ کبھی اپنی طاقت اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ ے گی۔ منصفانہ اقتصادی بنیادوں پر سماجی ڈھانچو ں کی تشکیل مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔

جنوبی ایشیا کے باسی صدیوں سے سماجی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی مثال رہے ہیں۔ لیکن آج یہی لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں مذہبی اور نسلی اختلافات تشدد کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ آپ اس صورت حال کا کس طرح جائزہ لیں گے؟

یہ درست ہے کہ ہمارے معاشرے باہمی اتحاد اور سماجی امن کی مثال سمجھے جاتے تھے لیکن قدامت پسند قوتیں اس سماجی امن کی جڑیں کاٹ رہی ہیں۔ ایک طرف توپاکستان میں شدت پسند گروہوں نے اس افرا تفری میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دوسری طرف ہندوستان میں ہندوتوا کے علم برداروں نے مذہبی منافرت کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کاطریقہ کار اپنالیا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہیے کہ جب بھی دایاں بازو برسر اقتدار آتاہے، صدیوں سے قائم سماجی ہم آہنگی تباہ کر دی جاتی ہے۔ دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہتاہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ جس نظام کی بنیاد نفرت اور تشدد پر کھی جاتی ہے وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔

قدامت پسندی ایک دوسرے کو شہ دیتی ہے۔ مسلم شدت پسندی ہندوتواکی قدامت پرستی کو فروغ دیتی ہے اور ہندوتوا مسلم شدت پسندی کواور اس طرح یہ دائرہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس کا مقابلہ ترقی پسند اور جمہوری قوتیں عوامی طاقت کے ذریعے ہی کر سکتی ہیں۔

آج دنیا بھر میں پاپولزم کی تحریکیں اگر زور نہیں پکڑ رہیں تو جاری ضرور ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان میں منتخب مگر آمرانہ ذہنیت کے رہنما ؤں سے سماجی اتحاد کو سخت خطرات لاحق ہیں؟

جی ہاں! پاپولزم لوگوں کو اصل مسائل سے توجہ ہٹاکرانہیں گروہوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ مثال کے طورپر دنیا کے کئی ملکوں میں اس قسم کی سیاست مہنگائی، افراط زر، بیروزگاری، کرپشن اور سرکاری نااہلی سے نظریں چراکر نسلی یا قومی جذبات کو ہوا دیتی ہے۔

آخر میں یہ بتائیے کہ علاقائی امن اور ترقی کی راہ میں وہ تین رکاوٹیں کیا ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے؟

میرے خیال میں جنوبی ایشیا میں قیام امن اور ترقی کی راہ میں درج ذیل تین رکاوٹیں حائل ہیں۔ اؤل، اقتصادی پالیسیاں جو غربت اور طبقات جنم دیتی ہیں۔ دوئم، پالیسیاں جو لوگو ں کو مذہب اور ذات پات کی بنیادوں پر تقسیم کرتی ہیں۔ سوئم، عالمی طاقتوں کی ترقی پذیر ملکوں میں مداخلت۔

طبقات میں بٹے ہوئے معاشرے میں امن کا قیام ناممکن ہے کیونکہ اقتصادی ناہمواریوں کی موجودگی ہمیشہ سماجی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بھوک اور معاشی مسائل میں گھرے لوگوں کو اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ معاشرے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اقتصادی ناہمواریاں ملک میں ذات پات، برادری، نسل پرستی اور مذہبی تعصبات کو جنم دیتی ہیں۔

ذات پات کے نظام میں نچلے طبقے کے وجو د کو قدرتی طور پر جائز سمجھا جاتا ہے۔ عالمی پیمانے پربھی یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے۔ طاقتور قوتیں اپنے اقتصادی او ر سیاسی مفادات کے لئے کمزور ملکوں پر قبضہ کرنا جائز سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے سرد جنگ ختم ہونے کے بعد بھی نیٹو کوختم نہیں کیا اور اب روس اسے اپنی سا لمیت کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے یوکرین پر چڑ ھ دوڑا ہے!

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔