خبریں/تبصرے

کولمبیا کا پہلا لیفٹ ونگ صدر: گستاووپیٹرو کی تاریخی کامیابی

لاہور(جدوجہد رپورٹ) لاطینی امریکہ ملک کولمبیا کے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کے رہنما گستاوو پیٹرونے تاریخی کامیابی حاصل کی۔ وہ اگست میں اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

62 سالہ پیٹرو نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار روڈلفوہرنینڈس نے 47 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔

سابق باغی رہنما اور دیرینہ سینیٹر گستاوو پیٹرو نے ملک کے معاشی نظام کو تبدیل کرنے، عدم مساوات کو ختم کرنے، امیروں پر ٹیکس لگانے اور غریبوں کو سہولیات فراہم کرنے جیسے وعدوں پر انتخابی مہم چلائی تھی۔ ان کے مدمقابل دائیں بازو کے روڈلفوہرنینڈس نے کرپشن کے خلاف اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنی مہم چلائی تھی۔ وہ ایک تعمیراتی ماہر ہیں اور خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ قرار دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ روایتی قدامت پسند اشرافیہ کے امیدوار سمجھے جانے والے فریڈریکو گوٹیرز کو انتخابات کے پہلے مرحلے میں ہی شکست ہو گئی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کولمبیا کے 39 ملین ووٹرز میں سے صرف 58 فیصد ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ نے لکھا کہ ’گستاوو پیٹرو کی جیت 50 ملین آبادی والے ملک میں بڑے پیمانے پر عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔ غربت اور عدم مساوات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع کی کمی سے وسیع پیمانے پر عدم اطمینان سمیت ایسے مسائل جنہوں نے گزشتہ سال لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر مظاہرے کرنے پر مجبور کیا تھا۔‘

کولمبیا کے ماہر سیاسیات فرنینڈو پوساڈا کا کہنا ہے کہ ’پورا ملک تبدیلی کی بھیک مانگ رہا ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔‘

یاد رہے کہ کولمبیا نے کئی دہائیوں تک بائیں بازو کی شدید مسلح بغاوت کا سامنا کیا ہے، جسے کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج یا ’FARC‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس تنازعے کی وجہ سے بائیں بازو کی سیاسی دھارے میں شرکت مشکل تھی۔ تاہم ’FARC‘ نے 2016ء میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کئے، اپنے ہتھیار ڈالے اور ایک وسیع تر سیاسی عمل کیلئے راستے کھول دیئے تھے۔

واضح رہے کہ نو منتخب صدر گستاوو پیٹرو بھی ماضی میں ایک بائیں بازو کے باغی گروپ کا حصہ رہے ہیں، جسے ’M-19‘کہا جاتا تھا، یہ گروپ70ء کی دہائی میں یونیورسٹی طلبہ نے بنایا تھا اور شہری مسلح باغی گروپ کے نام سے جانا جاتا تھا، تاہم 1990ء میں مسلح جدوجہد ترک کر کے ایک سیاسی جماعت کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

گستاوو پیٹرو کا خیال ہے کہ معاشی نظام ٹوٹ چکا ہے، تیل کی برآمد پر حد سے زیادہ انحصار ہے اور کوکین کے پھلتے پھولتے غیر قانونی کاروبار نے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا دیا ہے۔

وہ دولت مندوں پر زیادہ ٹیکس عائد کرتے ہوئے تیل کی تمام نئی تلاش کو روکنے، دیگر صنعتوں کو ترقی دینے اور سماجی پروگراموں میں توسیع کرنے اور نیو لبرل پالیسیوں کے خاتمے کے عزائم کا اظہار کر چکے ہیں۔

ایک انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ ”ہمارے پاس آج جو کچھ ہے وہ اس کا نتیجہ ہے کہ جسے میں ماڈل کی تنزلی کہتا ہوں، اس معاشی نظام کا آخری نتیجہ ایک ظالمانہ غربت ہے۔“