خبریں/تبصرے

گلگت: اسیروں کی رہائی کیلئے درجن سے زائد مقامات پر دھرنے، سینکڑوں مرد و خواتین شریک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) راولپنڈی کی فوجی عدالت سے عمر قید سمیت دیگر سزائیں پانے والے 13 اسیروں کی رہائی کیلئے گلگت شہر سمیت درجن بھر دیگر مقامات پر احتجاجی دھرنے آج ساتویں روز میں داخل ہو گئے ہیں۔ احتجاجی دھرنوں میں سیکڑوں مرد و خواتین شریک ہیں۔ جگہ جگہ سے سڑکیں بند کر کے احتجاجی دھرنے دیئے گئے ہیں۔

شرکا دھرنا سید شبیر حسین، علی حیدر، جمیل حسین، طارق علی، غلام عباس، وسیم عباس، محمد عباس، صفدر علی، یعصوب دین، مجاہد علی، اختر حسین، محمد عباس، ممتاز علی، زاہد علی، بلال حسین کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دھرنا میں شریک امجد چنگیزی نے ’جدوجہد‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 13 اکتوبر 2005ء کو سکول کے طلبہ کے احتجاج پر رینجرز نے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد فسادات ہو گئے اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے نتیجے میں 2 رینجرز اہلکاران اور 2 خواتین سمیت 7 سویلین ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ اس واقع کے بعد ایک شیعہ مسلک کی مسجد کو بھی مسمار کیا گیا اور تحقیقات کرنے کے بغیر 14 بے گناہ افراد کو حراست میں لیکر انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ ان افراد کا وقوعہ اور فائرنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا، اس وجہ سے انسداد دہشت گردی عدالت نے انکی درخواست ضمانت منظور کر لی تھی۔ تاہم 2015ء میں جب 21 ویں آئینی ترمیم کے تحت پاکستان میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں تو انکا دائرہ کار گلگت بلتستان تک بھی بڑھایا گیا۔ گلگت سے 2005ء کے اس مقدمہ کو راولپنڈی کی فوجی عدالت میں منتقل کیا گیا۔

انکا کہنا تھا کہ مقدمہ میں پہلے گرفتار رہنے والے 14 افراد کو 6 ماہ کیلئے لاپتہ کیا گیا، اس کے بعد انہیں گلگت جیل میں ظاہر کیا گیا۔ کئی روز کی کوششوں کے بعد جب ورثا ان سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوئے تو معلوم ہوا کہ انہیں راولپنڈی کی فوجی عدالت میں ٹرائل کر کے کچھ کو سزائے موت، کچھ کو عمر قید اور باقی کو 25، 25 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں اور سزاؤں کیخلاف اپیل کا وقت گزرنے کے بعد واپس گلگت منتقل کیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ 13 اسیران ابھی جیل میں ہی ہیں اورگلگت ہائی کورٹ میں ان کو دی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت جاری ہے، جو کئی کئی ماہ کیلئے ملتوی کر دی جاتی ہے۔ ایک اسیرعلی رحمت دوران حراست حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہو چکے ہیں۔ دو مزید اسیر خرابی صحت کے باعث زیر علاج ہیں، لیکن انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔

13 اکتوبر 2005ء کو تھانہ سٹی گلگت میں درج ہونے والی ایف آئی آر نمبر 534/2005 میں انسداد دہشت گردی، قتل، اقدام قتل سمیت دیگر جرائم کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ میجر نوید اقبال ٹاسک فورس رینجرز گلگت کی مدعیت میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 13 اکتوبر کی صبح سکول طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ رینجرز کے 20 جوان پولیس کی مدد کیلئے وہاں پہنچے۔ گفت و شنید کے بعد جلوس نے رینجرز کے خلاف نعرے بازی کی اور اسی اثنا میں رینجرز جوان لانس نائیک محمد حیات پر قریبی محلہ سے فائر ہوا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ ساتھ ہی دیگر محلوں سے رینجرز پر اندھا دھند فائرنگ شروع ہوئی۔ مسجدوں سے رینجرز پر حملے کیلئے مدد کی اپیل کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں سپاہی محمد علی اور سپاہی عبدالحمید مارے گئے اور 5 سپاہی زخمی ہوئے۔ ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں چند ’دہشت گرد‘ بھی مارے گئے، چند زخمی بھی ہوئے اور دو تین خواتین بھی زخمی اور ہلاک ہوئیں۔

مقامی صحافی منظر شگری کا کہنا ہے کہ 2005ء میں پنجاب رینجرز اور مقامی شیعہ مسلک کے لوگوں کے مابین مسلح تصادم ہوا تھا۔ دن بھر فائرنگ جاری رہی، 2 خواتین سمیت 7 شہری ہلاک جبکہ دو رینجرز اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ اس فائرنگ کے الزام میں ان 14 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، انہیں فوجی عدالت نے سزا دے رکھی ہے، تاہم ان کا ٹرائل گلگت ہائی کورٹ میں ہو رہا ہے، لیکن تاخیری حربے اپنائے جا رہے ہیں، جس وجہ سے یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔

نوجوان صحافی فہیم اختر کا کہنا ہے کہ لواحقین مقامی عدالتوں میں شنوائی نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔ انکا موقف ہے کہ ملزمان بے گناہ ہیں اور ان کی زندگیاں برباد کر دی گئی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے طویل سزاؤں کے بعد لمبے عرصہ سے زیر حراست سیاسی رہنماؤں کی احتجاج کے بعد رہائی سے ہی ان قیدیوں کے لواحقین نے بھی اپنے اسیران کی رہائی کیلئے یہ راستہ اختیار کیا ہے۔

امجد چنگیزی کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سال اگست، ستمبر میں بھی احتجاجی دھرنا دیا تھا، جس کے بعد سول و ملٹری حکام نے مذاکرات کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی تھی کہ اسیران کو رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ اب ہم اس احتجاج کا دائرہ کار پورے گلگت بلتستان تک پھیلائیں گے، جب تک اسیران کو رہا نہیں کیا جاتا، یہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

مقامی صحافی تنویر احمد کا کہنا تھا کہ یہ 13 اسیران اس کے علاوہ دیگر مقدمات میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ 2005ء کے اس واقع میں گرفتاری کے بعد یہ ضمانت پر رہا تھے، اس دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 2012-13ء میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں بھی ان پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ تاہم ابھی تک منظر عام پر یہی ایک ایف آئی آر ہے، جس میں انہیں سزائیں بھی سنائی گئی ہیں اور ابھی بھی ہائی کورٹ میں ٹرائل جاری ہے۔

مقامی سیاسی رہنما و قانون دان احسان علی ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں ان اسیروں کو سنائی گئی سزاؤں کو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن کی فوجی عدالت کے دائرہ کار میں گلگت بلتستان شامل نہیں ہے۔ گلگت سے لوگوں کو اغوا کر کے راولپنڈی کی عدالت میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ بھی بوگس اور جعلی ہے اور سزائیں بھی جابرانہ اور غیر قانونی ہیں۔ اس لئے اسیران کو فی الفور رہا کیا جائے اور بے بنیاد مقدمہ کو ختم کیا جائے۔