اداریہ

پاکستان سیلاب سے نہیں، مسلسل ریاستی نااہلیوں کی وجہ سے ڈوبا

اداریہ جدوجہد

پاکستان کے میدانی علاقوں میں غیر معمولی مون سون بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے آنے والے سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے۔ 14 جون سے شروع ہونے والی اس سیلابی صورتحال میں ابھی تک لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور اور کسی سرکاری و غیر سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔ سیلابی پانی کے ریلے ابھی بھی سندھ کے دیہی علاقوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت پانی کو دیہاتوں اور شہروں میں داخل ہونے سے روکنے میں مصروف جہد نظر آ رہے ہیں۔

سیلابی صورتحال کی وجہ سے ابھی تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 6500 کلومیٹر سڑکیں، 246 پل اور 17 لاکھ مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پاکستان کی 65 فیصد اہم غذائی فصلیں، جن میں 70 فیصد چاول شامل ہے، سیلاب کے دوران بہہ گئی ہیں۔ 30 لاکھ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 45 فیصد زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے۔ مجموعی نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زائد کا لگایا جا رہا ہے۔ نقصانات کے متعلق ان اعداد و شمار اور تخمینوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کی بڑی وجہ سیلابی علاقوں تک ابھی تک ریاست کی مکمل رسائی نہ ہوپانا ہے۔

سیلابی پانی کے زرعی زمینوں سے اترنے کے حوالے سے دو ماہ کا وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں خوراک کا اہم ذریعہ سمجھی جانے والی گندم کی فصل کی سالانہ کاشت متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ گندم کی فصل کاشت کرنے کا سیزن آئندہ ماہ شروع ہو رہا ہے، جبکہ زرعی زمینیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ سیلابی پانی اترنے کے بعد بھی زمینوں کو قابل کاشت ہونے تک تین سے چار ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں خوراک درآمد کرنا پڑے گی، جس کی وجہ سے ادائیگیوں کے توازن کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ سیلاب سے پہلے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ کچھ اشیا کی قیمتیں میں 500 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب حکمران سیلاب کی ان تباہ کاریوں کو قدرتی آفت قرار دیتے ہوئے نقصانات کی ذمہ داری لینے سے کتراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ موجودہ بارشوں اور سیلابی صورتحال نے 75 سال کے دوران حکمران طبقات اور ریاست کی جانب سے انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے کئے گئے اقدامات کی بھی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ سیلاب سے انسانی جانوں کو بچانے کیلئے پیشگی کوئی اقدام سرے سے ہوتا ہوا نظر نہیں آیا ہے۔

14 جون سے بلوچستان میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کی طرف ابتدائی طور پر توجہ بھی دینا گوارہ نہیں کیا گیا۔ حکومتوں کی جانب سے بھی بلوچستان اور دیہی سندھ میں ہونے والی تباہ کاریوں کی طرف نہ صرف توجہ نہیں دی گئی بلکہ سیلاب کے مسلسل پھیلنے کے عمل سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کیلئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

یہاں تک کہ میڈیا میں بھی سیلاب کا تذکرہ 25 اگست کو سوات میں سیلابی ریلوں کی تباہ کاریوں کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کے بعد ہی شروع ہوا۔ اس سے قبل خبر ناموں کے آخری حصوں میں کہیں سیلابی صورتحال کا معمولی تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔ ایک طرف آدھا پاکستان سیلاب میں ڈوبتا چلا جا رہا تھا، جبکہ میڈیا شہباز گل کی گرفتاری کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ پرائم ٹائم ٹاک شوز میں بھی شہباز گل پر ہی تبصرے کرنے میں مصروف رہا ہے۔

پاکستان میں سیلاب کی نہ صرف پیشگوئی رواں سال سے کی جا رہی ہے، نہ ہی سیلاب کی وجہ سے ہونے والی یہ بربادی کوئی پہلی دفعہ ہو رہی ہے کہ اس کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا سکے ہیں۔ گزشتہ 30 سال سے پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

حکومتیں اور میڈیا سیلاب کو قدرتی آفت قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، یا پھر تجاوزات اور ندی نالوں کے راستوں میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کو اس کا مورد الزام ٹھہرا کر اپنا دامن جھاڑ دیتے ہیں۔ تاہم اصل صورتحال ایسی نہیں ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ موجودہ سیلابی صورتحال صرف دریاؤں اور ندی نالوں میں تغیانی کے باعث نہیں پیدا ہوئی۔ اس سیلابی صورتحال کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سے ایک سندھ سمیت دیگر میدانی علاقوں میں ہونے والی غیر معمولی مون سون کی بارشیں تھیں، دوسری وجہ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے پر ہونے والی غیر معمولی بارشیں تھیں اور تیسری وجہ شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشیں اور گلیشیئرز کا پگھلنا بھی ایک وجہ تھی۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت سندھ کا اکثریتی حصہ غیر معمولی بارشوں اور کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے پانی کی وجہ سے زیر آب آیا۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں سیلابی صورتحال شمالی پہاڑی سلسلے پر کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے دریائے سوات، دریائے کابل، دریائے سندھ اور دیگر چھوٹے دریاؤں اور ندی نالوں میں تغیانی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔

14 جون سے شروع ہونے والی اس سیلابی کیفیت کو تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران یہ سیلاب مسلسل پھیلتا اور دیہاتوں، شہروں، قصبوں اور زرعی زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا گیا۔ تاہم اس سب کے باوجود وسیع پیمانے پر برباد ہونے والی آبادیوں کیلئے کوئی متبادل انتظام نہ کر کے حکمرانوں نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔

انفراسٹرکچر کی جانب ریاست کی 75 سالہ توجہ کا عالم یہ ہے کہ بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا ریلوے پل آج سے 115 سال قبل برطانوی سامراج کے دور اقتدار میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کی 75 سالوں کے دوران مرمت بھی نہ کی جا سکی اور وہ سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا۔ اسی طرح کئی پل ایسے ہی تھے جو دہائیوں پہلے تعمیر کئے گئے تھے، اگر سیلاب نہ بھی آتا تو کسی روز وہ حادثات کا موجب بن سکتے تھے۔

نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی بے ہنگم تعمیر کے دوران ندی، نالوں اور دہائیوں و صدیوں پہلے چلنے والے دریاؤں کے قدرتی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اسی طرح شہروں اور دیہاتوں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو کسی نظم و ضبط میں ڈھالنے میں یہ ریاست مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

دوسرے لفظوں میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنے کی بجائے پہلے سے موجود قدرتی بہاؤ کے راستوں کو بھی روکنے جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں آنے والا سیلابی پانی تقریباً ایک صدی بعد ان راستوں پر رواں دواں تھا، جہاں وہ ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے تک قدرتی بہاؤ میں بہتا ہوا سمندر میں گرا کرتا تھا۔ تاہم اب ان راستوں پر شہر، دیہات، زرعی زمینیں اور قصبے تعمیر ہو چکے تھے۔ پانی کو سمندر میں جانے کا راستہ نہیں ملا اور وہ دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتا چلا گیا۔

سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کو بلاتفریق قرار دیکر یہ باور کروانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ اس سے سب کا برابر کا نقصان ہوتا ہے۔ تاہم اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو سیلاب سے دیگر قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کا کردار بھی طبقاتی ہوتا ہے۔ غریب، مزدور، کسان اور محنت کش ہی ان آفات کی تباہ کاریوں میں برباد ہوتے ہیں۔ اگر کہیں امیروں کے مکانات زیر آب آ بھی جائیں تو بھی وہ سرمائے کے بل بوتے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکتے ہیں، بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور مکانات سے لیکر کاروبار تک دوبارہ کھڑا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب غریب عوام کو محفوظ مقام تک پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے، سیلابی پانی بیماریوں کی صورت میں ایک نئی آفت بن جاتا ہے، خوراک حاصل کرنے کیلئے کوئی وسیلہ باقی نہیں رہ جاتا۔ کھلے آسمان تلے پڑے لاکھوں خاندان اور انہی متاثرہ علاقوں کے وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خاندانوں کی سیلاب سے محفوظ شہروں میں پر سکون زندگیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہونے والے کروڑوں محنت کشوں کی دوبارہ آبادکاری، نئی فصلوں کی کاشت اور زندگیوں کو محفوظ کرنا ایک بڑی اذیت سے کم نہیں ہے۔

کسی بھی طرح کی آفت کے بعد چند روپے امداد کی صورت میں دینے، یا ہیلی کاپٹروں سے خوراک کے چند تھیلے پھینکے جانے سے ریاست کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اداروں کا قیام اس لئے نہیں کیا جاتا کہ جب سب کچھ برباد ہو جائے تو پھر بیرون ملک سے امداد کا انتظار کیا جائے اور اس امداد کے گرد اپنی آنیاں جانیاں شروع کر دی جائیں۔ دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں بھی سیلاب، زلزلے، آتش فشاں کے پھٹنے سمیت دیگر نوع کی قدرتی آفات آتی ہیں۔ ان آفات سے آبادیوں کو محفوظ رکھنے، نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے پیشگی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ جاپان اور چلی میں زلزلوں سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے کئے جانے والے حفاظتی اقدامات ہوں، یا کیوبا، بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات ہوں۔ بیشتر خطوں اور ملکوں میں اس طرح کے پیشگی اقدامات اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں ایسا نہ ہو سکنا اس ملک کے حکمران طبقہ اور ریاست کی تاریخی نااہلی، ناکامی اور تاخیر زدگی کی وجہ سے ہے۔ موجودہ قدرتی آفت یہ ثابت کر رہی ہے کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے یہ ریاست اور حکمران طبقات کبھی بھی ترقی پسندانہ کردار ادا نہیں کر سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی ان قدرتی آفات کی سب سے بڑی ذمہ داری پھر اس نظام اور اس کے عالمی رکھوالوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جن کی منافعوں کی ہوس نے اس کرۂ ارض کے ماحول کو بری طرح سے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ فطرت کا بے دریغ استحصال کر کے اس کرۂ ارض سے نسل انسان ہی نہیں زندگی کو ہی خطرات سے دو چار کر دیا گیا ہے۔ اس بے دریغ استحصال کے باوجود پیدا ہونیو الے وسائل کو انسانی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے خرچ کرنے کی بجائے چند سرمایہ داروں کی تجوریوں میں جمع کرنے کا محفوظ راستہ یہ نظام مہیا کرتا ہے۔ حکمران طبقات کی پھیلائی گئی ان تباہ کاریوں کا براۂ راست شکار نہ صرف محنت کش طبقہ ہو رہا ہے، بلکہ دنیا کے پسماندہ ترین خطوں کا پہلے سے برباد محنت کش طبقہ ان تباہ کاریوں کی وجہ سے مزید برباد ہو رہا ہے۔ ان بربادیوں کا انتقام نہ صرف اس ریاست اور اس کے حکمرانوں سے لیا جائے گا بلکہ اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے ایک منصفانہ، ماحول دوست اور انسانی معاشرے کا قیام ہی ان بربادیوں کا حقیقی انتقام ہو گا۔

کارٹون: بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو