پاکستان

سویڈن کا جوا؟ لاک ڈاﺅن نہیں سکیل ڈاﺅن، سیاستدان نہیں سائنسدان

فاروق سلہریا

میں 18 مارچ کو اسلام آباد سے، براستہ استنبول، سٹاک ہولم پہنچا۔ جہاز مسافروں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کسی نے منہ پر ماسک پہن رکھا تھا۔ پاکستانی مسافروں سے بھرے جہاز میں روایتی شور شرابہ مفقود تھا۔ اسلام آباد ائر پورٹ پربھی عجیب سی پر اسرا ر خاموشی تھی۔ ائرپورٹ پر الواداع کہنے والوں کی روایتی بھیڑ نہ تھی۔ لوگ بھی ایک دوسرے سے تھوڑے دور دور بیٹھ رہے تھے۔

استنبول ائرپورٹ تو بالکل اجڑا ہوا تھا۔ کافی سارا حصہ تو بالکل بند کر دیا گیا تھا۔ جب میں نے اپنی فلائٹ دیکھنے کے لئے اسکرین پر نظر دوڑائی تو حیران رہ گیا۔ اکثر فلائٹس کینسل ہو چکی تھیں۔ میری ایک سکاٹش مسافر سے بھی ہلکی سی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے ایک مشکل میں میری مدد کی اور یوں ہماری بات چیت شروع ہو گئی۔ سکاٹش مسافر کی فلائٹس پانچ دن سے منسوخ ہو رہی تھیں۔ انہیں ہوٹل روم تو فراہم کر دیا گیا تھا مگر پانچ دن کا انتظار! میں خوش تھا کہ میری فلائٹ بر وقت روانگی کا سگنل دے رہی تھی۔ سٹاک ہولم ائر پورٹ پر بھی روائتی ہلا گلہ مفقود تھا۔ پانچ میں سے چار ٹرمینل بند تھے۔

میرا خیال تھا دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد باہر نکلیں گے تو اسکرینگ وغیرہ ہو گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ہاں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے کچھ اہل کار معلومات فراہم کرنے کے لئے کھڑے تھے۔ ائرپورٹ سے بس کے ذریعے گھر کے لئے روانہ ہوا تو احساس ہوا کہ ٹکٹ کی ضرورت نہیں۔ سٹاک ہولم میں ڈرائیور گیٹ پر ٹریکر لگا ہوتا ہے جس پر ٹکٹ کو سکین کرنا ہوتا ہے۔ اس خیال سے کہ ڈرائیور سے مسافروں کا رابطہ نہ ہو ڈرائیور گیٹ ہی بند نہیں کر دیا گیا، بلکہ بس کا سفر فری کر دیا گیا ہے۔ مسافر پچھلے گیٹ سے بس میں سوار ہو جائیں۔ ڈرائیور کے قریب والی نشستیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔

بس میں چند ہی لوگ تھے۔ سب فاصلے پر بیٹھے تھے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق سویڈن کے اندر دس میں سے نو لوگ سماجی فاصلہ پر عمل کر رہے ہیں۔ یہی وہ سماجی ذمہ داری ہے جس کی توقع کرتے ہوئے یہاں کی حکومت نے لاک ڈاﺅن کرنے کی بجائے سکیل ڈاﺅن کیا (گو سکیل ڈاﺅن کی اصطلاح یہاں استعمال نہیں ہو رہی، یہ اصطلاح اس مضمون میں استعمال کی جا رہی ہے)۔

سکیل ڈاﺅن سے مراد یہ لی جا رہی ہے کہ سویڈن نے سارے ملک کو بند کرنے کی بجائے بھیڑ کو کم کرنے کی کوشش کی، مثلاً کالجز اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئیں مگر اسکول کھلے رکھے۔ چین اور دیگر ممالک سے ملنے والے اعدادو شمار سے سویڈن نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ بچے رسک گروپ (یعنی وہ گروہ جسے خطرہ لاحق ہو) نہیں ہیں۔ اسی طرح چھوٹے کاروبار یا ایسے کاروبار جہاں سے ملازمین گھر سے کام کر سکیں، ان سے کہا گیا کہ وہ دفتر یا کام کی جگہ پر مت آئیں۔ بیماری کی وجہ سے چھٹی کرنے پر کچھ تنخواہ کٹتی تھی اور ایک ہفتے سے زیادہ بیماری کی چھٹی کرنے پر ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ شرائط ختم کر دی گئیں۔ نہ صرف اب بیماری کی صورت میں تنخواہ نہیں کٹتی بلکہ ڈاکٹر کے سرٹیفیکیٹ کی شرط بھی ختم کی گئی۔ ریستوران اور کیفے کھلے تو ہیں لیکن ان پر پابندی ہے کہ وہ سماجی دوری کو یقینی بنائیں گے۔ حال ہی میں سٹاک ہولم میں دو درجن کے قریب ایسے کیفے، پب اور ریستوران سزا کے طور پر بند کئے گئے جو اِن ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔ سٹاک ہولم جو کرونا وبا کا مرکز ہے، میں گاڑیوں کی پارکنگ فیس ختم کر دی گئی ہے تاکہ لوگ بس اور ٹرین میں کم سفر کریں۔

سویڈن کی اس حکمت عملی کو پہلے پہل عالمی سطح پر ایک ایسی منفرد چیز پر دیکھا گیا جس بارے تجسس پایا جاتا ہے۔ پھر جب مارچ کے اواخر میں سویڈن میں اموات اور کرونا مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی تو سویڈن پر تنقید ہونے لگی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سویڈن کو اپنے مخصوص انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے کہا سویڈن ہرڈ امیونٹی (Herd Immunity) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہرڈ امیونٹی کی بات پہلے پہل برطانیہ کے وزیر اعظم نے کی تھی اور پھر وہ اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔ سچ تو یہ ہے سویڈن نے کبھی بھی ہرڈ امیونٹی (جس کے بارے میں وکی پیڈیا پر اچھی معلومات موجود ہیں) کی پالیسی کا نہ تو اعلان کیا نہ ہی اس پر عمل پیرا ہوا۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ کرونابارے سویڈش پالیسی کی مختصر وضاحت کر دی جائے۔

پہلی بات: سویڈن میں کرونا سے لڑنے کی پالیسی حکومت نہیں سائنس دان بنا رہے ہیں۔ یہاں کے چیف اپیڈیمالوجسٹ آندرش تیگنل (Anders Tegnel) اس پالیسی سازی کا چہرا ہیں۔ وہ ہر شام ٹیلی وژن اسکرین پر موجود ہوتے ہیں۔ اس وقت اگر انہیں سویڈن کا سب سے زیادہ مقبول شخص کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ دلیل، عاجزی اور مودبانہ انداز میں بات کرتے ہوئے آندرش تیگنل انتہائی تحمل کے ساتھ صحافیوں کے تند و تیز سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر روز وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے نظر آتے ہیں۔ سویڈن ہی کیا، اب عالمی سطح پر ان کا ذکر ہو رہا ہے۔ 20 اپریل کو عالمی ادارہ صحت نے بھی سویڈن کی تعریف کی۔

جس با ت کا ذکر آندرش تیگنل روز کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہماری حکمت عملی کا لب لباب تھا: ہسپتال سسٹم پر بوجھ نہ پڑے۔ سماجی دوری کا مقصد یہ ہے کہ کرونا آہستہ پھیلے۔

سویڈن کے پاس اس بحران کے آغاز پر دو ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز تھے۔ سویڈن میں کسی بھی وقت ایمرجنسی یعنی وینٹی لیٹرز پر رکھے گئے مریضوں کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے اوپر نہیں گئی۔ اسی دوران سویڈش فوج نے تین فیلڈ ہسپتال بھی قائم کر دئے ہیں۔ اس کے علاوہ سویڈش فوج نے اپنے ہیلی کاپٹرز بھی کرونا مریضوں کو ایمرجنسی میں ہسپتال پہنچانے کے لئے فراہم کئے ہیں تا کہ جو ہسپتال سسٹم کے اپنے ہیلی کاپٹر ہیں وہ دیگر ایمرجنسی حالات کے لئے دستیاب رہیں۔

ان تمام اقدامات کے باوجود اپریل میں تیزی سے اموات میں اضافہ ہونے لگا۔ سویڈن میں اب تک (7 مئی) 2,941 اموات ہو چکی ہیں۔ اس کے مقابلے پر پڑوسی ملک ڈنمارک میں 264 اموات اب تک رپورٹ ہوئی ہیں۔ نہ صرف ڈنمارک بلکہ ناروے میں بھی بہت جلد لاک ڈاﺅن کیا گیا بلکہ بہت سختی سے لاک ڈاﺅن کیا گیا۔ آندرش تیگنل کا کہنا ہے کہ صرف لاک ڈاﺅن کی مدد سے اس مسئلے کو نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ سب سے سخت لاک ڈاﺅن سپین، اٹلی اور فرانس نے کیا مگر وہاں آبادی کے تناسب سے بھی سویڈن کی نسبت زیادہ اموات ہوئیں۔

اٹلی کی طرح سویڈن میں بھی زیادہ اموات بوڑھے لوگوں کی ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سویڈن کے مختلف ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جن ممالک نے لاک ڈاﺅن کی مدد سے اموات کی شرح روکی یا کم کی، ان کی حکمت عملی کی کامیابی کا معیار اس وقت پتہ چلے گا جب لاک ڈاﺅن نرم کئے جائیں گے۔ ایک بات جو آندرش تیگنل بار بار کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کس ملک کی حکمت عملی زیادہ مناسب تھی، سویڈن نے دستیاب معلومات اور مسلسل کی جانے والی تحقیقات کے بعد اپنے حالات کے مطابق پالیسی بنائی۔

اب دو ہفتے قبل ناروے اور ڈنمارک نے پابندیاں نرم کیں تو سویڈن کی مثال ہی دی گئی۔ باقی یورپ اور امریکہ میں بھی سویڈن کی مثال دی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ سویڈن میں اس پالیسی کے نقاد نہیں ہیں۔ یہاں کے بے شمار سائنس دانوں نے مختلف مواقع پر میڈیا میں مشترکہ مضامین لکھے اور لاک ڈاون کا مطالبہ کیا۔ کچھ ماہرین ہرڈ امیونٹی کے حق میں بھی وکالت کرتے رہے۔ میں نے اس سلسلے میں ہفت روزہ انٹرناشنالن (Internationalen) کے مدیر مارکو جمیل اسپوال (Marco Jamil Espvall) سے انٹرویو کیا۔ انٹرناشنالن بائیں بازو کا جریدہ ہے۔ اس کے صفحات میں بھی اس موضوع پر زبردست بحث جاری ہے۔

جدوجہد: کیا آپ کے خیال سے یہ درست فیصلہ تھا کہ کرونا سے نپٹنے کی حکمت عملی سائنس دان بنا رہے ہیں نہ کہ حکومت؟

مارکو: یہ ایک سائنسی مسئلہ ہے، صحت کا مسئلہ ہے …تو اِس پر پالیسی بھی ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کو ہی بنانی چاہئے۔ حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں وہ البتہ نا مناسب ہیں۔ جو بیل آوٹ پیکیج دئے جا رہے ہیں اس کا مقصد سرمایہ دار کمپنیوں کو بیل آﺅٹ کرنا ہے نہ کہ محنت کشوں کو۔ اسی طرح ہسپتال کا اور صحت کا نظام بہتر بنانے پر خرچ ہونا چاہئے۔ حکومت 2007-08ءوالے بحران کی طرح سرمایہ داروں کو بیل آﺅٹ کر رہی ہے نہ کہ عوام کو۔

جدوجہد: کیا لاک ڈاﺅن کی بجائے اسکیل ڈاﺅن کی پالیسی درست تھی، فار لیفٹ کے اندر کیا رائے پائی جا رہی ہے؟

مارکو: جہاں تک تعلق ہے مین اسٹریم لیفٹ قیادت کا تو سب حکومتی پالیسی سے متفق نظر آتے ہیں۔ فار لیفٹ میں بھی ایک بات پر تو سب کا اتفاق ہے: حکومت سرمایہ داروں کو بیل آﺅٹ کرنے کی بجائے ہیلتھ سسٹم پر سرمایہ کاری کرے۔ لاک ڈاﺅن پردو طرح کی رائے ہے۔ لاک ڈاون کے حامی بھی موجود ہیں۔ سویڈن میں اموات بہت زیادہ ہوئی ہیں۔

جدوجہد: زیادہ اموات اولڈ ہومز کے اندر ہوئی ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس شعبے کی نج کاری نہیں۔ آندرش تیگنل نے بھی ایک دن کہا تھا کہ ناروے کا اولڈ ہوم سسٹم بہتر تھا اس لئے وہاں بوڑھوں کی اموات کم ہوئیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

مارکو: دیکھیں جب لوگ اولڈ ہوم میں لائے جاتے ہیں تو ان کی صحت بہت خراب ہو چکی ہوتی ہے۔ ان کی زندگی کا عموماً ایک آدھ سال ہی باقی ہوتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے۔ ہاں البتہ نج کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس سیکٹر میں کام کرنے والے لوگوں کے پاس حفاظتی لباس بھی نہیں تھے اور انہیں منافع بچانے کے لئے نجی کمپنیاں سامان فراہم کرنے سے ہچکچا بھی رہی تھیں۔ نجکاری تو یہاں تیس سال سے جاری ہے۔ یوں ہیلتھ سسٹم اور اولڈ ہوم کا بحران لانگ ٹرم نیو لبرلزم پالیسیوں کا بحران ہے۔ یہ جو اموات ہوئی ہیں ان کا تجزیہ کرنے کے لئے موجودہ کرونا پالیسی کو دیکھنا کافی نہیں۔ پچھلے تیس سال کی معاشی پالیسیاں دیکھنا ضروری ہے۔

20 اپریل کو سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق 80 فیصد شہری کرونا بحران سے نپٹنے کے لئے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں۔ اس سے قبل ایک اور سروے میں پتہ چلا کہ کرونا بحران کے بعد سویڈن کے سوشل ڈیموکریٹک وزیر اعظم ستیفن لووین (Stefan Lofven) سیاسی رہنماﺅں میں سب سے مقبول رہنما بن گئے ہیں۔ ان کی مقبولیت میں کرونا کے بعد 18 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ ان کے بعد دوسرا نمبر لیفٹ پارٹی کے یونس خوستاد (Jonas Sjostedt) کا تھا۔

اشرافیہ کا اتحاد

اس وقت پارلیمنٹ میں آٹھ جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے۔ حکومت ایک طرح سے چار جماعتی اتحاد (سوشل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی، لبرل پارٹی، سنٹر پارٹی) چلا رہا ہے۔ لیفٹ پارٹی، کنزرویٹوز (ماڈریٹس)، کرسچین ڈیموکریٹس اور فسطائی رجحان رکھنے والی سویڈش ڈیموکریٹس حزب اختلاف ہیں۔

کسی بھی جماعت نے کرونا کے مسئلے پر حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ ایک ایسا موقع آیا تھا کہ حکومت نے کچھ ایمرجنسی اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر لیفٹ پارٹی نے بالخصوص اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہر حکومتی اقدام پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اٹھایا جائے گا۔ ایک پارلیمانی اجلاس میں یہ مطالبہ مان لیا گیا اور یوں حکومت کے پاس اب کچھ نئے آئینی اختیارات آ گئے ہیں جنہیں وہ پارلیمنٹ کی منظوری سے استعمال کر سکتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اشرافیہ کا اتحاد پھر سے دیکھنے میں آیا ہے۔ اشرافیہ کا اتحاد سویڈن کی سیاسی تاریخ کا اہم جزو رہا ہے جس پر انقلابی حلقے تنقید کرتے ہیں اور سوشل ڈیموکریٹک حلقے اسے ایک کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں۔

بے روزگاری

جاب بیورو کی طرف سے اس ہفتے کے آغاز پر جاری کئے گئے ایک بیان کے مطابق اس سال موسم گرما تک بے روزگاروں کی تعداد پانچ لاکھ ہو سکتی ہے۔ گویا بے روزگاری کی شرح 14 فیصد تک جا سکتی ہے۔ مارچ کے بعد سے تقریباً سوا لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ سرکاری حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ سویڈن میں جدید دور کی سب سے بڑی بے روزگاری ثابت ہو سکتی ہے۔ پچھلے ہفتے ہی یہاں کی قومی ائرلائن ’ساس ‘(SAS) نے پانچ ہزار ملازمین کی چھانٹی کا فیصلہ کیا۔ یہ اس کی کل ورک فورس کا چالیس فیصد ہے۔ ساس کی مثال ثابت کرتی ہے کہ کس بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل رہی ہے۔

گھریلو تشدد میں اضافہ

باقی دنیا کی طرح سویڈن میں بھی گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ بچے اور خواتین اس کا شکار بنے ہیں۔ سویڈن ایک ایسا ملک ہے جہاں عورتوں اور بچوں کو جو حقوق حاصل ہیں انہیں باقی دنیا کے مقابلے پر مثالی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں کا سماج بھی بچوں اور خواتین کے حقوق پر بہت کمٹڈ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی خبریں آتے ہی حکومت نے گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے قائم اداروں کی خدمات، کرونا بحران کی ایمرجنسی کے پیش نظر بہتر بنانے کے لئے، 100 ملین سویڈش کراﺅن (تقریباً 10 ملین ڈالر) کی رقم مختص کر دی ہے۔

کھیل اور کلچر کے لئے حکومتی امداد

باقی یورپ کی طرح یہاں فٹ بال بہت مقبول ہے مگر فٹ بال کی سویڈش لیگ کا سیزن فی الحال معطل ہے۔ باقی کھیلوں کے مقابلے بھی بند ہیں۔ اس کے علاوہ اپریل میں حکومت نے جب عوامی اجتماع میں تعداد پانچ سو کی بجائے پچاس کر دی تو تھیٹر اور سینما گھر بھی عملاً بند ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی سماجی دوری کی وجہ سے ثقافتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو چکی تھیں۔ کھیل اور ثقافت کو بحران سے بچانے کے لئے بھی حکومت نے ایک ارب کراﺅن کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ پانچ سو ملین کراﺅن کھیل اور پانچ سو ملین کراﺅن کلچر کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔

کیا سویڈن والی پالیسی پاکستان میں لگائی جا سکتی ہے؟

اس بات کا سائنسی جواب تو ماہرین ہی دے سکتے ہیں۔ کچھ باتیں بہر حال قابلِ غور ہیں۔ سویڈن کی آبادی نہ صرف بہت کم ہے بلکہ یہاں کی آبادی بہت زیادہ ڈسپلن کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ یہاں کی آبادی کے لحاظ سے ہیلتھ سسٹم نہ صرف یہ کہ (نجکاری کے باوجود) مناسب ہے بلکہ ایمرجنسی اقدامات کر کے بہتری بھی لائی گئی ہے۔ اسی طرح یہاں کے سائنس دان مسلسل نئی نئی چیزیں ایجاد کر رہے ہیں جس کا مقصد کرونا پر قابو پانا ہے۔ نئے نئے لیبارٹری ٹیسٹ اور کٹس ایجاد کی گئی ہیں۔ ویکسین پر کام ہو رہا ہے۔ ماسک پہننے یا نہ پہننے کی افادیت پر سائنسی تجربے ہو رہے ہیں۔ اربوں روپیہ تحقیق کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ اشرافیہ متحد ہے۔

پاکستان میں سب کچھ اس کے الٹ ہے۔ سائنس سیاست ہی نہیں مولوی صاحب کے بھی تابع ہے۔ پاکستانی حکمران طبقے کی بہت بڑی ناکامی یہ ہے کہ شہریوں کو ایک بھیڑ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہیلتھ سسٹم کی کمر کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ اس وقت تک کوئی مشترکہ حکمت عملی ہی نہیں بن سکی، باقی باتیں تو بعد کی بات ہیں۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔