خبریں/تبصرے

فیس بک: اسقاط حمل کی گولیوں پر پابندی، بندوق بیچنے کی اجازت

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سوشل میڈیا ویب سائٹس فیس بک اور انسٹا گرام نے ایسی پوسٹیں ہٹانا شروع کر دی ہیں، جو خواتین کو اسقاط حمل کی گولیوں کی تجاویز پر مشتمل ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل پر پابندی عائد کئے جانے کے فیصلہ کے بعد امریکی خواتین اب ماضی میں حاصل اس آئینی حق سے محروم ہو گئی ہیں۔ تاہم فیصلے سے قبل بھی امریکہ کی کچھ ریاستوں میں اسقاط حمل پر پابندی عائد تھی۔

’اے پی‘ کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور اسٹیٹس اپ ڈیٹس میں اسقاط حمل ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ خواتین کی مدد کرنے اور اسقاط حمل کے طریقے بتانے سے متعلق پوسٹوں کی بھرمار ہو رہی ہے۔

تاہم فیس بک اور انسٹاگرام نے ان میں سے کچھ پوسٹیں ہٹانا شروع کر دیں ہیں۔ میڈیا انٹیلی جنس فرم ’زیگنل لیب‘ کے تجزیے کے مطابق اسقاط حمل کی گولیوں کے تذکروں پر مبنی پوسٹیں جمعہ کی صبح اچانک ٹویٹر، فیس بک، ریڈٹ اور ٹی وی نشریات پر پھیل گئیں، جنہیں اب ہٹایا جا رہا ہے۔

امریکی صحافی مارک جیکب نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ”ٹیسٹ کے طور پر ایک رپورٹر نے فیس بک پر پوسٹ کیا: ’اگر آپ مجھے اپنا پتہ بھیجیں تو میں آپ کو اسقاط حمل کی گولیاں بھیج دوں گا۔‘ پوسٹ کو ایک منٹ میں ہٹا دیا گیا۔ جب رپورٹر نے وہی پوسٹ دوبارہ کی لیکن ’اسقاط حمل کی گولیاں‘ کے فقرے کو ’بندوق کی گولیاں‘ میں تبدیل کر دیا، تو پوسٹ کو چھوڑ دیا گیا۔“