تاریخ

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔


پاکستان میں حب الوطنی اور غداری کی سیاست کی مختصر تاریخ

ریاست اور حکمران اشرافیہ کو اختلافی آوازوں پر غداری کا الزام لگانے کا خطرناک کھیل کھیلنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے اور ان کی حقیقی شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اس لیے عدم برداشت اور استثنیٰ کی بجائے رواداری اور شمولیت کے کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ جتنی جلدی ہم یہ کریں گے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ریاست اور قوم کی تعمیر

پاکستان میں پہلے دن سے ریاست کی تعمیر اور قومی تعمیر میں نظریہ مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ ملک کے بانی اور بابائےِ قوم محمد علی جناح (جنہیں قائد اعظم کے نام سے جانا جاتا ہے) کی اس تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، جو انھوں نے 11 اگست 1947ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی، کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک تھیوکریٹک (مذہبی) ریاست ہونا چاہیے جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے سیکولر ریاست ہونا چاہیے۔

قدیم ہندوستان میں جاسوسی کا نظام

ریکارڈ شدہ انسانی تاریخ حکمرانوں کی طرف سے اپنی رعایا پر اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے، اسے وسعت دینے اور محکوم شہریوں اور برادریوں پر اپنی وسیع رِٹ کو برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس آلات کے موثر استعمال کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ قدیم چینی اور ہندوستانی حکمت کاروں اور مشیروں، جیسے سن زو اور چانکیہ کوٹلیہ، کی تحریروں میں دھوکادہی، بغاوت اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں کافی معلومات موجود ہیں۔

کامریڈ زبیر الرحمن: وہ جو کوچہ قاتل سے بچ کے آئے تھے

کامریڈ زبیر الرحمان سر سے پاؤں تک ایک انقلابی تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی انقلاب کیلئے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے جو شادی بھی کی وہ بھی ایک انقلابی کامریڈ صوفی کی انقلابی بیٹی سے کی۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے تھے۔

ہیروشیما ناگا ساکی: امریکی ایٹم بم بمقابلہ کمیونسٹ تحریک کی امن فاختہ

اس جنگ کے خاتمے پر پوری دنیا امن کی خواہاں تھی۔ دنیا بھر کی ماسکو نواز کمیونسٹ پارٹیوں نے سوویت یونین کی ہدایت پر عالمی امن کی مہم شروع کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں ورلڈ پیس کانگرس کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا پہلا اجلاس 1949ء میں پیرس میں ہوا۔ اس کانگرس کے پوسٹر کے لئے پکاسو کے ایک سکیچ کا انتخاب کیا گیا۔ یہ اسکیچ دنیا بھر میں امن اورایک وقت پر کمیونسٹ تحریک کی علامت بن گیا۔

پنجاب کسان تحریک کی مختصر تاریخ

سماجی تحریک کے لئے نظریہ کی بالکل وہی اہمیت ہے جو جسم کے لیے خوراک کی۔ نظریہ جہاں ایک طرف عوام کو بعض عقائد اور اہداف کے لیے متحرک کرتا ہے وہیں دوسری طرف ان کی شناخت اور وضاحت بھی کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، کوئی بھی اجتماعی عمل بغیر کسی متعین نظریاتی رجحان کے غیر منظم نظر آتا ہے اور بالآخر غائب ہو جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال حال ہی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا انجام ہے۔

ارنسٹ مینڈل: عالمی ٹراٹسکی اسٹ تحریک کا میر کارواں

1950ء کی دہائی کے اواخر سے وہ چوتھی انٹرنیشنل اور بلجئیم میں ٹراٹسکی اسٹ تحریک کے اہم رہنما اور نظریہ دان بن کر ابھرے۔ اسی دوران وہ دو جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ”مارکسٹ اکنامک تھیوری“ پر بھی کام کرتے رہے۔ وہ ایک شاندار مقرر تھے۔ کئی یورپی زبانیں بولتے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں، بالخصوص 1968ء کے بعد، وہ ایک ہر دلعزیز شخصیت بن کر ابھرے۔ بائیں بازو کے وہ لوگ جو ان کی سیاست سے اختلاف رکھتے تھے، وہ بھی ارنسٹ مینڈل کے اثر و رسوخ اور بلا کی ذہانت کا اعتراف کرتے تھے۔ مغربی جرمنی کی ایس ڈی ایس (سوشلسٹ جرمن سٹوڈنٹس یونین)، بالخصوص اس کے رہنما مرحوم رودی ڈچک (Rudi Dutschke) ارنسٹ مینڈل سے بہت متاثر تھے۔

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

کامریڈ عثمان نے اپنی نجی زندگی میں بے شمار مشکالات اور مصائب کے باوجود آخری سانس تک اس نظام کی ذلتوں، غلامی اور استحصال کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔

صحافت کا مارکس وادی سپاہی رخصت ہوا

وہ ایک سچے مارکسسٹ بھی تھے اور اپنی نوکری کو بچاتے ہوئے اپنے آدرش کے ساتھ جڑے رہے۔ شائد یہی ایک المیہ تھا جو ان کی جان پر بھاری پڑا۔ جیو والے ٹھہرے ابن الوقت کاروباری لوگ اور فاروقی صاحب کام کرنا چاہتے تھے اور معیاری صحافت کرنا چاہتے تھے، جو کہ انہوں نے کی بھی لیکن پھر بھی اکثر اس بات کا رونا رویا کرتے تھے کہ کیسے ہمارے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔

محنت کش یوم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟

آج مزدوروں کے اوقات کار سرکاری طور پر تو 8 گھنٹے ہیں مگر ایک باعزت زندگی بسر کرنے کے لئے دو دو تین تین کام کرنے پڑتے ہیں یا 12/14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تب جا کر گزارا ہوتا ہے۔ پاکستان کے مزدور طبقات تو آج کرونا کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔