تاریخ


بیادِ کامریڈ لطیف آفریدی: مارکسسٹ منارہ نور

لطیف لالا نے انسانی حقوق کے لئے عملی جدوجہد کی۔ جب اَسی کی دہائی میں جسٹس دراب پٹیل مرحوم، عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن نے انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا تو لطیف لالا نے ان کی بھر پور حمایت کی۔ پاک بھارت عوامی رابطوں میں بھی متحرک رہے۔ 1998ء میں جب پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیماکریسی کے 300 مندوب (جن میں آدھے بھارت سے تھے) پشاور اور خیبر ایجنسی آئے تو لطیف لالا نے ان کی میزبانی کی۔ کابل کے افغان قوم پرستوں اور مارکس وادیوں سے بھی ان کا مسلسل رابطہ رہتا۔

لطیف آفریدی مارکسسٹ اور بے آوازوں کی آواز تھے

میں ان کی سوچ اور جدوجہد سے واقفیت رکھتا ہوں کیونکہ ہم نے مل کر قانونی و سیاسی حکمت عملیاں تشکیل دیں، ایک غاصبانہ ریاست سے لڑے، افغانستان اور پشتون خطے میں سٹریٹیجک پالیسی کے خلاف نبرد آزما رہے، ملک میں لاپتہ افراد کی رہائی کے ئے مشترکہ کوششیں کیں، سابق فاٹاکے سیاسی حقوق کے لئے کتنی ہی رکاوٹوں کو اکٹھے عبور کیا، پختونخواہ میں دہشت گردی اور ریڈیکلائزیشن کے حوالے سے ریاست کی ناکام پالیسیوں کے خلاف مل کر آواز اٹھائی اور جمہوریت کے آدرش کی خاطر جدوجہد کی۔

میری زندگی اور میرا عہد: عبد الصمد خان اچکزئی کی سوانح حیات

امید ہے کہ اچکزئی کی سوانح ”میری زندگی اور میرا عہد“ کے بعد صورت حال میں کچھ بہتری آئے گی۔ ان کے صاحب زادے محمد خان اچکزئی نے، جو بلوچستان کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا ہے۔ چار حصوں پر پھیلی اس تصنیف میں اس قوم پرست رہنما کی ابتدائی زندگی سے لے کر تعلیم، خاندان، سیاست میں دلچسپی، اسیری کے دن، ان کے اخبارات، سیاسی رفیقو ں کا احوال، دوسری شادی اور آزادی سے جڑے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

سو سالہ سرمایہ: مارکس پنجابی میں

1939-1947ء کے دوران سی پی آئی کے ایک ہول ٹائمر مکھن سنگھ (1913-1973ء) نے اپنا وقت مارکس کی ’سرمایہ‘ کے کچھ حصوں کو گورمکھی رسم الخط میں پنجابی میں ترجمہ کرنے میں صرف کیا۔ 1942ء میں سی پی آئی آرگن ’جنگ آزادی‘ کے ایڈیٹر جگجیت سنگھ آنند کو مکھن سنگھ کا ’جدلیاتی مادیت‘ کا پنجابی ترجمہ ملا جو ’داس کیپیٹل‘ میں ایک باب ہے۔ اپنی یادداشت میں جگجیت سنگھ آنند نے مکھن سنگھ کی مارکسی تھیوری پر گہری گرفت کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان پر ان کی مہارت کے بارے میں اپنے گہرے تاثرات کو رقم کیا ہے۔ دونوں افراد نے جنگ آزادی کے ادارتی بورڈ میں 1947ء تک کام کیا، اس کے بعد مکھن سنگھ پنجاب سے کینیا چلے گئے۔

راولپنڈی ’سازش‘ کیس (حِصہ دوم)

راولپنڈی سازش کیس کی تفصیلات مقدمہ ختم ہونے کے برسوں بعد تک بھی راز و اَسرار میں لپٹی ہوئی تھیں۔ آہستہ آہستہ یہ باتیں سامنے آنا شروع ہوئیں کہ اصل ’سازش‘ نئی نویلی کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان (CPP) پر پابندی لگانا اور ان تمام آوازوں کو خاموش کرنا تھا جو سیاسی آزادی اور کشادہ ذہنیت کا مطالبہ کر رہی تھیں۔یہ تفصیلات جو مقدمے کی کارروائی کے دوران اور بعد میں سامنے آتی رہیں تھیں ان سے الزام تراشی کے اصل مقاصد بھی سامنے آ گئے۔

راولپنڈی ’سازش‘ کیس (حصہ اوّل)

عام لوگ جنہوں نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی تھی وہ یہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایک آزاد اور جمہوری ریاست ہو جہاں اقلیتوں کے ساتھ ساتھ غریب اور پسماندہ پریشان حال لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ بہرحال قیامِ پاکستان کے فوراً بعدخاص کر 1948ء میں قائداعظم کی وفات کے بعد حکومتِ پاکستان ایسے افراد کے ہاتھوں میں آ گئی جو ان تصورات و نظریات کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

چے گویرا بطور وزیر سائنس

چے کے نزدیک سوشلزم شعور اور تکنیک پر مبنی مظہر کا نام ہے۔ چے کا خیال تھا جدید ٹیکنالوجی بشمول الیکٹرانکس، آٹو میشن اور کمپیوٹنگ کی مدد سے پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد تکنیکی تخلیق اور انتظامی کنٹرول ہوں گے۔ پیداوار میں اضافے کے لئے مزدوروں سے یہ اپیل نہیں کی جائے گی کہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، نہ ان کو کوئی فائدوں کا لالچ دے کر پیداوار بڑھائی جائے گی، نہ ہی ان کے استحصال میں اضافہ کر کے پیداوار بڑھائی جائے گی۔ چے کا خیال تھا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے کیوبا ترقی کے مدارج اس طرح طے کرے گا کہ اسے بعض مدارج چھلانگ لگا کر گزرنا ہوں گے۔

پاکستان میں حب الوطنی اور غداری کی سیاست کی مختصر تاریخ

ریاست اور حکمران اشرافیہ کو اختلافی آوازوں پر غداری کا الزام لگانے کا خطرناک کھیل کھیلنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہیے اور ان کی حقیقی شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔ اس لیے عدم برداشت اور استثنیٰ کی بجائے رواداری اور شمولیت کے کلچر کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ جتنی جلدی ہم یہ کریں گے اتنا ہی بہتر ہو گا۔

عقیدے اور نظریے کی بنیاد پر ریاست اور قوم کی تعمیر

پاکستان میں پہلے دن سے ریاست کی تعمیر اور قومی تعمیر میں نظریہ مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ ملک کے بانی اور بابائےِ قوم محمد علی جناح (جنہیں قائد اعظم کے نام سے جانا جاتا ہے) کی اس تاریخی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے، جو انھوں نے 11 اگست 1947ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی، کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک تھیوکریٹک (مذہبی) ریاست ہونا چاہیے جب کہ بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے سیکولر ریاست ہونا چاہیے۔