مزید پڑھیں...

گلگت بلتستان: 100 کنال پر مشتمل 20 گیسٹ ہاؤس اور 4 ہزار 199 کنال اراضی گرین ٹورازم کے حوالے

اس عمل کے ذریعے سیاحتی مقامات پر مقامی آبادیوں کی رسائی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ تر مقامات ایسے ہیں،جو مقامی آبادیاں چراگاہوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کیلئے مال مویشی اور سردیوں کی لکڑیوں کا انحصار انہی مقامات پر ہوتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ان مقامات پر شہریوں کو مویشی پالنے اور زندگی گزارنے میں مشکلات ہوں گی، بلکہ سیاحتی مقامات پرمقامی آبادیاں جو چھوٹے کاروبار کرتی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس وجہ سے پہلے سے موجود بیروزگاری کی بلند شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ سے شدید ترین ماحولیاتی تبدیلیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ ایکو سسٹم متاثر ہوگا اور خطے کی زمینی ہیت بھی تبدیل ہو جائے گی۔

اسرائیل فلسطین پر حملے بند کرے، سول سوسائٹی تنظیموں کا فلسطین کے حق میں مظاہرہ

لاہور کا یکجہتی احتجاج ایشین پیپلز موومنٹ آن ڈیبٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے شروع کی گئی عالمی کوششوں کا حصہ تھا۔ انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور فلپائن میں بھی اسی طرح کے مظاہرے منظم کیے گئے۔ جہاں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے رفح میں اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

ایٹمی دھماکے: بی بی نے نواز کو چوڑیاں بھیجیں، عاصمہ اصول پر کھڑی رہیں، مینگل حکومت ٹوٹ گئی

گذشتہ روز سوشل میڈیا پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر تبصرے ہوتے رہے۔ بہت سے تنقیدی تبصرے دیکھنے کو ملے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب یہ پاگل پن ہو رہا تھا تو کم از کم لاہور کراچی جیسے بڑے شہروں میں چند ہی ’شر پسند‘ تھے جو ان ایٹمی دھماکوں کی مخالفت کر رہے تھے۔

سرخ جھنڈا اور جموں کشمیر کی عوامی حقوق تحریک

گزشتہ روز بڑے بھائیوں کے آشرباد سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر چلنے والی ایک وڈیو نظر سے گزری۔ ویڈیو میں جموں کشمیر میں موجود حریت پسندوں اور انقلابیوں کو انتشاری ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ وڈیو میں راولاکوٹ سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ایک رہنما کا ایک کلپ بھی شامل کیا گیا تھا،جس میں جناب سرخ جھنڈے اور نظریات سے بیزاری کا اظہار کر ہے تھے۔

کیا پاکستانی سوشلسٹ ہمیشہ کے لئے ناکام ہیں؟

دریں اثنا،گذشتہ دس پندرہ سال میں بائیں بازو نے کسی حد تک اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔ نہ صرف ملک بھرکی یونیورسٹیوں میں طلبہ سیاست میں بائیں بازو کے گروہ متحرک ہیں، بعض کارکن ملک بھر میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ٹریڈ یونین تحریک میں کوئی بڑا ابھار دیکھنے میں نہیں آیا لیکن کئی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں بائیں بازو کی قیادت میں لڑی گئی ہیں۔علی وزیر کی شکل میں بایاں بازو وفاقی پارلیمنٹ تک بھی پہنچا۔ بائیں بازو کے نظریات میں پہلے کی نسبت نوجوان طبقے کی دلچسپی بڑھی ہے۔ دانشور طبقے میں بھی ایسے افراد نظر آتے ہیں جو مارکس وادی نظریات سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

بھنسالی کی ہیرا منڈی میں لاہور کا ’ماتم‘

بھارتی ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی نیٹ فلکس سیریز ‘ ہیرا منڈی: دی ڈائمنڈ مارکیٹ’  کی تعریف اور تنقید دونوں جاری ہیں۔
اس فلم کی کہانی،اس کے کرداروں کی پرفارمنس، اس کی موسیقی،سکرین پلے کی تکنیک کے حوالے سے اس کی خوبیاں اور خامیاں، یہ سب اس مضمون کا موضوع نہیں ہے۔میں یہاں تقسیم سے پہلے والے اس لاہور کے بارے میں بات کروں گا، جوہندووں،سکھوں،مسلمانوں،انگریزوں،اینگلو انڈین نسل اور پارسیوں کے دلوں میں دھڑکتا تھا۔
 ”ہیرا منڈی“ میں جو شہر دکھایا گیا ہے وہ کس کا شہر ہے؟ اس کو کس کی نظر سے دکھایا گیا ہے؟سچ تو یہ ہے کہ مذکورہ فلم نے شہر کو ایک نئے انداز میں پیش کیا ہے۔

’جدوجہد‘ کی خبر فیس بک پر 4 روز تک سنسر رہنے کے بعد بحال

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کا سیاحتی انفراسٹرکچر اور زمین عسکری کمپنی گرین ٹورازم کو لیزپر دیئے جانے سے متعلق ’جدوجہد‘ کی خبر فیس بک نے سنسر کر دی۔ یہ خبر 4روز تک سنسر رہنے کے بعد اپیل کرنے پر دوبارہ بحال کر دی گئی ہے۔ فیس بک نے مذکورہ خبر کا لنک تمام اکاؤنٹس سے کمیونٹی اسٹینڈرڈز کے مغائر قرار دے کر ہٹا دیا تھا۔

پاکستانیو! 2800 ارب اس بجلی کا بل بھرو جو بنی ہی نہیں

پاکستان میں بجلی کے صارفین آئندہ مالی سال2024-25کے دوران 2800ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادا کریں گے۔یہ ادائیگیاں صارفین کیلئے بجلی کی بلوں کا 70فیصد بنتی ہیں، جبکہ بلوں کا 30فیصد حصہ اس بجلی کی قیمت ہوگی، جو صارفین استعمال کریں گے۔
کپیسٹی پے منٹس وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی کی پیداواری صلاحیت کی مد میں کی جاتی ہیں۔ یعنی ان نجی کمپنیوں کو یہ ادائیگیاں کی جائیں گی، جن کی بجلی نہ پیدا ہوئی اور نہ ہی استعمال ہوئی۔ تاہم حکومت نے ان کے ساتھ معاہدے کر رکھے ہیں کہ ان کی بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، انہیں پیداواری صلاحیت کے مطابق قیمت ادا کی جاتی رہے گی۔

جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاحتی زمینوں کا ہر قیمت پر دفاع کرینگے: سردار صغیر

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 800کنال سے زائد سیاحتی مقامات کی اراضی، بشمول ریزارٹس اور گیسٹ ہاؤسز پاک فوج کی حال ہی میں قائم کی گئی کمپنی ’گرین ٹورازم‘ کو غیر قانونی طریقے سے لیز پر دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں 536کنال سے زائد زمینیں اور سیاحتی انفراسٹرکچر مذکورہ کمپنی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حال ہی میں اس خطے میں چلنے والی تحریک کے آخری مرحلے میں مذاکراتی عمل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس خطے کی حکومت کون چلاتا ہے۔ پاکستانی فورسز ایف سی، پی سی اور پنجاب رینجرز کو طلب کر کے اس خطے میں پرتشدد ماحول پیدا کر کے 3زندگیاں چھینی گئی ہیں۔ جھوٹے بیانات اور منفی پروپیگنڈہ کے ذریعے سے پاکستان میں کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول بنانے کی ایک سوچی سمجھی سازش سرکاری سطح پر کی جا رہی ہے۔ اس سب کی آڑ میں اس خطے کی مزاحمتی قوتوں کے خلاف اگر کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت رد عمل دیا جائے گا۔

پنجاب: ہتک عزت بل کیخلاف صحافیوں کا احتجاج، بل کے اندر کیا ہے؟

پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا مقصد ’فیک نیوز‘ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اِس بل سے کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف منفی پراپیگنڈے کو روکا جا سکے گا۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔