مزید پڑھیں...

ننھا پروفیسر ایٹ نسٹ: طارق جمیل ایٹ جی سی یو

یونیورسٹی کا کام ہے علم، تحقیق اور مکالمے کو فروغ دینا۔ فیکلٹی کو درس و تحقیق میں مگن ہونا چاہئے۔ نئی تھیوریاں پیش کریں۔ نئی ٹیکنالوجی بنائیں جس سے ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ نیا ادب تخلیق کریں۔ نیا علم تخلیق کریں۔ طالب علموں کے پاس یہ موقع ہونا چاہئے کہ وہ علم، تحقیق اور مکالمے کا ہنر سیکھ سکیں اور لازمی طور پرسیکھیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں یونین اچھی بات: پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی

’تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ پاکستان کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے لیکن پاکستان میں طالب علم طلبہ یونین کے حق سے محروم ہیں۔ ہماری حکومتیں اس حق سے پاکستانی نوجوانوں کو محروم رکھنا چاہتی ہیں۔‘

حکمران طبقے اور افسر شاہی کی مراعات کیسے ختم ہونگی؟

آج محنت کش مٹھی بھر سرمایہ داروں کی دولت میں اضافے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ یہی محنت کش سرمایہ داروں کے بغیر اپنے لیے بھی سماج کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لینن نے کہا تھا ”ہر قیمت پر ہمیں ان پرانے، نامعقول، وحشی اور گھٹیا تعصبات کو نیست و نابود کرنا ہے کہ صرف نام نہاد اشرافیہ، امیر طبقے یا امیروں کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ہی ریاست کو چلا سکتے ہیں۔“

علی وزیر کا معاملہ: ’سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے والوں میں اخلاقی جرأت نہیں‘

ان کی درخواست ضمانت پر سماعت بھی 28 جون کو ہونا تھی، جو بوجوہ ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے۔ یوں علی وزیر کو گرفتار ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت کے باوجود وہ ابھی تک کراچی جیل میں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی میڈیا مہم: آخری مہینوں میں 2 ارب کے اخراجات

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تشہیر کا کام سونپا گیا، انہوں نے رقم کی تقسیم کیلئے ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی فہرست تیار کی۔ بجٹ دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ رقم ’حکومتی اقدامات، پروگرام اور منصوبوں پر جامع میڈیا مہم کے آغاز‘ کیلئے منظور کی گئی تھی۔

قرضوں کا عالمی بحران

حتیٰ کہ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ قومی حکومتوں کے ہاتھوں میں سرمائے کے بہاؤ پر کنٹرول کا ہتھیار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے مالیاتی اثاثوں کو امیر افراد اور کارپوریشنوں کی جانب سے سرمائے کی باہر منتقلی سے بچا سکیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی سرمائے کے استحصال سے بچنے کے لیے غریب ممالک کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بینکنگ اور معیشت کے تمام اہم شعبوں کو ریاستی کنٹرول میں لے لیں۔