سنا ہے یہ مجسمہ گرایا جا رہا ہے۔ مالیوں نے بنایا ہے، اس لئے گرایا جا رہا ہے۔ فوجیوں نے بنایا ہوتا تو قومی مفاد میں اسے گرانا بھی ممکن نہ رہتا۔

سنا ہے یہ مجسمہ گرایا جا رہا ہے۔ مالیوں نے بنایا ہے، اس لئے گرایا جا رہا ہے۔ فوجیوں نے بنایا ہوتا تو قومی مفاد میں اسے گرانا بھی ممکن نہ رہتا۔
میر افضال سلہریا کی ساری زندگی جدوجہد سے تعبیر ہے اور جس طرح اپنی موت سے چند گھڑیاں پہلے تک وہ اس خطے کی حقیقی آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی تگ و دو میں شامل تھے وہ آزادی اور انقلاب کے کارواں میں شریک تمام انقلابیوں اور آزادی پسند کارکنوں کیلئے ایک یہی پیغام چھوڑ گئے ہیں کہ آزادی اور انقلاب کے اس کارواں کا سفر جاری رکھا جائے، اسے کسی صورت رکنے نہ دیا جائے، نظریات سے اپنے آپ کو لیس کیا جائے اور حقیقی انقلابی متبادل کی تعمیر کے سفر کو تیز تر کرتے ہوئے اس خطے سے محکومی اور استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کرتے ہوئے حقیقی آزادی سے اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو فیضیاب کرنے تک اس جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائے۔
پاکستان اور بھارت کے کروڑوں عوام زبردست معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ تمام وسائل ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کھڑے کئے گے دفاعی حصار بنانے اور ہتھیاروں کی تیاری خریداری کی دوڑ پر صرف ہو رہے ہیں۔ نفرت کی اس جنگ میں کبھی کشمیری استعمال ہوتے ہیں، کبھی بنگالی، کبھی سکھ، کبھی بلوچ۔
ارمان لونی دوستی میں بھی خوش مزاج اور ہنس مکھ شخص تھے۔
2015ء میں جب انکی جماعت برسر اقتدار آئی تو اس کے بعد انہوں نے روہنگیا مسلم آبادی کی نسل کشی میں مصروف فوجی جرنیلوں کی پشت پناہی جاری رکھی۔ نیو لبرل پالیسیوں اور سامراجی لوٹ مار کی بڑی حصہ دار فوج اور ریاست کو ہر طرح کا ظلم اور جبر روا رکھنے کی کھلی اجازت دیئے رکھی۔ آنگ سان سوچی نے عالمی عدالت انصاف کی سماعت کے دوران فوجی اقدامات کی کھل کر حمایت کی تھی۔
’پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، لیکن مقدمہ درج ہو گیا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
یو ایم ٹی کے سامنے احتجاج کرنے کے مقدمے میں ملوث 7 طلبہ کی ضمانتوں کی درخواستیں منظور نہیں ہو سکیں۔
گورمکھی میں شائع ہونے والے اس اخبار کے بعض مضامین کو شاہ مکھی رسم الخط میں قارئین جدوجہد کے لئے سلسلہ وار پیش کیا جا رہا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ساتھ ان کی قلبی وابستگی اور ان کی زندگی بھر کے شوقِ موسیقی نے انہیں اپنے تمام رفقا میں منفرد بنا دیا تھا۔
انہیں مارکسی تھیوری پر عبور حاصل تھا۔