نقطہ نظر

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


انقلابی شاعری کا امام جوش ملیح آبادی: اقبال حیدر سے گفتگو

جی ہاں، جوش صاحب ان عظیم شعرا کی صف میں آتے ہیں جنہوں نے اپنے دور کو نہ صرف’Define‘ کیا ہے بلکہ اس سے تجاوز بھی کیا ہے۔ ہر دور اور ہر زبان میں اس قبیل کے شعرا نسبتاً کم ہوتے ہیں جو ایک خاص قسم کی فکری آزاد روی یا عقلیت پسندی کی وجہ سے اپنی ہی زندگی میں ایک ’Iconoclast‘ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر فرسودہ چیز کو یا جنہیں وہ فرسودہ سمجھتے ہیں، ببانگ دہل رد کرتے ہیں او ر زمانے سے اصرار بھی کرتے ہیں کہ عقل و دانش کے سوا کوئی دوسرا راستہ فلاح کا راستہ نہیں، کوئی بھی ایسے متحرک اور علم دوست معاشرے کو جمود کا شکار نہیں بنا سکتا۔

دی لیجنڈ آف مولا جٹ فلمی یوتھیاپا ہے

پاکستان تحریک انصاف کی سیاست دراصل سیاست سے عاری سیاست ہے۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس جماعت کی سیاست دراصل سیاست دشمنی کی سیاست ہے۔ یہ سیاست ضیا الحق کی سیاست ہے جو سیاست کو برا کہتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے۔ سیاست کا مطلب ہے مکالمہ اور جمہوریت۔ ضیا الحق کی سیاست ہے آمریت۔ عین اسی طرح، مولا جٹ کی ری میک کا مولا جٹ سے کوئی تعلق ہے نہ پنجابی فلم اندسٹری سے۔ یہ سراسر ہالی وڈ فلموں کی نقالی ہے۔ یہ تھوڑا سا گلیڈی ایٹر کا چربہ ہے۔ تھوڑا سا گیم آف تھرونز کی نقالی۔

گرامشی کو نئے سال سے نفرت سہی، بطور سوشلسٹ میں نیو ائیر ضرور مناتا ہوں

گرامشی کو نئے سال سے نفرت سہی، بطور سوشلسٹ میں نیو ائیر ضرور مناتا ہوں
فاروق سلہریا

نئے سال کی آمد پر بائیں بازو کے بعض ساتھی انتہائی مایوس کن پیغامات اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کرتے ہیں۔ امسال بھی یہی ہوا۔

گرامشی (گرامچی) کا مندرجہ ذیل مضمون، بعنون ’مجھے نئے سال سے نفرت کیوں ہے‘ (ترجمہ: علی تراب)،بھی اکثر شیئر کیا جاتا ہے:

”ہر صبح جب آسمان کے سال میں میری آنکھ کھلتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ نئے سال کا دن ہے۔ اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے جو اکاؤنٹس کی سالانہ رسید کی طرح آن ٹپکتا ہے۔ جو اپنے حساب کتاب، بقایا جات اور نئے انتظامی بجٹ کے ساتھ زندگی اور انسانی روح کو ایک کاروباری عمل میں بدل دیتا ہے۔ یہ زندگی سے اسکا تسلسل اور روح چھین لیتا ہے۔ آپ واقعی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ایک سال اور اگلے کے درمیان کوئی وقفہ ہے کہ ایک نئی تاریخ شروع ہونے جا رہی ہے۔ آپ نئے عہد کرتے ہیں، اور انکے ٹوٹنے پر پچھتاتے ہیں۔ عمومی طور پر تاریخوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ کہتے ہیں واقعات کی ترتیب کا علم تاریخ کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ چار یا پانچ بنیادی تاریخیں ایسی ہیں جو ہر اچھے انسان کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں جنہوں نے تاریخ کے ساتھ بھدے مذاق کیے ہیں۔ وہ بھی نئے سال ہی ہیں۔ رومی تاریخ کا نیا سال، یا قرون وسطی کا، یا جدید دور کا۔ اور وہ اس قدر جارحانہ اور مظبوط ہو گئے ہیں کہ ہم کبھی کبھی اپنے آپ کو یہ سوچتا پاتے ہیں کہ شاید اٹلی میں زندگی کا آغاز 752ء میں ہوا اور یہ کہ 1490ء یا 1492ء کوئی پہاڑ نما سال ہیں جنہیں پھلانگ کر انسانیت ایک نئی دنیا میں داخل ہو گئی۔ لہٰذا تاریخ ایک رکاوٹ بن جاتی ہے، ایک ایسی دیوار جو ہمیں یہ دیکھنے سے روکتی ہے کہ تاریخ سینما کی کسی فلم میں آنے والے انٹرولز کی طرح رکتی نہیں بلکہ ایک مستحکم سیدھی لکیر پر مسلسل چلتی رہتی ہے۔ اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر صبح میرے لیے نیا سال ہو۔ ہر دن میں خود پر غور کرنا چاہتا ہوں، اور ہر دن میں اپنی تجدید کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی دن آرام کا نہ ہو۔ جب میں زندگی کے شدت سے دھت ہوجاؤں اور ایک نیا جوش حاصل کرنے کیلئے حیوانیت میں ڈوبنا چاہوں تو میں خود رکنے فیصلہ کروں۔ کوئی روحانی قید نہ ہو۔ میں چاہوں گا کہ میرا ہر لمحہ نیا ہو جو ساتھ ہی ساتھ پچھلے لمحوں سے ایک تسلسل میں جڑا ہو۔ کوئی مخصوص تہوار نہ ہو جو مجھے ایک مخصوص انداز میں ایسے اجنبیوں کے ساتھ منانا پڑے جن کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، صرف اس لیے کہ ہمارا دادا کے دادا اور انکے دادا یہ سب منایا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی یہ منانا چاہیے۔ مجھے یہ چیز بہت کراہت آمیز لگتی ہے۔ مجھے اس وجہ سے بھی سوشلزم کا انتظار ہے کیونکہ یہ ان تمام تہواروں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا جن کی ہماری روح سے کوئی ہم آہنگی نہیں اور اگر وہ نئے تہوار تخلیق کرے تو کم از کم وہ ہمارے اپنے ہوں، ناکہ ہمارے احمق اجداد کی طرف سے ہم پر تھوپے گئے ہوں۔“

قطع نظر اس کے کہ گرامشی کیا کہنا یا نہیں کہنا چاہتا تھا، عام طور پر جب ہمارے بائیں بازو کے دوست یہ مضمون یکم جنوری سے پہلے شیئر کرتے ہیں یا نئے سال پر ہونے والی تقریبات پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں تو ان کا مقصد اونچ نیچ کے طبقاتی نظام پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنا انتہائی جائزاحتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں۔

ایک مقصد اس حقیقت کا اظہاربھی ہوتا ہے کہ نیا سال یا عید اور کرسمس وغیرہ منانا ایک جعلی اور وقتی خوشی ہے۔ بہ الفاظ دیگر جب تک سوشلزم نہیں آتا، حقیقی اور دائمی خوشی ممکن نہیں۔

مجھے مندرجہ بالا نقطہ نظر سے شدید اختلاف ہے۔ یہ انتہائی یاسیت پر مبنی رویہ اور موقف ہے۔

پہلی بات۔ کیا سوشلزم کے نہ’آنے‘ تک ہمیں خوش ہونے کا حق نہیں؟ اس سے بھی اہم سوال: اگر میری زندگی میں کوئی سوشلسٹ انقلاب اس ملک میں آیا ہی نہ تو؟ اس لئے میرا موقف ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے ہمیں ایک طرح کے ایوری ڈے سوشلزم (روز مرہ کا سوشلزم) بھی قائم کرنا چاہئے۔ روز کے روز، تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی جگہ ایسی ہو جہاں ہم محنت کش لوگ اکٹھے ہو سکیں، خوش ہو سکیں۔ زندگی کے غم بھلا کر اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ ہنس کھیل سکیں۔ یہ سہولتیں ہمیں پاکستان کی عوام دشمن ریاست نہیں دے گی۔ ہمیں اپنے تھیٹر، سینما، جم، کھیل کے میدان، موسیقی کی محفل، میلے…یہ سب خود سے کرنا ہو گا۔ ریاست سے اس کا مطالبہ کرتے رہنا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ مزدور اور کسان طبقے کو اپنی زندگی میں روز کے روز خوش ہونے، شعور حاصل کرنے، علم حاصل کرنے کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ ایسا ”مجھے نئے سال سے نفرت ہے“ کی بنیادپر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ بہرحال رویہ اور موقف یہ ہونا چاہئے کہ ہم محنت کش خوشی منانے کا ہر موقع ڈھونڈیں گے۔ روز کے روز تلاش کریں گے اور سوشلسٹ انقلاب آنے تک بھی نیا سال منائیں گے، سالگرہ کا اہتمام کریں گے، عید، ہولی اور کرسمس منائیں گے، یوم مئی منائیں گے، پرانی روایتیں جو ہمارے ’بے وقوف‘ اجداد ہم پر تھونپ گئے ہیں، ان کا کایا پلٹ کر کے انہیں نیا رنگ دے دیں گے۔ جب پہلی مزدور ریاست پیرس کمیون کی شکل میں قائم ہوئی تو تھیٹر کا ٹکٹ ختم کر دیا گیا تھا۔

دوسری بات: اگر ان دوستوں کاموقف مان لیا جائے جو گرامشی کا مضمون اپنے فیس بک پر لگاتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں تو پھر کم از کم تھیوری کی حد تک یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ کیا مارکس وادیوں کو، جماعت اسلامی کی طرح، نئے سال کا بائیکاٹ کرنا چاہئے؟

حقیقت یہ ہے کہ اکثر دوست جو گرامشی کا مضمون شیئر کرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ دائمی خوشی سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی ممکن ہے، وہ خود بھی نیو ائر مناتے پائے جاتے ہیں۔ ان کی حالت ان اہل ایمان والی ہوتی ہے جو شراب بھی پیتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔ شراب پیتے ہوئے انہیں احساس گناہ ہو رہا ہوتا ہے جسے مٹانے کے لئے وہ لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے انہیں الجھن ہوتی ہے کہ اگلی دفعہ مے خانے کا رخ کرنا ہے یا نہیں۔ یوں نہ وہ شراب سے لطف اندوز ہوتے ہیں نہ نماز میں انہیں سکون ملتا ہے۔

تیسری بات: ایسا کوئی حتمی سوشلسٹ انقلاب ممکن نہیں جس کے بعد کوئی دائمی خوشی آ جائے گی۔ انقلاب آگے جانے کے لئے ایک بڑی جست ہے۔ ایک تاریخی فریضہ ہے۔ انقلاب اور انقلابی جدوجہدیں محنت کشوں کی زندگیاں آسان بناتے ہیں اور مجموعی طور پر خوشی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں لیکن سوشلسٹ انقلاب کو مذہبی انداز میں پیش کرنا با لکل غیر انقلابی اور غیر سوشلسٹ ہے۔

’یہ تحریک شاہ ایران کے خلاف بغاوت سے بھی بڑی: 82 دن میں 160 شہروں میں 544 مظاہرے‘

ایران میں لازمی حجاب ایک قانون ہے اور جیسا کہ میرے اپنے خاندان کے افراد سمیت بہت سے لوگوں کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی تنظیموں، مثلاً پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی)، بیسج اور باقاعدہ پولیس فورس اور یہاں تک کہ حکومت کے عام پر جوش حامیوں، کے ذریعے سے حجاب نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لئے ایک مخصوص تنظیم سے جان چھڑانا بے معنی ہے۔ اگر ایرانی حکومت مستقبل قریب میں اس اخلاقی پولیس کو ختم کر بھی دیتی ہے تو عین ممکن ہے کہ مناسب وقت آنے پر اس کی جگہ اسی طرح کی کوئی اورفورس لے لے۔ ایرانی حکومت کے لئے ایڈہاک تنظیموں کو اس طرح کھڑا کرنا ایک عام سی بات ہے۔

کشمیر کی واحد کامیاب سوشلسٹ کونسلر: ’عوام نے سیاسی اجارہ داری کو شکست دی‘

میں سمجھتی ہوں کہ یہ میری شخصیت کی کامیابی نہیں ہے، یہ انتخابی منشور اور پروگرام کی فتح اور کامیابی ہے۔ لوگوں نے مجھے نہیں بلکہ انتخابی پروگرام کو ووٹ دیا ہے۔ تعصبات اور مال و دولت کی بنیاد پر انتخابات کو ہائی جیک کرنے والوں کا راستہ روکنے کا بھی میرے خیال میں یہی ایک طریقہ ہے کہ نظریات، پروگرام اور جدوجہد کی بنیاد پر لوگوں کو منظم کیا جائے۔

منافقانہ ’سامراج مخالفت‘ پر شیری رحمان کے نام ایک خط

آپ کو موسمیاتی تبدیلیوں کے امور کی وزارت ملنے کے بعد نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمیں معلوم تھا کہ آپ بہت بڑی جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کی پرچارک ہیں۔ اب اتحادی حکومت میں نئی وزارت ملنے پر یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ آپ سامراج مخالف بھی ہیں۔۔۔مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی سامراج مخالفت کا یہ نیابیانیے اپنا کر آپ ریاست کی نااہلیوں، ناقص پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات پر پردہ ڈالنے کی ایک سستی سی کوشش کر رہی ہیں۔

’ماہواری جسٹس‘: سیلاب زدہ علاقوں میں 8 ملین خواتین پیریڈز سپلائیز سے محروم

ماہواری جسٹس مہم‘کے دوران بے شمار مشکلات پیش آئیں اور تنقید کاسامنا کرنا پڑا، تاہم کچھ حوصلہ افزا باتیں بھی تھیں۔ ہم محض 70 ہزار خواتین کو پیریڈ سپلائیز مہیا کر سکے ہیں۔ سیلاب کے آفٹر افیکٹس لاکھوں خواتین کو متاثر کر رہے ہیں۔ ریاستی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس ایشو پر بات ہونی چاہیے۔ اس قدرتی عمل کو شرمندگی اور گندگی سے جوڑنابند کیا جانا چاہیے، نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر خواتین کے بارے میں پالیسی بنانے میں خواتین کی شرکت کو لازمی کیا جانا ضروری ہے۔

دیسی مولاجٹ بمقابلہ ولایتی مولا جٹ

فلم کی پبلسٹی جس جارحانہ انداز میں کی گئی ہے اس سے مداحوں کا کلچر تو تیار ہوتا ہے مگر فلم ناقدین کا کلچر ختم ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی فلمی صنعت کو اچھی فلموں کی اشد ضرورت ہے اور اچھی فلموں کے لئے نہ صرف اچھے فلم میکرز کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ فلم ناقدین کا ہونا بھی صحتمند ہوتا ہے۔

سرائیکی صوبے کا مطالبہ علاقے کے لوگوں کا جمہوری حق ہے: ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ

معروف دانشور اور سرائیکی تحریک کی رہنما ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ ملک کی اصل تہذیبوں اور ان کی تاریخی پہچان کو ختم کرنا چاہتا ہے اور ان کی زبان و ثقافت کو پامال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاستدان ووٹ بینک حاصل کرنے کے لئے سرائیکی عوام کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں لیکن وہ صوبے کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ مگر ان تمام کوششوں کے باوجود ”سرائیکی صوبے کا مطالبہ تاریخی اور تہذیبی حقیقتوں پر مبنی ہے جسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مطالبہ علاقے کے لوگوں کا ایک جمہوری حق ہے۔“

سوات: فضل اللہ کو تین سال منظم ہونے کا موقع ملا، اب ایسا ممکن نہیں

ڈاکٹر سید عرفان اشرف کہتے ہیں کہ طالبان مالاکنڈ ڈویژن سے کبھی گئے ہی نہیں تھے، انکی محفوظ پناہ گاہیں آج بھی موجود ہیں۔ سرحداور باڑ بھی عام لوگوں کیلئے رکاوٹ ہیں، دہشتگرد جب چاہیں آ اور جا سکتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد انہیں لایا بھی گیا ہے لیکن اہم چیز انہیں سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ ریاست کی پشت پناہی نہ ہو تو طالبان کو مقامی عوام چند لمحوں میں ختم بھی کر سکتے ہیں اور ان کی دہشت کا بھی خاتمہ کیا جا سکتاہے۔ اب لوگ تنگ آ چکے ہیں، اب اس قتل عام کو دوبارہ پنپنے نہیں دیا جائے گا۔