نقطہ نظر

[molongui_author_box]

جہالت کی نفسیات

جہالت کی نفسیات جانور والی ہوتی ہیں۔ جانور کا زمان و مکان اسی حد تک محدود (یا وسیع) ہوتا ہے جس حد تک اس کی نظر جاتی ہے۔ اس کے برعکس،انسان اپنے سماجی تعلقات کی بنیاد پر۔۔۔جس میں زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔۔۔انسان اپنے وقت (حاضر) کے علاوہ دیگر وقتوں (ماضی و حال) بارے بھی جانتا یا سوچتا ہے۔

پنجابی مسافروں کا قتل: مہرنگ بلوچ کا ایک الباکستانی کے نام خط

چند روز قبل چند پنجابی مسافروں کو بس سے اتار کر گولی مار دی گئی۔ اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر آپ اپنے لاکھوں ہم خیال بہن بھائیوں کی طرح مجھ سے مطالبہ کر نے لگے کہ میں اس واقعہ کی مذمت کروں۔
میں جن دنوں اسلام آباد میں پریس کلب کے باہر سردی میں دھرنا دئیے بیٹھی تھی، تب بھی غریدہ فاروقی جیسے لوگوں کو میرے پاس بھیجا گیا جو آ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ میں بلوچ سرمچاروں کی مذمت کروں۔
اُن دنوں عالمی میڈیا میں غزہ کا موضوع سرخیوں میں تھا۔ بد قسمتی سے اب تک ہے۔مجھے یاد ہے جوں ہی کسی فلسطینی کو بی بی سی یا سی این این سمیت کسی مغربی نیوز چینل میں بات کے لئے مدعو کیا جاتا تو پہلا سوال ہوتا کہ کیا آپ 7 اکتوبر کے روز اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

’’مٹو کی سائیکل‘‘ ترقی کے ایکسپریس وے پر 

پاکستان میں چند ایک بڑے شہروں کو چھوڑ کر مزدور وں اور ورکنگ کلاس کے لیے کوئی ماس ٹرانسپورٹ کا منصوبہ نہیں بنایا گیا ۔دیہات سے شہروں میں مزدور ی کے لیے آنے والا مزدور پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز کے رحم وکرم پر ہے ۔شہروں میں اشرافیہ نے علیحدگی کی الگ سے تحریک شروع کر رکھی ہے جس کے تحت وہ اپنے پوش علاقے غریبوں کے علاقوں سے الگ کئے جا رہے ہیں جہاں  تک پہنچنے کے لیے سرکار انہیں انہی غریبوں کے ٹیکس سے بڑی بڑی ایکسپریس ویز بنا کر دی رہی ہے جن پر نان موٹررائیڈ سواریاں آ نہیں سکتیں ۔یہ بڑی بڑی سڑکیں اگرچہ ملک کی ترقی کے نام پر بنائی جا رہی ہیں لیکن ان کا بڑا مقصد اشرافیہ کو بہتر نقل و حمل مہیا کرنا اور پسے ہوئے طبقے کو مرکزی معاشی دھارے کے ہا شیے میں دھکیلنا ہے ۔ مسٸلہ تو یہ ہے کہ اگر مٹو نئی سائیکل لے بھی لے تو پھر بھی  وہ دیش کے وکاس کے نام پر بنی ہوئی ایکسپریس وے پر اسے چلا نہیں پائے گا ۔

بی جے پی کے 180 ملین اراکین، 800 این جی اوز اور 36 ونگ ہیں

انتہائی دائیں بازو کا عروج ایک عالمی رجحان ہے۔ شاید دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت سے زیادہ کہیں اوردایاں بازو اتنامضبوط نہیں ہے۔ وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2014 سے اقتدار پر قابض ہے۔
تاہم بی جے پی محض ایک پارٹی نہیں ہے۔ بی جے پی اور ان کی کیڈر آرگنائزیشن ہندو قوم پرست نیم فوجی رضاکار وں پر مشتمل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا نظریہ ایک عسکری، جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارتی عظمت کا راستہ ہے۔ یہ ایک ایسا ویژن بھی ہے جس میں مسلمانوں کی کوئی تاریخ نہیں ہے اور اس لیے انہیں حال میں بھی یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ترکی: ’اردگان کی مقبولیت برقرار ہے مگر بائیں بازو کو بھی زبردست کامیابی ملی ہے‘

اردگان ترک معاشرے میں شدید پولرائزیشن کا فائدہ اٹھا کر اپنی طاقت کی بنیاد بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طرف ثقافتی اور مذہبی پولرائزیشن ہے اور دوسری طرف سماجی، طبقاتی پولرائزیشن ہے۔ جمہوریہ کی بنیاد کے بعد (کمال اتاترک، 1923) جس کا ایک مضبوط سیکولر پہلو تھا، مذہبی لوگوں کو طویل عرصے تک اقتدار کے عہدوں سے باہر رکھا گیا۔ اگرچہ قدامت پسند مذہبی سیاسی دھارے بچ گئے، لیکن معاشرے میں غالب نظریہ سیکولر اور شہری تھا اور اس نے ان قوتوں کو خارج کر دیا۔ قصبوں سے باہر دیہی معاشرے میں اور غریب پرتوں میں کہانی الگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابات ہوتے تھے کسانوں اور دیہی علاقوں میں قدامت پسند، مذہبی جماعتوں کی بنیاد ہوتی تھی۔ آپ کے شہروں میں دانشور، محنت کش، شہری پیٹی بورژوا اور بورژوا طبقے تھے۔

صہیونیوں کو سعودی منافقت کا علم ہے: جلبیر اشقر

یکجہتی کی تحریک کے اندر ایک ریاست یا دو ریاستوں پر بحث اکثر میرے خیال میں نامناسب ہوتی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ پیرس، لندن یا نیویارک میں نہیں ہونا چاہیے کہ فلسطینیوں کے لیے کیا ضروری ہے۔ یکجہتی تحریک کو فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے اپنے تمام اجزاء میں جدوجہد کرنی چاہیے۔ یہ فلسطینیوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اس وقت 1967 میں مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلاء، مغربی کنارے میں بستیوں کو ختم کرنے، علیحدگی کی دیوار کی تباہی، پناہ گزینوں کی واپسی کے حق اور اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کیلئے حقیقی معنوں میں مساوات کے مطالبات پر فلسطینیوں کا اتفاق رائے ہے۔ یہ تمام جمہوری مطالبات ہیں، جو ہر کسی کے لیے قابل فہم ہیں، اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم کا مرکز ہونے چاہئیں۔

غزہ: 1 فیصد آبادی ہلاک: فرانس میں یہ 680,000 اموات کے مساوی ہو گا

قابض افواج کی فوجی رپورٹس کی روشنی میں چیزیں نسبتاً واضح ہیں۔ شمال کے لیے انتہائی شدید بمباری کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور جنوبی حصے میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ شمالی نصف اور مرکز میں، قابض افواج اگلے مرحلے کی طرف بڑھ گئی ہیں، جو کہ ایک نام نہاد کم شدت والی جنگ ہے۔ درحقیقت وہ سرنگوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے اور حماس اور دیگر تنظیموں کے جنگجوؤں کو تلاش کرنے کے لیے ان علاقوں پر مبنی ایک مکمل گرڈ(grid) ترتیب دے رہے ہیں۔ فلسطینی جنگجو ہر وقت گھات میں رہتے ہیں اور جب تک سرنگیں موجود ہیں یہ کسی بھی وقت ابھر سکتے ہیں۔

8 جلدوں پر مبنی بلوچ تاریخ کا انگریزی ترجمہ و تلخیص: ہسٹری آف بلوچ اینڈ بلوچستان

بلوچوں اور ان کی تاریخ سے متعلق،بالخصوص نوآبادیاتی دور میں،مقامی اور غیر ملکی مصنفین کی لکھی گئی کتابوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بلوچ تاریخ خطے کی ہر دوسری قوم کی طرح وسیع اور قدیم ہے۔ قلات کے نام سے بلوچستان کی اپنی ایک ریاست تھی،جس پر انگریزوں نے 1839ء میں حملہ کیا تھا۔ تب سے قلات،جو کہ موجودہ بلوچستان کے پورے علاقے پر محیط تھا، انگریزوں کے زیر تسلط آگیا۔ یقینایہ سب 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت بدل گیا تھا لیکن آج بلوچستان کا اصل خطہ مکمل طور پر پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ یہ تین ممالک یعنی پاکستان، ایران اور افغانستان میں پھیلا ہوا ہے۔

’سیروگیسی‘ممتا کا استحصال

سیروگیسی دراصل بچے کی پیدائش کا ایسا عمل ہے، جس میں ایک عورت کسی دوسرے جوڑے کے ایمبریو کو اپنے رحم میں رکھتی ہے،اس کی نشونما کرتی ہے اور اس بچے کو دنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے۔زیادہ تر معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں جو والدین کسی بائیولوجیکل نقص کے سبب بچہ پیدا نہیں کر سکتے وہ کسی دوسری عورت کے بطن سے بچہ پیدا کرواتے ہیں۔ جو والدین کسی حیاتیاتی نقص کی وجہ سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں،ان کے لیے IVF جیسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی ہے۔ایسے والدین اپنے ایمبریو یا جینین کو سیروگیٹ یا متبادل ماں کے بطن میں رکھواتے ہیں۔ یہ متبادل ماں بچے کو جنم دیتی ہے،اور بچے کو اس کے بائیولوجیکل ماں باپ کے حوالے کر دیتی ہے۔

اجتماعی مسائل کے انفرادی حل نہیں ہوتے: لاٹری کے ذریعے غربت ختم نہیں کی جا سکتی

چند روز قبل، پروفیسر حضرات کی ایک محفل میں بیٹھا تھا۔ ایک صاحب نے محفل کے دس منٹ یہ کہانی سنانے میں ضائع کئے (جو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں)کہ کوئی صاحب دنیا کو سنوارنے نکلے، دنیا نہیں سنوری، انہوں نے سوچا،دنیا کو چھوڑو،اپنا ملک سنوارتا ہوں۔ پورا ملک گھوما، ملک نہیں سدھرا۔ بات شہر اور گاوں سے ہوتی ہوئی یہاں پہنچی کہ مذکورہ صاحب نے دنیا کو سنوارنے کی بجائے خود کو سنوارنے کا فیصلہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر ہم خود ٹھیک ہو جائیں تو دنیا ٹھیک ہو جائے گی۔