اداریہ

براڈ شیٹ سیاسی، مفتی قوی سوشل پورنوگرافی کا نمونہ ہیں

اداریہ جدوجہد

اگر جمالیاتی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو پورنوگرافی سے مراد ہے ننگا پن۔ ننگا پن بذاتِ خود تو ایک فطری چیز ہے مگر پورنوگرافی سے مراد ہے ایسا ننگا پن جس کی مدد سے سنسنی خیزی اور ہیجان برپا کیا جا ئے۔ یہی نہیں۔ پورنو گرافی ایک رومانی عمل کو حیوانی عمل تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ اسے بازار کی ایک جنس بنا دیتا ہے، ایک ایسی جنس جس میں کمزور کی عزت، عزت نفس، پرائیویسی، اس کے ظاہر و باطن کو بے لباس اور تار تار کر دیا جاتا ہے۔ منڈی کی طاقتیں اس سے منافع کماتی ہیں۔ پورن سٹار اپنا بدن بیچ کر پیٹ پالتے ہیں۔ ناظرین اس اخلاق باختہ عمل سے ایک ایسی گھٹیا ’تسکین‘حاصل کرتے ہیں جو انہیں مستقل بے چین رکھتی ہے۔

نیو لبرلزم فروغ پانے کے بعد جب میڈیا کی گلوبلائزیشن ہوئی تو ’بِگ برادر‘ جیسے رئیلٹی شوز کی شکل میں سوشل پورنوگرافی نے کلچرل انڈسٹری کی شکل اختیار کر لی۔ اتنی دیر میں سوشل میڈیا نے بھی تیزی سے ترقی کی اور پبلک سفیئر (Public Sphere) کا بورژوا تصور مذاق بن کر رہ گیا۔

تجارتی لاجک کے تحت چلنے والے سوشل میڈیا نے پبلک اور پرائیویٹ کے فرق کو اس بری طرح سے مٹایا ہے کہ اب ہم، بطور سوشل میڈیا صارفین، خود، خوشی خوشی اپنی نجی زندگی کو سوشل میڈیا پر نمایاں کر رہے ہوتے ہیں۔

پستی کی جانب اس دوڑ میں جب ہی آگے نکلا جا سکتا ہے جب نئی ’سوشل پورنو گرافی‘ گذشتہ ویڈیو کلپ سے زیادہ سنسنی خیز ہو۔ لائکس اور شیئر پر مبنی سوشل میڈیا کی سیاسی معاشیات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ سنسنی خیزی میں اضافہ ہوتا رہے۔ جتنا زیادہ پستی میں گریں گے، اتنے زیادہ لائکس اور شیئر۔

یہ ہے نیو لبرل عہد کا ثقافتی ’انقلاب‘ جس میں ٹک ٹاک سٹار بننے کے لئے مفتی قوی کو تھپڑ رسید کرنے ہوتے ہیں۔

سوشل پورنو گرافی اگر نیو لبرل معاشی بنیاد کا ثقافتی سوپر سٹرکچر ہے تو سیاسی پورنو گرافی اس کا سیاست میں بالائی ڈھانچہ ہے۔

اس سیاسی پورنوگرافی کی تازہ ترین پروڈکشن براڈ شیٹ ہے: حکومت نواز شریف کو ننگا کرنا چاہتی ہے، نواز لیگ جوابی طور پر تحریک انصاف کو ننگا کرنے میں لگی ہے۔ رفتہ رفتہ پتہ چل رہا ہے کہ پیادے ہی نہیں، بادشاہ بھی ننگا ہے۔ کسی نئی ویڈیو کے لیک ہونے تک یہ سیاسی پورنوگراف پردہ سکرین پر نمایاں رہے گی۔

گو نوے فیصد سے زائد سیاسی پورن کا پلاٹ کرپشن کے گرد گھومتا ہے۔ کبھی سرے محل، کبھی پانامہ۔ جب سب ننگے ہو رہے ہوں تو پاپا جانز کی دھوتی بھی کھل جاتی ہے۔ پورنوگرافی کے دھندے میں البتہ ہمیشہ مارکیٹ فورسز غالب رہتی ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔ ناظرین کو بھی پورن سٹارز کی حد تک ہی دلچسپی ہوتی ہے۔ اس لئے اس میں حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ سیاسی پورن میں عموماً حزب اختلاف ہی فیچر ہو رہی ہوتی ہے۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک بحرانستان بنا ہوا ہے اور پاکستان کو ایک نہیں، دو تین چار انقلاب درکار ہیں، پاکستانی حکمران طبقے کا دیوالیہ پن دیکھئے کہ اس کے پاس عوام کو دینے کے لئے سماجی و سیاسی پورنوگرافی کے علاوہ کچھ نہیں۔

جو ریاست کرونا کی ایک ویکسین درآمد نہیں کر سکی، وہ سوشل او ر پولیٹیکل پورنوگرافی میں اس قدر خود کفیل ہے کہ اگر اس صنف میں کوئی آسکر ایوارڈ ہوتا تو پاکستانی حکمران طبقہ ہر سال انعام کا حقدار قرار پاتا۔