مزید پڑھیں...

@RoznamaJ: ہمیں ٹوئٹر پر فالو کریں

اس لئے ’روزنامہ جدوجہد‘ صرف ایک اخبار نہیں، ایک تحریک ہے جس کا مقصد ہے متبادل میڈیا کی تعمیر تا کہ عوام دشمن، عورت دشمن، امن دشمن، ماحولیات دشمن اور رجعتی قوتوں کے بیانئے کو بے نقاب کر کے ایک ایسے پاکستان کا وژن پیش کیا جا سکے جو جمہوری، سوشلسٹ، ماحول دوست، فیمن اسٹ اور سیکولر ہو۔

ہمیں فیس بک پر فالو کریں

’روزنامہ جدوجہد‘ پاکستان کا واحد ابلاغیاتی ادارہ ہے جو بلا ناغہ ترقی پسند، محنت کش اور سوشلسٹ نقطہ نظر کے ساتھ ایسی خبریں، تجزئے اور اطلاعات فراہم کرتا ہے جو مین اسٹریم سرمایہ دارمیڈیا سے یا تو غائب ہوتی ہیں یا اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

افسانچہ: چھوٹا/بڑا

خیر تو وہ گھر والے ٹھیک ٹھیک رہتے تھے۔ تب تک جب تک وہ ایک دوسرے کو انسان سمجھتے تھے۔ بڑا پیارا ماحول رہتا تھا۔ سب ایک دوسرے کی خوشی ڈھونڈتے، ایک دوسرے کا دکھ دور کرتے، ایک دوسرے سے محبت کرتے ایک دوسرے کا احساس کرتے۔ان میں کوئی بڑا،چھوٹا،مرد اور عورت نہیں تھا سب انسان تھے۔

کرامت علی: ’امن کا پاکستانی پیامبر، جو میرے دادا کی راکھ واہگہ پار لے گیا‘

ب 2019 کے اوائل میں کرتار پور ویزا فری کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھنے والے انڈیا کے ایک وفد کے حصہ کے طور پر پاکستان جانے کا ارادہ کر رہی تھی،تو میں نے کرامت صاحب کو فون کر کے پوچھاکہ کیا میں ان کیلئے دہلی سے کچھ لا سکتی ہوں۔ انہوں نے اپنے دوست کے لیے ہومیو پیتھک دوائیاں مانگیں۔ یہ ایک ایسی دوا تھی جس نے کرامت صاحب کے لیے حیرت انگیز کام کیا تھا، اور کراچی میں دستیاب نہیں تھی۔

توہین مذہب تنازعہ کی خوں آشام تاریخ: عطا انصاری کی کتاب کی پذیرائی

ناروے کے پاکستانی نژاد صحافی عطاانصاری کی نارویجن زبان میں تحریر کی گئی توہین مذہب کے موضوع پر، تحقیقاتی کتاب کو خُوب پذیرائی مل رہی ہے۔ اس کتاب کے سلسلے میں متعدد تقریبات ہو چکی ہیں اور ناقدین کے دلچسپ جائزے اخبارات میں شائع ہو رہے ہیں۔ یوں اس کتاب کو ایک سیاسی اور سماجی بحث کا ایک اہم حصہ سمجھا جارہاہے۔ کتاب کا نام تو نارویجن میں ہے مگر قارئین کی دلچسپی کے لئے نام کا اردو ترجمہ لکھہ رہے ہیں،”توہین مذہب تنازعہ کی خوں آشام تاریخ“۔ نام کا یہ ترجمہ ادیب اور مدیر سید مجاہد علی نے اپنے ایک مکالہ میں تجویز کیا ہے۔

امریکہ: ’ہم اس صدر کے ساتھ نومبر میں جیتنے والے نہیں ہیں‘

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کیلئے سب سے زیادہ چندہ جمع کرنے والے جارج کلونی نے امریکی صدر جو بائیڈن سے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبہ سے چند گھنٹے قبل سینئر ڈیموکریٹ نینسی پیلوسی نے بھی ایک سوال کیا تھا کہ آیا انہیں یہ دوڑ جاری رکھنی چاہیے یا نہیں۔

افغانستان: اخلاقی پولیس شہریوں پر جبراً طالبان قوانین نافذ کرے گی

منگل کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی اخلاقی پولیس افغانستان میں مذہبی قانون کے نفاذ میں بڑھتا ہوا کردار ادا کرے گی۔ رپورٹ میں اخلاقی پولیس کے ذریعے طالبان پر خوف کی فضا پیدا کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

غزہ، نسل کشی اور احتجاج سے عاری اے آئی آرٹ

مزید برآں، یہ استھیٹک تصاویر زیادہ تر اس لئے پسند کی جاتی ہیں کیونکہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سنسرشپ کے الزامات سے آسانی سے بچ جاتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ اور بھی خطرناک مسئلہ بن جاتا ہے کیونکہ خود تصاویر سنسرشپ کا مجسمہ ہوتی ہیں۔
اے آئی سے تیار کردہ آرٹ کی منافقت بھی ناقابل تردید ہے کیونکہ یہ کسی کو بھی ایسی چیز تیار کرنے سے روکتی ہے جو ایک مخصوص معیار پر پورا نہیں اترتی جس کا مطلب ایک ضمنی کاروباری مقصد ہوتا ہے۔
نسل کشی کے دوران آرٹ کو استھیٹک بنا کر، اس کو تجارتی بنا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی انتہا ہے اور جب عالمی برادری فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑی ہونے کی کوشش کرتی ہے، تو انہیں چاہیے کہ اپنے متعلقہ احتجاج کے ہر چھوٹے سے چھوٹے علامت کو احتیاط سے شامل کریں۔

فرانسیسی انتخابات: انتہائی دائیں بازو کے خلاف فتح اور گہرا سیاسی بحران

اس خدشہ کا بڑے پیمانے پر اظہار کیا جا رہا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی میری لی پین کی قیادت میں رواں ہفتے حکومت تشکیل دے گی۔ تاہم وہ 143ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر آئے ہیں۔ بائیں بازو کا انتخابی اتحاد ’نیو پاپولر فرنٹ182ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر آیا ہے۔ صدر میکرون کے گروپ کے168ممبران پارلیمنٹ کامیاب ہوئے ہیں۔ پارلیمانی اکثریت کیلئے289ممبران پارلیمنٹ درکار ہیں۔ یوں کوئی بھی اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔