مزید پڑھیں...

ادریس خٹک کو فوجی عدالت سے 14سال قید، جاسوسی کا الزام

اسد طور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادریس خٹک کے خلاف یہ ٹرائل سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کو جب گرفتار کیا گیا تھا، تب سپریم کورٹ میں پہلی سماعت کے دوران فوجی نمائندگان کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان سے ایٹمی راز برآمد ہوئے ہیں، انکا فیلڈ کورٹ مارشل کیا جائیگا۔

یہاں نہ شعر سناؤ، یہاں نہ شعر کہو: معین احسن جذبی کی ایک نظم

نتیجہ یہ ہے کہ اخلاقی اور انسانی قدروں کی قدرو منزلت کے بجائے معاشرے میں انتہا پسندی فروغ پارہی ہے اور بھائی چارے کی جگہ ہر چیز کو تنگ نظری کی عینک سے دیکھا جارہاہے۔ شعر وادب کے گرتے ہوئے معیار پر جذبی کا تبصرہ آج بھی اسی طرح درست نظرآتا ہے جس طرح ستر سال پہلے تھا:

یہاں نہ شعر سناؤ، یہاں نہ شعر کہو
خزاں پرستوں میں گلہائے تر کی قیمت کیا

گوادر دھرنے کے 18 دن: ’مولانا ہدایت اللہ کی قیادت کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے‘

جہاں تک بات مستقبل کی ہے تو اگر کچھ مطالبات منظور ہوجاتے ہیں تو پھر مولانا ہدایت الرحمان کی صورت میں ایک ایسا چہرہ مل جائے گا جو عوامی حمایت کے ساتھ نہ بھی منتخب ہو تب بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا اور وہ بلوچ قوم پرستوں کی نسبت زیادہ پسندیدہ بھی ہوگا۔ اس علاقے کا جو سیکولر چہرہ تھا وہ بھی فرقہ واریت اور مذہبی منافرتوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ ایک لمبے عرصے سے جو اس علاقے میں فرقہ وارانہ بنیادیں رکھنے کی کوشش مذہبی بنیادوں پر کی جا رہی تھی وہ اب عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے کی جانیوالی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آسانی سے رکھی جا سکیں گی۔

طالبان خان: موسیقی حرام ہے

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے موسیقی کی وجہ سے حال ہی میں ایک تقریب چھوڑ کر جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

جنرل مشرف کو رخصت کرانے والا ’مہمان‘ رخصت ہوا

عارف شاہ پروہنا ایوب آمریت کے خلاف چلنے والی عوامی انقلابی تحریک میں سوشلسٹ خیالات سے متاثر ہوئے۔فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے مگر فوج چھوڑ کر ایوب آمریت کے خلاف تحریک میں شامل ہو گئے۔ہمیں اکثر ایک واقعہ سناتے تھے:”میں جب جلسوں میں جانے لگا تو میرے سی او نے مجھے کہا کہ فوجی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ میں نے جواب دیا سر جرنل صاب بھی تو لے رہے ہیں“۔

منظور پشتین، محسن داوڑ کی جائیداد ہی کوئی نہیں جسے ضبط کر سکیں: پراسیکیوٹر سندھ کی عدالت کو اطلاع

بدھ یکم دسمبر کو کراچی جیل کے اندر چلنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں کراچی میں منعقدہ پی ٹی ایم کے جلسہ کے منتظمین اور قائدین کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت کی گئی۔

سندھ یونیورسٹی سے ترقی پسند طلبہ کو نکالنے کی کارروائی شروع، مزاحمت کا اعلان

”ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز کے مشاہدہ میں آیا ہے کہ آپ اعلیٰ حکام کی پیشگی اجازت کے بغیر جامعہ میں طلبہ یونین کی بنیادیں رکھنے میں ملوث ہیں۔ آپ کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی میٹنگ میں رکھا گیا ہے لہٰذا آپ کو اپنے والد یا سرپرست کے ہمراہ منگل 30 نومبر کو صبح 10 بجے ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنس کے دفتر میں حاضر ہونے کی ہدایت دی جاتی ہے۔“

علی وزیر کی استقامت نے سب کو مات دے دی!

علی وزیر کی اس استقامت نے عالمی سطح پر محنت کشوں کی تنظیموں، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اس کی حمایت پر مجبور کیا۔ دنیا بھر میں علی وزیر کی رہائی کیلئے احتجاج منظم ہوئے، پشتون تحفظ موومنٹ نے بھی وقفے وقفے سے علی وزیر کی رہائی کے لئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملک بھر میں ترقی پسند تحریک کی جانب سے علی وزیر کی رہائی کیلئے مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ سب سے بڑھ کر علی وزیر نے ہر ظلم اور جبر کے سامنے اپنی ناساز طبیعت کے باوجود جھکنے سے انکار کیا۔ ہر عدالتی پیشی اور ہر ملاقات پر علی وزیر کے چہرے پھر پھیلی مسکراہٹوں اور جواں مرد حوصلے نے بھی بتدریج طاقت کے مراکز کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق جیسے حکمران طبقات کے نمائندوں نے بھی علی وزیر کی رہائی کے مطالبات کئے۔