مزید پڑھیں...

ہارون رشید کا پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان پر ’سچ کُش‘ حملہ

پروفیسر ہود بھائی اور ڈاکٹر عمار علی جان ملک کی دو مقبول شخصیات ہیں۔ وہ اس معاشرے کا ضمیر ہیں۔ ہارون رشید جیسے لوگ بھلے ہی طاقتور ترین لوگوں کے پروردہ ہوں، سچ سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ طاقت، سرمایہ، ظالمانہ قانون، جبر…کچھ بھی سچ کو شکست نہیں دے سکتا۔

پانچ جولائی: پاکستان میں فوجی آمریت کے جمہوری ہیروز کی یاد میں کچھ بھی نہیں

فلپائن میں کیوزون سٹی میں 2000ء میں ایک میوزیم بنایا گیا۔ جس کا نام ہے ’ہیروز کی یادگار‘۔ یہ میوزیم بھی ہے اور ریسرچ سنٹر بھی۔ یہ میوزیم ان ہیروز کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے فرنینڈ مارکوس کی 21 سالہ آمریت کے خلاف جدوجہد اور قربانیاں دیں۔ فرنینڈ مارکوس نے 1965ء سے 1986ء تک فلپائن پر فوجی آمریت کے ذریعے حکومت کی تھی۔

5 جولائی کا شب خون: ”ضیا کو مار دو!“

’جدوجہد‘کا پہلا سر ورق، کامریڈ لال خان کی تحریریں اور ان کے آخری الفاظ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ 5 جولائی1977ء کا انتقام صرف سوشلسٹ انقلاب ہے جس سے ضیا الحق کی باقیات کو حتمی شکست دی جا سکتی ہے۔

مہنگائی، بیروزگاری اور صحت و تعلیم کی ناکافی سہولیات کے خلاف آج ملک گیر مظاہرے ہوں گے

حالیہ کرونا بحران نے سرمایہ داراوں اور آئی ایم ایف کی نمائندہ پاکستانی حکومت کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر وحشیانہ انداز میں مزدور دشمن پالیسیوں کو ملک میں لاگو کر رہی ہے۔ اس میں سٹیل ملز، ریلوے، پاکستان ٹورزم کارپوریشن اور پی آئی اے سمیت تمام عوامی اداروں سے بڑ ے پیمانے پر جبری بر طرفیوں کے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔