مزید پڑھیں...

عوامی ورکرز پارٹی کے صدر یوسف مستی خان وفات پا گئے

1975ء میں انہوں نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن کے طور پر شمولیت اختیار کی، بعد ازاں پارٹی صدر بھی منتخب ہوئے۔ یوسف مستی خان نے ضیا آمریت کے خلاف 6 فروری 1981ء کو تشکیل دی گئی تحریک برائے بحالی جمہوریت کے نام سے کثیر الجماعتی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں پاکستانی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اورپی این پی کراچی کے صدر بن گئے۔

یوکرین جنگ میں حصہ نہیں لیں گے: 2 لاکھ روسی ملک سے فرار

’وہ لوگ جو حکومت کے خلاف ہیں، جو جنگ میں جانے کیلئے تیار نہیں، میرا مطلب ہے وہ لڑنے کیلئے تیار ہیں اگر سچائی کی جنگ ہو، منصفانہ جنگ ہو۔ جب آپ اپنے گھر کا دفاع کر رہے ہوں تو یہ مناسب ہے کہ آپ جائیں اور آپ ڈرتے نہیں ہیں۔ تاہم جب آپ احمقانہ جنگ میں لڑنے جاتے ہیں، اپنے بھائی کو مارنے کیلئے، تو یہ ایک ایسی جنگ ہے، جس میں کوئی چیز نہیں ہے اور اسی وجہ سے لوگ جا رہے ہیں۔“

ایران: آمریت کی حمایت 12 فیصد تک محدود

ابتدائی نعرے، جو عام طور پر اخلاقی پولیس کے خلاف لگائے جا رہے تھے، بڑے پیمانے پر سیاسی نعروں سے بہت تیزی سے تقویت پا گئے، جیسے کہ ”آمر مردہ باد“، ”اسلامی جمہوریہ مردہ باد“، ”کوئی شاہ نہیں، کوئی سپریم گائیڈ نہیں“، ”عورت زندگی، آزادی“، یا ”روٹی، کام، آزادی“۔ اس تحریک کو شروع سے ہی بہت زیادہ سیاسی بنایا گیا تھا اور اب یہ خالصتاً احتجاجی تحریک نہیں رہی۔

ایک نغمہ جو ہم سب پر قرض ہے!

اپنے اس پیغام کو’انسانیت کا پرانا نغمہ‘ قرار دیتے ہوئے وہ کہہ رہی ہیں کہ غربت، ماحولیاتی آلودگی اور طبقاتی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔

’انقلاب ایران کے بعد اتنی بڑی بغاوت پھوٹی ہے‘

”اگر ہم ایران میں اس بنیاد پرست تھیوکریٹک حکومت کا تختہ الٹ دیں تو پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ یہ پورے خطے کو بدل دے گا اور بہتری کی امید پیدا ہو گی، لہٰذا ایرانیوں کی جدوجہد آزادی کو ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے کے تحت دیکھیں۔ ہمارے خطے کی خواتین نے ترکی، لبنان، سوڈان، عراق وغیرہ میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے ملکوں کی حقوق نسواں تحریک کیلئے ضروری ہے کہ ایران کی خواتین اپنی جدوجہد میں کامیاب ہوں۔ لہٰذا سب تحریک میں شامل ہوں“۔

کورونا بحالی فنڈز کا 40 فیصد بڑی کارپوریشنوں کے حصے میں آیا

تبادل پالیسیوں میں فنڈ فال کارپوریٹ منافع پر ٹیکس لگانا، آمدنی اور دولت کے ٹیکس کی ترقی پسند سطحوں کو متعارف کروانا، تمام شعبوں کیلئے عوام کیلئے فائدہ مند ملکیت کی رجسٹریوں کو نافذ کر کے غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو ختم کرنا، سماجی تحفظ کے تعاون اور کوریج میں اضافہ اور منی لانڈرنگ اور ٹیکس کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔

حقوق خلق پارٹی کا ’ماحولیاتی انصاف مارچ‘ کل ہو گا

’’ہم یہ مطالبہ کرنے آ رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کے قرض کو فوری طور پر معطل کریں۔ خاص طور پر جو پاکستان کو مغرب کی وجہ سے نقصان ہوا وہ پورا کریں اور پاکستان کے لوگوں کو ایک باعزت، محفوظ زندگی بسر کرنے کا موقع دیں“۔

چے گویرا بطور وزیر سائنس

چے کے نزدیک سوشلزم شعور اور تکنیک پر مبنی مظہر کا نام ہے۔ چے کا خیال تھا جدید ٹیکنالوجی بشمول الیکٹرانکس، آٹو میشن اور کمپیوٹنگ کی مدد سے پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد تکنیکی تخلیق اور انتظامی کنٹرول ہوں گے۔ پیداوار میں اضافے کے لئے مزدوروں سے یہ اپیل نہیں کی جائے گی کہ یہ ان کے اپنے مفاد میں ہے، نہ ان کو کوئی فائدوں کا لالچ دے کر پیداوار بڑھائی جائے گی، نہ ہی ان کے استحصال میں اضافہ کر کے پیداوار بڑھائی جائے گی۔ چے کا خیال تھا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال سے کیوبا ترقی کے مدارج اس طرح طے کرے گا کہ اسے بعض مدارج چھلانگ لگا کر گزرنا ہوں گے۔

’کیوبا میں محبت قانون بن گئی‘

کیوبا نے ریفرنڈم میں ہم جنس شادی کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ کیوبا نے ایک وسیع پیمانے پر ’خاندانی قانون‘ کی منظوری دی ہے، جو ہم جنس پرست جوڑوں کو شادی کرنے اوربچے گود لینے کی اجازت دے گا، اس اقدام سے بچوں اور دادا، دادی کے حقوق کی بھی وضاحت ہو گی۔

استاد نے دلت طالبعلم کو املا کی غلطی پر قتل کر دیا

بھارت میں پولیس ایک ایسے استاد کی تلاش کر رہی ہے، جس پر املا کی غلطی کرنے پر ایک دلت (نچلی ذات) طالب علم کو مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینے کا الزام ہے۔ طالبعلم کی موت کے بعد بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔