پاکستان

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


آکسفورڈ یونیورسٹی میں یونین اچھی بات: پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی

’تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ پاکستان کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے لیکن پاکستان میں طالب علم طلبہ یونین کے حق سے محروم ہیں۔ ہماری حکومتیں اس حق سے پاکستانی نوجوانوں کو محروم رکھنا چاہتی ہیں۔‘

حکمران طبقے اور افسر شاہی کی مراعات کیسے ختم ہونگی؟

آج محنت کش مٹھی بھر سرمایہ داروں کی دولت میں اضافے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ یہی محنت کش سرمایہ داروں کے بغیر اپنے لیے بھی سماج کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لینن نے کہا تھا ”ہر قیمت پر ہمیں ان پرانے، نامعقول، وحشی اور گھٹیا تعصبات کو نیست و نابود کرنا ہے کہ صرف نام نہاد اشرافیہ، امیر طبقے یا امیروں کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ہی ریاست کو چلا سکتے ہیں۔“

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (تیسرا حصہ)

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں دولت کی ریل پیل اور سٹے بازی کا آغاز تب ہوا، جب راولپنڈی میں ایک پرائیویٹ ڈویلپر نے ڈی ایچ اے کی طرز پر ایک نئی بستی بسانے کا اعلان کیا۔ اس بستی کا نام اس ڈویلپر نے بری فوج کے پراجیکٹ ڈی ایچ اے کی طرح، پاکستان نیوی کی اجازت سے بحریہ ٹاؤن رکھا۔

راجہ پرویز اسد قیصر اشرف

تین دن قبل علی وزیر نے جب جناح ہسپتال میں بھوک ہڑتال کر دی تو زمین پر براجمان علی وزیر کی تصویر وائرل ہو گئی۔ یہ ممکن نہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف تک یہ تصویر نہ پہنچی ہو۔ وہ بہادر ٹرک ڈرائیور کی وائرل ویڈیو کا نوٹس لے سکتے ہیں تو جناح ہسپتال میں ہونے والی بھوک ہڑتال سے غفلت ممکن نہیں۔ اس کے باوجود کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ اتنا سا وعدہ بھی نہیں کیا گیا جتنا بلوچوں سے کیا گیا تھا: ”لا پتہ افراد بارے متعلقہ محکمے سے بات کروں گا“۔

جموں کشمیر: 2300 میگا واٹ سستی بجلی کے بدلے 400 میگا واٹ مہنگی بجلی بھی نہیں ملتی!

1990ء کی دہائی میں بے نظیر کی حکومت کے دوران مارگریٹ تھیچر کے فارمولہ کو استعمال کرتے ہوئے نیو لبرل اکونومی کو پاکستان میں رائج کرنے کے حوالہ سے عملی اقدامات کا آغاز کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔ اسی سلسلہ میں پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کا آغاز کیا گیا۔ اس نجکاری کو اس کے بعد آنے والی تمام نام نہاد جمہوری حکومتوں اور فوجی آمریتوں نے جاری رکھا۔

حقیقی آزادی کی جدوجہد

آج کل عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ میں مصروف عمل ہیں، لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ یہ جنگ کس کے خلاف لڑ رہے ہیں اور کس طبقے کی آزادی کی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مزدوروں، کسانوں، خواتین، مظلوم قوموں اور دیگر جبر کاشکار مظلوم عوام کی آزادی سے تو ان کو کوئی سروکار نہیں ہے، جس کی واضح مثال پونے 4 سال کے دور اقتدار میں تحریک انصاف کی حکومت کے عالمی مالیاتی اداروں، مقامی حکمران طبقے اور فوجی اشرافیہ کی خوشنودی کے لیے محنت کشوں، طلبہ اور مظلوم قومیتوں پر مسلسل ریاستی جبر اور معاشی حملے رہے ہیں، جن کو ملکی مفاد کے لیے لازمی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

پیٹرول کی مہنگائی کا مکمل علاج: قابل تجدید ماحول دوست توانائی

مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ صنعتی انقلاب کے بعد سے ماحولیاتی نظام کو انسانوں نے جو نقصان (موسمیاتی تبدیلی کی شکل میں) پہنچا یا ہے، اس کی تلا فی توانائی کے متبادل قابل تجدید وسائل کو فعال طور پر اپناکر ہی ممکن ہے۔ اس صورت حال میں حکام با لا کی جانب سے تاخیری ردعمل سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی جس سے زمین پر ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ آخر میں یہ بھی تسلیم کیا جانا چاہئے کہ بیشک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوا لے سے پاکستان نقصان دہ پوزیشن پر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطے کو توانائی کے قابل تجدید ذرائع جیسے شمسی، ہوا، ہائیڈل یا بایوماس پر منتقل کرنے کے لئے فائدہ مند پوزیشن پر بھی ہے۔

شہباز شریف سرکاری ملازمین کی آئی ایس آئی سے سکرینگ کا فیصلہ واپس لیں

آئی ایس آئی کی بہت تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بہت فعال ادارہ ہے۔ اس کے باوجود آئی ایس آئی کی اس حوالے سے کوئی تربیت موجود نہیں کہ وہ پاکستان کو خوش حال بنا دے اور عالمی سطح پر پاکستان کو ایک طاقتور ملک بنا دے۔ اس کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ زیادتی ہے۔ شہباز شریف اپنا فیصلہ واپس لیں۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت یہی ہے کہ یہاں ایک ایسی جمہوریت چلتی رہے جس میں فرشتے ووٹ نہ ڈالیں۔

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (پہلا حصہ)

شہریوں کی مناسب رہائش فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایک طرف ریاست نے اس کام سے ہاتھ کھینچ رکھا ہے، دوسری جانب سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر اس ملک کے عوام اور ماحولیات کا استحصال کریں۔