پاکستان

مصنف آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر اور معروف ماہر معیشت ہیں۔ وہ ’ایشیوز ان پاکستانز اکانومی‘ (Issues in Pakistan's Economy: A Political Economy Perspective)اور ’میکنگ اے مسلم‘ (Making a Muslim: Reading Publics and Contesting Identitiesin Ninteenth-Century India) کے مصنف ہیں۔


کیا آئی ایم ایف نجات دہندہ ہے؟

ستم ظریفی کی انتہا دیکھئے: ایک ادارہ جسے پوری دنیا درجنوں ممالک میں عوام دشمنی، ایلیٹ ازم، غربت میں اضافے، پس ماندگی اور مصائب کا ذمہ دار قرار دیتی ہے…اسے پاکستان کا واحد نجات دہندہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ اس ملک کے حکمران اسی معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں جو لگ بھگ ایک سال سے التوا کا شکار تھا۔

ملک گیر بلیک آؤٹ: منصوبہ بندی کیلئے منڈی کی معیشت کا خاتمہ ناگزیر

یہی حال پانی کی فراہمی، نکاس، تعلیم، علاج، ریلوے، شہری سڑکوں وغیرہ سمیت ایسے تمام شعبوں اور پبلک سروسز کا ہے، جن کی بنیادوں پر کوئی معاشرہ تعمیر پاتا ہے۔ نام نہاد ترقی پذیر ممالک، جو درحقیقت غربت اور پسماندگی کے گھن چکر میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور جہاں انسانیت کی وسیع اکثریت بستی ہے، میں صنعتکاری اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے درکار وسائل اور دستیاب وسائل کے درمیان بہت بڑی خلیج حائل ہے، جسے سرمایہ داری کے تحت عبور نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی جنگوں کی متبادل تاریخ

تبصرے کے آخر میں دو معروضات کرنا چاہوں گا۔ اؤل، طارق رحمن نے ایک گروہ یا اوپری ٹولے کے حوالے سے بحث کو بہت آگے نہیں بڑھایا۔ کیا جنگ کے فیصلے بہرحال اوپر بیٹھے ٹولے ہی نہیں کرتے؟ جہاں عوام کی حمایت درکار ہو، حکمران کامیابی سے جنگی جنون پیدا کر لیتے ہیں۔ امریکہ نے جس طرح عراق پر انتہائی بلاجواز حملے کے لئے امریکی عوام کی حمایت حاصل کی، اس سے سبق ملتا ہے کہ فیصلہ ٹولے ہی کرتے ہیں، چاہے یہ فیصلے خفیہ ہوں یا عوام کو بے وقوف بنا کر۔ اس بابت کتاب میں تھوڑی تشنگی رہ جاتی ہے۔ دوم، اس میں شک نہیں کہ 1971ء کے دوران بھٹو نے جرنیلوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا البتہ 1965ء کی جنگ میں ان پر، اس کتاب میں، ضرورت سے زیادہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے جس کا دستاویزی ثبوت بہت متاثر کن نہیں۔

پاکستان نیشنل آرٹس کونسل خط اقلیتوں سے متعلق ریاستی پالیسی کا عکاس

یہ تقریری مقابلہ ’جنت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی‘ کے عنوان پر منعقد کروایا جا رہا ہے۔ جموں کشمیر کو جنت ارضی قرار دیتے ہوئے ایک عرصہ سے بنیاد پرست اور عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ جموں کشمیر ایک جنت ہے اور بھارت کافروں کا ملک ہے، جسے جنت کسی صورت نہیں مل سکتی۔

سول ملٹری دراڑ کیوجہ سے 4 بار پاک بھارت امن ناکام ہوا

مقصد سرحد پار لوگوں کو خوش کرنا تھا کیونکہ اس میں مودی کی تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں۔ ادہر، جنرل باجوہ کے آئی ایس پی آر کی کوشش تھی کہ مودی کو ”گجرات کا قصاب“ بنا کر پیش کیا جائے۔ 2022ء میں بننے والی ویب سیریز ”سیوک: دی کنفیشنز“ ایک نجی ادارے نے بنائی۔ اسے آئی ایس پی آر کا تعاون بھی حاصل تھا۔ اس سیریز میں تاریخ اور سیاست کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اداکار ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہندتوا پر تنقید کی گئی ہے۔ یہ وہی باتیں ہیں جو عمران خان کی حکومت کیا کرتی تھی۔ ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس سیریز کو ریلیز کرانا چاہتے تھے۔

انسداد پولیو مہم کے نام پر پشتونوں کی سٹیرئیو ٹائپنگ

اس کے علاوہ پاکستان کے پولیو ایریڈیکشن پروگرام کے یوٹیوب چینل پر درجنوں ایسی ویڈیوز موجود ہیں، جن میں پشتون عوام کو پولیو مہم مخالف قراردیا گیا ہے۔ ’پہلا قدم‘ اور ’اڑان‘ کے نام سے دو شارٹ فلمیں بھی بنائی گئی ہیں، جن میں پشتون علاقوں میں لوگوں کی انسداد پولیو ویکسین کے خلاف مزاحمت اور پھر انہیں اس کی حمایت کرنے پر قائل کئے جانے کی کہانیاں بتائی گئی ہیں۔ پولیو سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کے کردار بھی پشتون ہی دکھائے گئے ہیں۔

لالہ لطیف آفریدی کا قتل: جدوجہد کا استعارہ ایک مبینہ سازش کا شکار

عبداللطیف آفریدی پورے پاکستان میں لالہ لطیف کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ کمیونسٹ رہنما، انسانی حقوق کے علمبردار اور آمریت دشمن کے طور پر اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ انہیں بعد ازاں پشتون قوم پرست رہنما کے طور پر پہچان ملی اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ایسے پہلے پشتون قوم پرست سیاستدان بھی قرار دیا گیا، جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی اور خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف درج تقریباً تمام ہی مقدمات کی پیروی بھی کرتے رہے۔

قرضے واپس دینے سے انکار کرو! ملک کے اندر موجود دولت استعمال کرو

ہونا یہ چاہئے کہ قرضے دینے سے انکار کیا جائے۔ اگر انکار نہیں کر سکتے تو کم از کم پانچ سال کے لئے عالمی قرضوں کی ادائیگی موخر کر دی جائے۔ کئی ممالک ایسا کر چکے ہیں۔ ان صفحات پر ہم بارہا ایسے ممالک، بالخصوص ایکواڈور، کی مثال دے چکے ہیں۔ اب جبکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے پاکستان کے لئے دنیا بھر میں ایک ہمدردی موجود ہے، قرضے دینے سے انکار اخلاقی لحاظ سے بھی درست موقف ہے۔ عالمی حالات سے ناواقف اور سیاسی لحاظ سے بزدل حکومت میں نہ دانش ہے نہ حوصلہ کہ ایسا کرنے کا اعلان کرے۔

تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے عام انتخابات کی توقع

اس ساری حکمت عملی کا واحد مقصد یہی نظر آرہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ ایک عدم استحکام کا سلسلہ قائم رہے۔ ن لیگ اور اتحادیوں کے اقتدار کیلئے ایک غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہے۔ بیرونی امداد، قرضے اور فنڈز دینے والے بھی پاکستان کے حالات سے گھبرا ئیں کہ یہاں بہت زیادہ عدم استحکام ہے۔ اس سب سے پی ڈی ایم اتحاد اور بالخصوص نواز لیگ کو دوبارہ مقبولیت حاصل کرنے کے امکانات محدود ہوتے جائیں گے۔ فی الحال اس حکمت عملی میں عمران خان اور تحریک انصاف کسی حد تک کامیاب بھی ہیں۔