پاکستان

عثمان خان پیر مہرعلی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی روالپنڈی میں پڑھتے ہیں۔ وہ طلبہ سیاست میں بھی متحرک ہیں۔


پاکستان: ہیرسمنٹ طالبان کی لپیٹ میں

صرف عائشہ نہیں دنیا کی کوئی بھی لڑکی یا خاتون کبھی بھی اپنے فالورز کو بڑھانے کے لیے اپنی جان اور عزت داؤ پر نہیں لگائے گی۔ ذرا ہوش سے کام لیں یہ سب صرف عائشہ کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہر روز خواتین کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ پانچ سال کے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اپنے اساتذہ سے اور اپنے قاری صاحبان سے ان کو خطرہ ہے۔ اس لئے خدارا اس کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھیں۔ کل آپ کے پیاروں کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ اپنی خاموشی اور ”وکٹم بلیمنگ“ سے ان درندوں کو تقویت مت دیں۔ ان کا حوصلہ نہ بڑھائیں۔

ن لیگ، پی پی پی ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں، اپوزیشن نہیں

پاکستان کے ترقی پسند ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں شہری ووٹ ڈالنے تک جمہوریت کا حصہ نہ ہوں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ووٹ گنے بھی عوام کی نگرانی میں جائیں اور جمہوری برابری معاشی برابری میں تبدیل ہو۔

جموں کشمیر انتخابات: 18 امیدواروں کا تعلق قوم پرست، ترقی پسند جماعتوں سے ہے

انقلابی جدوجہد میں شامل ہر منظم تنظیم اور قیادت کو ان فیصلہ کن لمحات کی تیاری کے تسلسل کے طور پر پارلیمانی شعبے کو بھی استوار کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمل کبھی بھی سیدھی لکیر میں یا آئیڈیل حالات کے تحت استوار نہیں کیا جا سکتا بلکہ کٹھن اور دشوار حالات اور سخت پابندیوں سے راستے نکالتے ہوئے پارلیمانی شعبے کو منظم اور مضبوط کیا جاتا ہے۔ اسی دوران غیر معمولی واقعات اور حادثات کی صورت میں انقلابی قیادتیں سرمایہ دارانہ پارلیمان کا حصہ بھی بنتی ہیں اور اس پارلیمان کو بے نقاب کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو حقیقی متبادل کیلئے نہ صرف تیار کرتی ہیں بلکہ اس منزل کے حصول میں اپنے طبقے کی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیتی ہیں۔

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے: علی وزیر

آج تک ملک میں محکوم قومیں، طلبہ، مزدور اور کِسان، خواتین، اور زیر عتاب مذاہب کے لوگ اپنے حقوق اور امن کے لئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ نہ تعلیم وعلاج،نہ روزگار اورنہ رہائش کا حق،اورنہ صنعت سازی۔جنگ اور شورش زدہ زدوہ علاقوں کے غربت زدہ محنت کش کے جوان گلف میں غلامی پر مجبور ہیں۔

بحریہ ٹاؤن ہی ’منی اسرائیل‘ نہیں، ہر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ملک ریاض ہے

وجودہ حکومت نے تعمیراتی شعبہ کو جو ٹیکس ایمنسٹی دی ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز بالخصوص بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے پہلے ہی بحریہ ٹاون کے صارفین سے اربوں کھربوں روپے ماہانہ کی بنیادپر لوٹ رہے ہیں۔